سید کفایت نقوی /بارش

پیپلز پارٹی کی مرکزی اور مقامی قیادت کا فرضی مکالمہ

بلاول بھٹو: السلام علیکم انکلز۔ ۔ ۔ کیسے ہیں آپ؟شوکت جاوید میر: قائد میری چھوٹی عمر میں شادی ہوئی اس وجہ سے انکل دکھتا ہوں۔ ۔ ۔ قائم علی شاہ صاحب سے ڈیڑھ سو سال چھوٹا ہوں میں۔
بلاول بھٹو: میر صاحب آپ سے پرجوش سلام کیا ہے جلسے میں۔ ۔ ۔ ابھی میں ان انکلز سے مخاطب ہوں جو آزاد کشمیر میں پارٹی سنبھالے ہوئے ہیں۔

چوہدری لطیف اکبر: بلاول صاحب یہی مسلہ ہے یہاں، سب لیڈر بنے ہوئے ہیں، میرے جیسے عظیم قائد کے ہوتے ہوئے بھی یہاں ہر کسی نے اپنی مسجد بنا رکھی ہے۔
چوہدری یاسین: بلاول صاحب ایسی بات نہیں ہے، میں پارٹی کا پارلیمانی اور اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر ہوں۔۔ میری قیادت میں مجاز شاہ، وانی صاحب راجہ سعد و دیگر متحد ہیں
سردار یعقوب: مجھے بھی عارف مغل صاحب کا پورا اعتماد حاصل ہے، راولاکوٹ کے غیور عوام میرے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں

چوہدری مجید: میرا کوئی گروپ نہیں ہے، لیکن الحمداللہ نیک نیتی کے باعث تمام اضلاع میں میرے خیر خواہوں کی تعداد ان سب سے زیادہ ہے۔
چوہدری لطیف اکبر: سر اس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے پارٹی کے اندر ہی میرے خلاف عالمی سطح کی سازش کی گئی، لیکن رزلٹ دیکھ لیں مبارک حیدر کی قیادت میں حلقہ 3 کے وہ عوام جو
کشمیر کاز کیلے بھی نہیں نکلے تھے بلاول صاحب کے استقبال کیلے جوک در جوک جلسہ میں شامل ہوئے۔

سید مجاز شاہ: بیلہ نور شاہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ جلسے میں شرکت کیلئے نکلے۔ پُل کمزور ہونے کی وجہ سے ہم نے سب لوگوں کو پار نہیں کرایا
سید بازل نقوی: واہ بھئی واہ، ہمیشہ میرے حلقے کے عوام بڑی تعداد میں جلسہ گاہ پہنچتے ہیں، اور میرا نام ہی نہیں-

چوہدری محمد رشید: میرے حلقہ میں گولہ باری نہ ہوتی تو جہلم ویلی روڈ پر فضل الرحمان کے قافلے سے بڑا قافلہ نظر آتا سب کو۔
سردارجاوید ایوب: میری اور میری زوجہ کی مشترکہ کاوش تو کبھی کسی کو نظر ہی نہیں آئے گی، ہمارے حلقے کے عوام نے دھند کے باوجود اندھا دھند جلسے میں شرکت کی۔

میاں عبدالوحید: برفباری کے باعث میرے کارکن 3 ،3 فٹ برف میں پھنس گئے، انکے برف سے نکالنے کا انتظار کرتا تو میں بھی جلسہ گاہ نہ پہنچ سکتا
فیصل راٹھور: کاش فریال بی بی آزاد ہوتی، انکے علاوہ جماعت کیلئے میری قربانیاں کسی کو نظر ہی نہیں آتیں۔

شیخ اظہر: فیصل بھائی میں نے اپنی فیس بک سمیت تمام پوسٹرز میں آپکی تصویر لگائی-
فیصل راٹھور: بلکل شیخ صاحب نے تو اپر اڈہ میں جلسہ کا استقبالی کیمپ بھی لگایا

چوہدری محمد یاسین: میں نے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر لگایا اور میرا پوسٹروں میں ذکر ہی نہیں؟؟؟
راجہ سعد اقبال: سر یہاں لگانے والے نہیں اکھاڑنے والوں کی قدر ہوتی ہے، مبارک حیدر شیخ اظہر نہ بھی ہوئے تو کیا اسد حبیب صاحب، مجاز شاہ صاحب، وانی صاحب جیسے سینئر لوگ آپ کیساتھ ہیں۔

نیئر بخاری: بلاول صاحب میرے نزدیک بازل نقوی کا جلسہ سب سے بڑا تھا۔
نفیسہ شاہ: بالکل بازل کی فین فالونگ ان سب سے زیادہ ہے۔

شیری رحمان: خدارا برادری ازم کو پس پشت ڈال کر بلاول کو اصل حقائق سے آگاہ کریں، آپ کو بھی آزاد کشمیر میں آ کر یہاں کے برادری ازم کی بیماری ہو گئی۔
چوہدری لطیف اکبر: بلاول صاحب آپ بھی کچھ بولیں، اتنی شاندار تقریر کے بعد آپ تو ایسے چپ ہوئے ہیں جیسے مرغی انڈہ دے کر شور کرنے کے بعد خاموش ہو جاتی ہے۔

چوہدری یاسین: ویسے کمال کی تقریر کی آپ نے سر،عمران نیازی کے تینوں طبق روشن ہو گئے ہوں گے۔
سردار محمد یعقوب: سر میں نے آپ کی طرح ایک بار زور لگا کہ تقریر کی میرے اندر کا سارا رعشہ اٹھ گیا، بہت مشکل ہے آپکو کاپی کرنا۔

چوہدری یاسین: آپ جاوید صاحب سے رابطہ کریں ان کے پاس لندن کی چھوٹی مکھی کا بہترین شہد موجود ہو گا،دو گھونٹ سے ہی یک دم آرام آ جائے گا۔
شوکت میر: پیپلز پارٹی سیکرٹری اطلاعات جاوید ایوب صاحب کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

سردار جاوید ایوب: میر صاحب میں کہاں کا سیکرٹری اطلاعات، پارٹی کے فلسفے کو تو آپ اجاگر کرتے ہیں، ہر روز 3 کالم خبر، میری خبر تو دو کالم لگوانے کیلئے بھی دو بار فون کرنا پڑتا ہے۔
شیری رحمان: بلاول کا ایکسنٹ انٹرنیشنل ہے، گورے ان کی ساونڈ کی فریکوینسی سے سمجھ جاتے ہیں کیا کہہ رہے ہیں۔
نیئر بخاری: وہی وہی۔ ۔ ۔ بالکل ٹھیک فرمایا آپ نے، بازل کو بھی میں ٹپس دیتا ہوں کشمیر کا بلاول بناوں گا اسے۔

بازل نقوی: میں خورشید صاحب کو بہت مس کر رہا ہوں، نیئر شاہ جی اور خورشید شاہ کی کشمیر کیلئے قربانیوں کو مورخ سنہری حروف سے تحریر کرے گا۔
فیصل راٹھور: میڈم فریال کی بھی بڑی جدوجہد ہے کشمیریوں کیلئے، مورخ کہیں ڈیڑھ لیٹر کی بوتل کو سیاہی والی دوات کے طور پر استعمال کرے۔

بلاول بھٹو: اگر آپ سب کی تقریر ختم ہو گئی ہو تو مجھے بھی کچھ کہنا ہے ہیلی کاپٹر میرا انتظار کر رہا ہے مجھے واپس بھی جانا ہے۔
چوہدری لطیف اکبر: بالکل بعد میں موسم خراب ہو سکتا ہے ہمارے قائد کو سفر میں مشکلات درپیش آئیں گی۔

چوہدری محمد یاسین: بالکل خراب موسم میں ہیلی کاپٹر کا سفر بہت رسکی ہے۔
سردار یعقوب: ظاہر ہے اردو والی شبنم سے زیادہ خطرناک پہاڑی والا کورا ہوتا ہے، کورے سے آسمان سلپری ہو جائے گا ہیلی کاپٹر پھسل سکتا ہے۔
بلاول بھٹو: انکلز انکلز انکلز۔ ۔ ۔۔ میں بہت مایوس ہوا آپ سب کی اس روایتی گفتگو سے، مجھ جیسے انٹرنیشنل لیڈر جس سے سی پیک والے بھی مشورہ لینے آتے ہیں آپ لوگ اتنی چھوٹی باتیں کر رہے ہیں۔

شیری رحمان: بلاول کی تقریر اکثر میں لکھتی ہوں اور آپ چیک کریں آج کی تقریر بھی کتنی متوازن تھی۔
بلاول بھٹو: آنٹی ویری سوری ٹو سے۔ ۔ ۔ مجھے پتہ ہوتا کہ آج میں نے یہ تقریرکرنی ہے تومیں آپکی تقریر ہرگز نہ کرتا۔ ۔ ۔تقریر کر نے کے بعد مجھے سمجھ آئی جیسے میں سندھ میں تقریر کر رہا ہوں کشمیر کا نام ہی نہیں۔

چوہدری مجید: سر آپ شوکت میر سے تقریر لکھاتے بہت فٹ باتیں لکھتا ہے، ہمیں جو پتہ بھی نہیں ہوتی وہ اسے پتہ ہوتی ہیں۔
بلاول بھٹو: لوکل انکلز ۔ ۔ ۔ میں آپ لوگوں سے اور آپ کی کشمیری قوم سے بھی بہت مایوس ہوا۔

چوہدری لطیف اکبر: اتنا بڑا جلسہ عمران نیازی کا کرایا ہوتا تو وہ مجھے نیپال کا صدر بنوا دیتا آپ ہیں کہ خوش ہی نہیں ہوتے۔
بلاول بھٹو : انکل کوئی شک نہیں لوگ بہت تھے لیکن میری نظر میں یہ سب لوگ بیوقوف اقتدار کے پجاری اور مطلب پرست ہیں، جو تحریک آزادی سے متعلق ریلیز اور جلسوں میں تو گھروں سے نکلتے نہیں اور وفاقی جماعتوں کے لیڈرز کی آمد پر چیونٹیوں کی طرح بلوں سے باہر آ جاتے ہیں کہ کل کو یہ پارٹی اقتدار میں آ کر ہمیں سیاسی مفاد پہنچائے گی۔

شیری رحمان: میں نے اسی لیے اپنے قیمتی الفاظ اس بہری قوم کیلئے ضائع نہیں کیئے سر
بلاول بھٹو: لطیف انکل tell me جب مودی نے 5 اگست کو آئینی اعتبار سے کشمیر پر دوبارہ قبضہ کیا تو آپ کیوں گھر سے باہر نہیں نکلے، جیالوں کو کیوں متحرک نہیں کیا اور کیوں تحریک آزادی کی سیاسی جدوجہد میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔

چوہدری لطیف اکبر: سر میں نکلا تھا اخبارات میں میرے بیانات چیک کریں، کانفرنسوں میں شرکت ،تقریریں، ریلی بھی نکالی آپ نے عید یہاں گزاری آپ کےسامنے تھا سب۔
بلاول بھٹو: انکل اگین سوری ٹو سے۔ ۔ ۔ ۔ آپ کے نام نہاد نظریاتی لوگ پاکستان اور پاکستانی قیادت کو گالیاں دیتے ہیں کہ ہم کشمیر میں آ کر ڈرامے بازیاں کرتے ہیں، نام نہاد یکجتی کے جلسے کرتے ہیں، مجھے بتائیں آپ کے لوگ آپکی قیادتیں کیا کرتی ہیں؟؟؟ ہم لوگ آتے ہیں تو یہ لوگوں کو باہر نکالتے ہیں نیشنل انٹرنیشنل میڈیا کوریج کیلئے آتا ہے، آپکی حکمران جماعت آپ کے ریاستی لیڈر کو جرآت نہیں ہوئی کے بھارت کیخلاف احتجاج کیلئے اپنی عوام کو سڑکوں پر لائے-

نیئر بخاری: سر سندھ سے لیکر بلوچستان اور پھر اسلام آباد تک ہر جگہ پر لوگ باہر نکلے اور آزاد کشمیر میں صرف ایک ضلع مظفرآباد متحرک ہوا کیا باقی اضلاع کے لوگوں کا کشمیر نہیں؟؟؟اقتدار کی خاطر اگر کوئی پنڈی وال سے کشمیری نژاد بن سکتا ہے تو کشمیر کی خاطر سیاسی مخالفت کیوں ترک نہیں کر سکتا۔
بلاول بھٹو: خیر آپ لوگ جانیں آپ کی ریاست جانے، ہم اپنے آباو اجداد کی لیگیسی پر چلتے ہوئے کشمیر کی سپورٹ جاری رکھیں گے۔

نفیسہ شاہ: سر انہیں ایک اور بات بھی کہیں، یوم تاسیس پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پر چار گروپوں میں تقسیم کی ہوئی پارٹی کے جلسے کا کریڈٹ خود لینے کی بجائے اصلاح احوال کریں، پہلے پارٹی متحد کریں پھر لوگوں کو یکجہتی کا درس دیں۔
بلاول بھٹو: کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے آنٹی۔ ۔ ۔ یہ سب عمر اور تجربے میں مجھ سے بڑے ہیں انہیں خود سوچنا چاہیئے۔ ۔ ۔۔اللہ حافظ.

اپنا تبصرہ بھیجیں