چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے مشاورت شروع

اسلام آباد(نیوزڈیسک) چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سے متعلق مشاورت کا آغاز ہو چکا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اسد قیصر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ بات چیت کے ذریعہ جلد معاملہ حل کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ارکان کی تقرری کے معاملے پر ڈیڈ لاک جلد ختم ہو جائے گا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے تجویز کردہ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیے ہیں۔

صادق سنجرانی نے کہا پارلیمانی کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ تجویز کردہ ناموں پر مشاورت کر کے آگاہ کریں۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کا باضابطہ اجلاس منگل کی صبح 10 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے۔

اجلاس وفاقی وزیر شیریں مزاری کی زیر صدارت ہوگا جس میں سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کے لیے نامزدگیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے 8 اراکین کا تعلق قومی اسمبلی جبکہ چار کا تعلق سینٹ سے ہے، کمیٹی میں حکومتی و اپوزیشن اراکین کی تعداد برابر ہے۔اطلاعات ہیں کہ کمیٹی کے سرکاری اراکین میں شیریں مزاری کے ساتھ وزیر مملکت علی محمد خان، فخر امام، محمد میاں سومرو شامل ہیں، سینیٹر اعظم سواتی اور سینیٹر نصیب اللہ بازئی بھی پارلیمانی کمیٹی میں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے مرتضیٰ جاوید عباسی، ڈاکٹر نثار چیمہ اور سینیٹر مشاہد اللہ خان کمیٹی کا حصہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن خورشید شاہ اور ڈاکٹر سکندر مندھرو جب کہ جے یو آئی کی جانب سے شاہدہ اخترعلی کمیٹی کی رکن ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کے نام لکھے گئے خط میں کمیشن ارکان کےلیے سندھ سے جسٹس ریٹائرڈ صادق بھٹی، جسٹس ریٹائرڈ نور الحق قریشی، عبدالجبار قریشی اور بلوچستان سے ڈاکٹر فیض کاکڑ، نوید جان بلوچ اور امان بلوچ کے نام تجویز کیے ہیں۔

قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی جانب سے ناصر محمود کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام بطور الیکشن کمیشر بھجوائے گئے ہیں بھجوائے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ارکان کے لیے شہبازشریف نے سندھ سے جسٹس (ر) رسول میمن، نثار درانی، اورنگزیب حق اور بلوچستان سے شاہ محمود جتوئی، رؤف عطا اور راحیلہ درانی کے نام دیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں