ماجد نقی /نقطہ نظر

متحدہ عرب امارات کا قومی دن

آج متحدہ عرب امارات کا اڑتالیسواں قومی دن ہے, متحدہ عرب امارات دنیا کی ابھرتی ہوئ معیشت اور مڈل ایسٹ کی تجارت کا محور ہے, متحدہ عرب امارات دنیا میں آئل پروڈکشن کی نسبت سے پہلے دس ممالک اور آئل ریزروز کے حوالے سے پہلے پانچ ممالک میں شامل ہے, دبی بیسڈ “ایمریٹس ائر لائن” اور ابوظہبی کی “اتحاد ائر ویز” دنیا کی ٹاپ کلاس فضائ سروسز ہیں-

دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ (برج خلیفہ, دبئ) اور سب سے زیادہ جھکاؤ رکھنے والی ٹیڑھی بلڈنگ (کپیٹل گیٹ ٹاور, ابوظہبی) بھی متحدہ امارات میں ہی واقع ہیں, کھیلوں کے حوالے سے کئی ایک بین الااقوامی مقابلے متحدہ عرب امارات کے صحراؤں کی زینت بنتے ہیں, دبی ٹینس چمپین شپ, کرکٹ اور دوسرے کئی انٹرنیشنل مقابلے باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں- فٹبال یہاں پہ کھیلا جانے والا مقبول ترین کھیل ہے, جبکہ کیمل ریس (اونٹوں کی دوڑ کے مقابلے) , فیلکنری (عقاب کے زریعے شکار), گھڑسوار اور کار ریسنگ یہاں کے مقامی باسیوں کے اہم ترین شوق ہیں, یاس آئس لینڈ ابوظہبی میں واقع فراری ورلڈ تیھم پارک میں ہونے والے فارمولہ ون کے مقابلے دیکھنے کے لئے دنیا بھر کے شائقین ہر سال ابوظہبی کا رخ کرتے ہیں۔

یواے ای کے ٹریفک نظام کو دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور یہاں کی سڑکیں دنیا کے بہترین روڈ نیٹورکس میں سے ایک ہیں, امن و امان کے حوالے سے بھی یواےای دنیا کے ٹاپ انڈیکس میں موجود ہے اور اسی طرح یواےای کا پاسپورٹ دنیا کے مضبوط ترین پاسپورٹ میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔۔متحدہ عرب امارت کا زمینی راستہ سعودی عرب اور عمان کے ساتھ ہے, جبکہ ایران کے ساتھ متنازعہ میری ٹائم بارڈر لگتی ہے, ابوظہبی کو متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے,

ریاست ابوظہبی میں ابوظہبی سٹی, العین, مدینہ زید, غیاثی, مرفا, رویس اور لیوا جیسے چھوٹے چھوٹے شہر آباد ہیں, یہ بات مکمل طور پر درست نہیں کہ متحدہ عرب کی ترقی کا راز صرف اور صرف تیل کے زخائر ہی ہیں, مثال کے طور پر دبی میں نہ تو تیل کے وسیع زخائر ہیں اور نہ ہی دبئ کی معیشت اس پہ انحصار کرتی ہے, دبی کی کامیابی دراصل اس کی تجارتی پالیسیز, شاندار پورٹس, انتہائی مہنگا اور پرکشش ٹورازم اور رئیل اسٹیٹ بزنس ہے۔۔۔بیرونی دنیا سے وائٹ کالر اور بلیو کالر ورکرز کی ایک بہت بڑی تعداد جابز اور تجارت کے لئے متحدہ عرب امارات کا رخ کرتی ہے-

اس ملک کے انسان دوست قوانین, سہولیات, بزنس و کاروبار کے مواقع, بہتر مشاہرے و اجرت کی بدولت لوگ یہاں پر کاروبار کرنے اور رہنے کو پسند کرتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی ترقی محنت, بقاے باہمی, مزہبی رواداری, دوسری اقوام کے احترام, قوانین کے یکساں نفاز اور انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کی وجہ سے ممکن ہوئ جس کا اولین تصور اس ملک کے بانی شیخ زید مرحوم نے پیش کیا, بابا زید نے ٹکڑوں میں بٹی ہوئ سات ریاستوں ابوظہبی, دبی, شارجہ, راس الخیمہ, عجمان, فجیرہ اور ام الکوین کو متحد کر کے سپریم کونسل پر مشتمل ایک نظام حکومت تشکیل دیا, داخلی طور پر خودمختار ہونے کے باوجود یہ تمام ریاستیں بطور مملکت آپس میں متحد و متفق ہیں بلکہ باہمی دوستی اور عہد و پیمان کی بہترین مثال ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں