میڈیاہاؤسزسے نمائندگان کونکالنے اورتنخواہوں کی بندش کیخلاف آوازبلند

میرپور(بیورورپورٹ) سینٹرل یونین آف جرنلٹس آزادکشمیر کے صدر ظفیر بابا نے میڈیا ہاوسز کی جانب سے آزادکشمیر میں نمائندے نکالنے اور تنخواہیں بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے میڈیا مالکان اور مینجمنٹ سے مسئلہ کشمیر کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے آزادکشمیر سے نکالے گئے تمام میڈیا ورکرز کو واپس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے, مظفرآباد کے ضلعی صدر مسعود عباسی سے گفتگو میں سی یو جے آزادکشمیر کے صدر کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں موجود میڈیا ورکرز پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت بہت کم ماہانہ اجرت لیتے ہیں, انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ آزادکشمیر میں تعینات بڑے میڈیا ہاوسز کے کئی بیوروچیف کی تنخواہیں اسلام آباد اور دیگر شہروں میں موجود کیمرہ مین سے بھی کم ہیں جبکہ لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے مینجمنٹ کی تنخواہیں برقرار رہتی ہیں اور سفید پوش صحافیوں کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے.

انہوں نے کہا کہ مظفرآباد آزادکشمیر کا دارالحکومت اور تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ بھی ہے اس کے باوجود یہاں پر بہت سے بڑے میڈیا ہاوسز کے بہت کم ملازمین ہیں, ظفیر بابا نے کہا کہ یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ پاکستان کے بڑے میڈیا ہاوس نے بھی مظفرآباد میں موجود واحد کیمرہ مین کو نکال دیا اور بیوروچیف کی تنخواہ بند کردی. انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان اور مینجمنٹ کو موجودہ کشمیر کے حالات کے تناظر میں آزادکشمیر سے اپنے نمائندوں کو ڈاون سائزنگ کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے,اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ آزادکشمیر سے نکالے گئے میڈیا ورکرز کو ملازمتوں پر بحال کیا جائے اور تنخواہیں بحال کی جائے,بصورت دیگر ریاست بھر میں اُن میڈیا ہاوسز کے خلاف احتجاج کی کال دی جائے گی جنہوں نے آزادکشمیر سے کم تنخواہ دار ورکرز کو نکالا.

انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر ورکرز کو فلفور واپس ملازمتوں پر بحال نہ کیا گیا تو کیبل آپریٹرز سے مشاورت کے بعد ان تمام چینلز کی نشریات بھی آزادکشمیر سے بند کرنے کے لیے اگلا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں