طلباء یونین کی بحالی ایک عرصہ سے اسلامی جمعیت طلبہ کا دیرینہ مطالبہ رہا اور یہ ہمارا آئینی حق ہے، ناظم اعلیٰ محمد عامر

اسلام آباد(راجہ بشیر عثمانی )وزیراعظم عمران خان کی جانب سے طلبا یونین کی بحالی اور اس سلسلہ میں ضابطہ اخلاق کی تشکیل کے حوالے سے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستانمحمد عامر نے کہا گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی پر عملی اقدامات کرنے کا تاریخی اور قابل ستائش ہے-

جس کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ 9 فروری 1984 میں طلبہ یونین پر پابندی لگائی گئی تھی جس کے بعد ملک میں تعلیمی معیار بری طرح متاثر ہوا تھا اور طلبہ کے حقوق پر نقب لگائی گی تھی، انہوں نے کہا جس کہ وجہ سے طالب علموں کی زندگی پر گہرے اثرات پڑے حالانکہ باقی کے طبقہ ہائے زندگی کی طرح طلبہ کوبھی ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا چاہیے-

جس کے سائے تلے وہ اپنے مسائل کے حل کیلئے اکھٹے ہوں لیکن ملک کا سب سے اہم طبقہ نوجوان طالب علم اس سہولت سے محروم رہا، آزادی طلبہ کا آئینی اور بنیادی حق ہے کہ وہ جس نظام میں ووٹ کاساٹ کرتے ہیں اسی میں اپنے حقوق کیلئے طلبہ یونین کا قیام بھی عمل میں لائیں، محمد عامر نے کہا کہ یونین اور طلبہ تنظیمیں جمہوریت کی عکاسی کرتی ہیں اور ان کے بغیر جمہوریت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی-

انہوں نے مزید کہا کہ یونین کی بحالی پر تمام تر طلبہ تنظیمیں متفق ہیں اور اس حوالے سے 8 دسمبر کو لاہور میں تمام طلبہ تنظیموں کا اجلاس بلایا جا رہا ہے جس میں تمام تر تنظیموں کی باہمی مشاورت کے ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل اور ضابطہ اخلاق تیار کیا جائے گا-

وزیراعظم کے بیان سے متعلق بات کرتے ہوئے اسلامی جمیعت طلبہ کے ناظم اعلیٰ محمد عامر نے کہا کہ ماضی میں وزیراعظم کی جانب سے بین الاقوامی فورم پر کرپشن کرپشن کر کے ملک کے بارے میں منفی تاثر دیا جاتا رہا ہے جبکہ طلبہ یونین کے معاملے پر بھی تنظیموں کو تشدد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے-

جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ ہر معاملے میں پاکستان کا منفی پہلو ہی سامنے رکھا جائے، طلبہ تنظیمیں ہمیشہ طالب علم کی حقوق کی بات کرتی آئیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں