ڈان اخبارکےگردنامعلوم افرادکاگھیرا

نقطہ نظر/فرحان خان

نامعلوم افراد کے ہجوم نے آج شام اسلام آباد میں واقع انگریزی اخبار ڈان کے دفتر کے اندر جانے اور باہر نکلنے والے راستوں پر قبضہ کیا، ایک مولوی صاحب میگا فون ہاتھ میں تھامے تقریر کر رہے تھے جس میں حب الوطنی ، غداری وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے جا رہے تھے، وقفوں وقفوں سے “پاکستان زندہ باد” اور “پاک آرمی زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے۔

دو اڑھائی گھنٹے بعد ایک شخص باہر آیا جس نے بتایا کہ وہ ڈان کے انتظامی شعبے سے وابستہ ہے ۔ اس نے میگا فون پر کہا کہ اگر کسی خبر کی وجہ سے آپ کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں ڈان کی منیجمنٹ کی جانب سے معذرت خوا ہوں ، ہجوم میں کچھ لوگ خبر کی تردید کا مطالبہ کرتے رہے لیکن منیجمنٹ کے شعبے کے آدمی کی دوبارہ معذرت پر یہ نامعلوم لوگ “پاک آرمی زندہ باد” کے نعرے لگاتے ہوئے منتشر ہو گئے۔

یہ آج کی کہانی ہے ، بظاہر یہ ہجوم اس خبر پر مشتعل تھا جس میں لندن میں چاقو حملے میں ملوث عثمان نامی شخص کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اس کا تعلق ایک پاکستانی نژاد خاندان سے ہے ۔ وہ شخص پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا ۔

اس خبر کے شائع ہونے کے بعد ڈان اخبار کے خلاف ٹویٹر پر “بائیکاٹ انڈین ڈان” کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا تھا ، اور اب لگتا یہ ہے کہ ٹویٹر کے ٹرینڈز سے بات آگے نکل رہی ہے اور یہ مصنوعی قسم کے ٹرینڈز گراونڈ پر تشدد میں ٹرانسلیٹ ہو رہے ہیں ۔

خیال رہے کہ اخباری دفاتر میں منیجمنٹ کا ایڈیٹوریل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے کارکن صحافی شمار ہوتے ہیں ۔ ڈان کے ایڈیٹوریل بورڈ نے اس خبر کی ابھی تک کسی بھی سطح پر تردید نہیں کی۔

مزید یہ کہ ڈان نے آج ایک تحقیقی اسٹوری بھی شائع کی ہے جس میں پاکستان میں سوشل میڈیا ہیش ٹیگز کے ٹرینڈ بنانے والے ‘کارخانوں” کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک معروف کردار فرحان ورک کا ٹویٹر اکاؤنٹ ٹویٹر انتظامیہ نے بلاک کر دیا ہے جس کو بحال کروانے کے لیے ایک ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے۔ ڈان کی خبر کے بعد ڈان کے خلاف ٹرینڈ شروع کرانے میں بظاہر فرحان ورک کا کردار بھی تھا۔

فرحان ورک اکثر مختلف ایشوز پر “بوائز گریب یور کی بورڈز اینڈ اسٹارٹ ہیشٹنگ ڈیش ڈیش” کے الفاظ کے ساتھ اپنے ہم خیال سوشل میڈیا صارفین کو سوشل میڈیا پر کوئی مہم چلانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فرحان ورک کا تعلق تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے جہانگیر ترین گروپ سے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں