امریکہ بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات کا معترف ہوگیا

واشنگٹن(نیوزڈیسک) عالمی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے بعد امریکہ بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات کا معترف ہو گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کا کہنا ہے کہ موڈیز نے پاکستان کے کریڈٹ آؤٹ لک میں نظرثانی کی ہے،جس کے منفی سے مستحکم ہونے پر خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کی کوششوں اورآئی ایم ایف پروگرام سے یہ ممکن ہوا، جرأت مندانہ معاشی اصلاحات سے پاکستان پیداوار اور برآمدات بڑھا سکتا ہے جبکہ اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان سرمایہ کاری کو بھی راغب کرسکتا ہے۔یاد رہے گزشتہ دنوں عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کا آؤٹ لک منفی سےمثبت کر دیا تھا۔

ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان کی بین الاقوامی ادائیگیوں کی صورتحال بہترہوئی ہے اور مستقبل میں بھی مزید بہتر ہوگی۔موڈیز کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور کریڈٹ پالیسی میں بھی استحکام برقرار ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں روپیہ کمزور ہونے سے قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق موڈیز نے پاکستان کا معاشی آؤٹ لک ’منفی‘ سے بدل کر ’مستحکم‘ کر دیا۔ پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ کی ’بی تھری‘ کے طور پر نئے سرے سے تصدیق کی ہے۔

معاشی آؤٹ لک کی ’منفی‘ سے ’مستحکم‘ درجے میں ترقی ملکی معیشت کو سنبھالنے اور مستحکم بنانے کی حکومتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار ہے، حکومت مستقبل میں تیز تر، پائیدار اور یکساں معاشی ترقی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے معاشی اصلاحات کےایجنڈا پر گامزن رہے گی۔خیال رہے کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے10 ماہ قبل پاکستانی بینکوں کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کردیا تھا۔

رواں سال کے آغاز میں عالمی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کو درآمدات اور قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں