اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی ٹوٹ گئی

یہ جو کیچن کابینہ ھوتی ھے ویسے یہ اپنی اداؤں سے لگتی بہت ھی اچھی اور بھلی ہے کیونکہ اس کابینہ کا کوئی بھی فرد ہاں جی ‘ جی سر اور یس سر کے علاؤہ کچھ بولتا ھی نہیں اور جہاں بھر کی خوبیاں اوصاف حمیدہ وہ اپنے صاحب آقا میں بیان کر رہے ہوتے ھیں۔ اصل میں ہوتا ایسا نہیں ہے لیکن مطلب کے حصول کے واسطے چاپلوس ایسا کرتے رہتے ہیں۔ صاحب بہادر شاید ایسا نہ کرنا چاہتا ہو مگر اپنی جھوٹی تعریف سن کر وہ ایسے ایسے غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے جن کی وجہ سے آسمان کی بلندیوں سے زمین پر آ جاتا ہے۔

اسی واسطے سیانے کہتے ہیں کہ فیصلے بڑی سوچ سمجھ کر جو رہنما کرتا ھے وہ کبھی خطا نہیں کھاتا اور نا کام نہیں ہوتا اور اس کو کہے پہ پچھتاوا بھی نہیں ہوتا۔ اس کی واضع مثال میاں محمد نواز شریف کی ہے جو پاکستان کا ایک بڑا رہنما تھا لیکن اس نے کیچن کابینہ کی چاپلوسانہ باتوں پہ کان دھرنے اور ان کو نوازنا شروع کیا تو وہ رزیل و خوار ہو کر آج بار دیگر لندن میں بیٹھا ہے اور وہ چاپلوسی کہیں منظر پہ نظر نہیں آتے۔ ایسے ہی بہت سی اور مثالیں ہیں جن کو بیان کرنے کی دامن قرطاس اجازت نہیں دیتا۔

بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی بھاگ ڈور جب تک سردار خالد ابراھیم خان کے ہاتھوں میں رہی انھوں نے اپنی مرضی کے دوٹوک فیصلے کئے اور وقت نے ثابت کیا کہ ان کا ہر فیصلہ عظیم تھا۔ ان کے فاصلے بڑے اصولی و سخت ہوا کرتے تھے ان کے سامنے چاپلوسوں کی دال نہیں گلی تھی وہ چاپلوسانہ مزاج کو سمجھتے تھے جس وجہ سے چاپلوس ان کے پاس آنے تک سے کتراتے تھے۔ گو کہ وہ اپنے ارد گرد بہت بڑا جمگھٹا نہ کر سکے مگر بےداغ سیاست کر کے وہ اس دنیا سے سدھارے جس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔

ان کے جانے کے بعد ان کے فرزند محترم نو مولود سیاست دان چاپلوسوں کے نرغے میں آ گئے اور انھوں نے چاپلوسوں کی خوشنودی کے واسطے ایسے جماعتیں فیصلے کرنے شروع کر دئیے جس سے جمہوری جماعت ذاتی جاگیر لگنے لگی ہے۔ ایسے فیصلوں کی وجہ سے ھی جماعتیں ٹکڑوں میں بٹتی رہی ہیں۔ اس کی بڑی مثال آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کے غیر جمہوری رویہ کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر غیر ریاستی جماعت میں بدلی اور سیاسی دربار عالیہ رائیونڈ شریف سے بعیت ھو کر دم چھلہ بن کر حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ھوئی اور آج آزاد کشمیر پہ کٹھ پتلی حکومت کر رہی ہے۔ اور اس اقتدار کے بعد اس کا بھی نام و نشان حرف غلط کی طرح مٹتا نظر آتا ہے۔

غیر جمہوری طریقے سے پارٹی کی سنئیر رھنما کی یک جنبش قلم بینادی رکنیت ہی ختم کر دینا اس جمہوری پارٹی میں سب سے بڑا غیر جمہوری عمل ھے۔ سمجھ لو کہ یہ پارٹی بار اول دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ رسم ٹکڑے ھونے کی پڑ گئی ھے اب مزید ٹکڑے ھو کر ایک دن یہ پارٹی حرف غلط کی مانند مٹ جائے کی۔ یہ پارٹیوں میں جو آمر انہ فیصلے ہوتے ھیں یہ زہر قاتل کا کام کیا کرتے ہیں۔ میری اطلاعات کے مطابق غیر جانبدار پارٹی کارکنان کی کثیر تعداد نبیلہ ارشاد کے ساتھ ھے۔ اور جو نبیلہ ارشاد نے اپنی بنیادی رکنیت معطل ھونے کے بعد مدبرانہ کردار کا ثبوت پیش کیا ھے اس سے پارٹی میں اس کی قدر و قیمت اور بھی بڑھ گئی ھے۔ اس موقع پہ پارٹی کے غیر جانبدار احباب جن کو سردار خالد ابراھیم خان کے بے داغ کردار سے محبت ھے وہ آگے آئیں اور سردار خالد ابراھیم کے اس شجر شفاف سیاست کی ٹہنیوں کو ٹوٹ کر بکھرنے سے بچائیں۔ خالد ابراھیم خان کا یہ شجر سیاست بڑا مقدس ھے اسی شجر کی چھاؤں تلے ایک دن قوم کو حقیقی راحت نصیب ھو گی اور اسی شجر کا پھل قوم کے واسطے حیات و فرحت بخش ھو گا۔ وقت کم ھے سب کو سوچ بچار کرنے کی ضرورت ھے۔ اس منفقانہ ماحول میں یہ کار وحدت ذرا مشکل ھے لیکن ناممکن نہیں جذبے صادق ھوں تو اللّٰہ پاک آسانیاں فرماتا ھے۔ اللہ پاک آسانیاں فرمائے اور سردار خالد ابراھیم خان کی نشانی کو پارہ پارہ ھونے سے بچائے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں