جموں کشمیر کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،راجہ عتیق

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)جموں کشمیر کے معروف آزادی پسند رہنما راجہ عتیق خان نے گرین کشمیر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیرکی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان نے گزشتہ 73 سال سے جموں کشمیر کے عوام کی رائے کو دبایا ہوا ہے، کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں جبکہ کشمیری عوام آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جموں کشمیر کی آر پار کی عوام ریاست کی وحدت اور کشمیر کی مکمل خودمختاری چاہتی ہے اس لیے اقوام عالم کو چاہیے کہ وہ ہندوستان ، پاکستان یا چین کے بیانیے کی بجائے کشمیریوں کی رائے کو فوقیت دیتے ہوئے کشمیر کی آزادی کیلئے ان ملکوں پر دباو ڈالیں ۔بھارت نے کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی کوشش کی ہے جسے کشمیریوں نے تسلیم نہیں کیا، اگر پاکستان بھی آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم آزادی پسند کشمیری ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانے دیں گے۔

راجہ عتیق نے کہا کہ اقوام متحدہ نے آج تک کشمیریوں سے انصاف نہیں کیا ، اس لیے اس ادارے کی اہمیت اب ختم ہوتی جارہی ہے، اگر اقوام متحدہ، یورپی یونین کشمیریوں کو انصاف دلاتی ہیں تو ان اداروں کی ساکھ بہتر ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ جموں کشمیر کی تمام اکائیوں میں اپنی امن فوج بھیجے اور عالمی مبصرین کی موجودگی میں رائے شماری کا اہتمام کرائے تاکہ کشمیری عوام اپنی رائے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں لیکن کسی کو یہ جازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کشمیریوں کو کسی ملک کے ساتھ الحاق کرائے یا ان کا حصہ بنائے۔

راجہ عتیق نے کہا کہ وادی جموں کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے ذرخیز ہونیوالی سرزمین ہے، یہ اپنے قدرتی حسن کے باعث زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے لیکن اس جنت کے باسی لمحہ بہ لمحہ سکون کو ترستے ہیں، جس کی بنیادی وجہ اس خطے کے تنازعات ہیں جس کے سبب کشمیر 3 ممالک میں تقسیم ہے، جس میں پاکستان شمال مغربی علاقے (شمالی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر)، بھارت وسطی اور مغربی علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ) اور چین شمال مشرقی علاقوں (اسکائی چن اور بالائے قراقرم کا علاقہ) کا زبرستی انتظام سنبھالے ہوئے ہے، بھارت سیاچن گلیشیئر سمیت تمام بلند پہاڑوں پر جبکہ پاکستان نسبتاً کم اونچے پہاڑوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہے، پاکستان اور بھارت کشمیر کے مسئلے پر ایک نظریے کا دعوٰی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تقسیم پاک و ہند کے وقت کشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ریاست کی حیثیت رکھتا تھا، اس وقت تقسیم کی بنیاد اکثریت پر رکھی گئی، بھارت کا کہنا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے الحاق کی دستاویز پر 24 اکتوبر کو سری نگر سے جموں بھاگ آنے کے بعد اپنے محل میں دستخط کئے تھے لیکن انڈین وزیراعظم جواہر لال نہرو کے نمائندے وی پی مینن 27 اکتوبر 1947ء کو جموں پہنچ سکے تھے۔ مہاراجہ نے جموں اور کشمیر چھوڑ دیا اور کبھی واپس نہیں آئے اور شیخ عبداللہ ریاست کے پہلے متنازعہ وزیراعظم بن گئے لیکن کچھ ہی عرصہ بعد انڈین وزیراعظم جواہر لال نہرو نے انہیں 1953ء میں غداری کے الزام میں جیل بھیج دیا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ شیخ عبداللہ آزادی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، دراصل مسئلہ کشمیر، پاکستان، ہندوستان اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے، یہ مسئلہ تقسیم ہندوستان سے چلا آ رہا ہے، ہندوستان پورے جموں اور کشمیر پر ملکیت کا دعوے دار ہے۔

2010ء میں ہندوستان کا کنٹرول 43 فیصد حصے پر تھا جبکہ پاکستان کے پاس 38 فیصد حصہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی شکل میں ہے، پاکستان پورے خطہ کشمیر کو متنازع سمجھتا ہے اور اسے مذہبی بنیاد پر دیکھتا ہے جبکہ برصغیر کی تقسیم سے پہلے کشمیر ایک الگ آزاد خودمختار ریاست تھی جس پر مہاراجہ کی شخصی حکمرانی تھی اور بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور یہ متنازع علاقہ نہیں کیونکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا بھارت سے الحاق کیا ہوا۔پاکستان ، بھارت اور چین تینوں جوہری طاقتیں ہیں جو جموں کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کودنیا کے خطرناک ترین علاقائی تنازعات میں سے ایک شمار کرتے ہیں، آج بھی آئے روز سیز فائر لائن پر گولہ باری اور سری نگر میں اکثر و بیشتر کرفیو کی صورتحال رہتی ہے، یہ ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام اپنے حقوق کیلئے بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں۔بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی شناخت پر حملہ کرتے ہوئے اپنے آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے کشمیر کی شناخت ختم کر دی ، لیکن ہم کشمیری بھارت کے آئین اور ایسے اقدامات کو نہیں مانتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں