مذہبی تفرقہ بازی اور پاکستان

تحریر : سیداویس کاظمی

14اگست 1947ء کو جب پاکستان معرضہ وجود میں آیا تو اس کا مکمل نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان ” رکھا گیا ۔ ا س وطن کو حاصل کرنے کےلیے بے شمار قربانیا ں دی گئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔

پاکستان بنانے کے پیچھے جو نظریہ کار فرمان تھا وہ یہ کہ ایک ایسی ریاست ہو جس میں مسلمان آزادی سے زندگی بسر کر سکیں اور خداکی عبادت ادا کرسکیں۔
کیونکہ ہندستان میں مسلمانوں کو وہ آزادی حاصل نہیں تھی ہندستان میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جاتے تھے ۔ مقدس مقامات کی بے حرمتی کی جاتی تھی۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کےحصول کےلیے ایک نعرہ لگایاکہ پاکستان کا مطلب کیا “لاالہ الا اللہ”
اس نعرےپرتمام مسلمان متحد تھے اوراسی کی بنیادپر ایک اسلامی ریاست پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔

قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نےاپنی تقریر میں کہا کہ یہاں مسلمانوں کےساتھ ساتھ تمام مذاہب کےماننے والوں کو اُن کے پورے پورے حقوق دیے جائیں گے۔ اُن کو اپنے مذاہب کی تمام رسومات ادا کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
کیونکہ اسلام ہمیں اس بات کی تلقین کرتاہے کہ تمام انسانوں کو برابری کے حقوق دیے جائیں۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں آج اس کےبرعکس ہورہاہے۔فرقہ واریت کےنام پر ایک دوسرےکو قتل کیا جارہا ہے گروہ در گروہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں اور قتلےعام کیا جاتاہے۔

اسلام ہمیں امن،محبت ،راواداری ، وحدت اور بھائی چارے کا درس دیتاہے۔ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا درس دیتاہے۔
حقوق اللہ کےساتھ ساتھ حقوق العباد ادا کرنےپر زور دیتاہے۔
لیکن یہاں ہم ایک دوسرے کو مسلمان ماننےکے لیے تیار نہیں ایک دوسرے پر کفر کے فتوےلگائے جارہے ہیں ۔

حضورؐنے جب اعلان رسالت کیا تو کوہ صفاہ پر کھڑے ہو کر آپؐ نے فرمایا کہ لا الہ اللہ کہو تو میں ضمانت دیتاہوں کہ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔
لیکن ہم ہیں کہ تفرقوں میں بٹ کر کافر کہے جارہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ بازی نہ کرو”ہم ہیں کہ اس فرمان کو یا تو بھلا چکے ہیں یا اس پر عمل نہیں کرتے۔

علامہ اقبال نے کہا تھا
منفعت بھی ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔

آج اگر ہم معاشرے میں دیکھیں تو ہر طرف تفرقہ بازی ہے۔دوسروں کو کافر کہہ کر خود جنت کےحق دار بنےپھرتےہیں ۔ دوسرے مذاہب کے لوگ تو کیا مسلمان ایک دوسرے سے متنفر ہو چکے ہیں ۔ سرعام قتل کیا جارہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ سر عام کفر کے فتوےگائے جارہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

حضر ت علیؑ کا فرمان ہےکہ ”کسی کے جھوٹےخدا کو بھی بُرا نہ کہو کیونکہ وہ تمھارے سچے خدا کو بُرا کہے گا۔ ہم ہیں کہ ایک خدا اور ایک رسول کے ماننےوالوں کو بھی کافر کہے جارہے ہیں۔
دنیا میں تما م مذاہب میں فرقےموجود ہیں وہ ایک دوسرے سے اتنےمتنفر نہیں جتنےآج کے مسلمان ایک دوسرے سے متنفر ہیں۔

تفرقہ بازی کو ختم کرنےکےلیےقانون پر عمل درآمد کرنا لازمی ہوگا۔ قانون تو موجود ہےلیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔جس کی وجہ سے ایسے عناصرکی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہور ہا ہے جو تفرقہ بازی کو ہو ا دے رہے ہیں ۔

ایسے عناصر کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا تب اس کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ بطور مسلمان ہر فرد کا یہ فریضہ ہے کہ وہ معاشرےکے اندر محبت ،امن، وحدت اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے تب جاکے پورا ملک ٹھیک ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں