آزادکشمیر میں سیاسی ہلچل

وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کی زیر صدارت گزشتہ روز اراکین کابینہ کا ایک طویل اور اہم ترین اجلاس منعقد ہوا جس میں آزادکشمیر کی آئندہ سیاسی صورتحال بارے اہم فیصلے کئے گئے ۔ذرائع کیمطابق اجلاس میں اراکین کابینہ نے کئی طرح کے تحفظات کا

کھل کر اظہار کیا اور وزیر اعظم کو اس بات پر قائل کرنے کی کو شش کی کہ وہ اپنی بعض پالیسیوں بارے نظرثانی کریں ۔ اجلاس میں اہم فیصلے لئے گئے جن میں اراکین کابینہ و ممبران اسمبلی کو اعتماد میں لینے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ ن لیگ کو ریاست بھر میں فعال بنانے اور کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔

قبل ازیں وزیراعظم آزاد کشمیر نے وفاق کے مطالبے پر 14 ویں آئینی ترمیم کیلئے بنائی گئی کمیٹی کو بھی متحرک کر دیا ہے جو بظاہر وفاق کے ساتھ تعلقات کار کو نارمل رکھنے کی ایک کوشش دکھائی دے رہی ہے۔ علاوہ ازیں بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کی توقع بھی کی جارہیبہے جبکہ دیگر کچھ اہم فیصلے لئے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔ یہ ساری سرگرمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب بیرسٹر سلطان محمود چودھری، الیکشن جیت کر بطور ممبر اسمبلی حلف اٹھا چکے ہیں ۔

بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ آزادکشمیر میں ن لیگی حکومت بیرسٹر سلطان محمود کی اسمبلی میں آمد سے اپنے لئے کسی سطح پر کسی خطرے کو بھانپ رہی ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے پیش بندی شروع کر دی گئی ہے۔ بعض ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کابینہ اجلاس میں بعض وزراء میں غیر معمولی اعتماد دیکھا گیا جو میرپور ضمنی الیکشن سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیاتھا۔

اسی طرح سے کشمیر لبریشن سیل میں نئی تعیناتیاں بھی ممکنہ طور پر کسی مشکل وقت میں لیگی کارکنوں کو اعتماد میں رکھنے کی ایک کوشش بتائی جارہی ہے تاہم یہ ساری سرگرمی کیا آنے والے ممکنہ کسی سیاسی طوفان کے سامنے بندھ باندھنے میں کامیاب رہے گی یا نہیں اس کا فیصلہ وقت ہی بتائے گا ؟ (راجہ ادریس تبسم)

اپنا تبصرہ بھیجیں