امریکہ سے آئے ہوئے جاوید راٹھور نے کشمیر پر حکومت پاکستان کوآئینہ دکھا دیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز ) وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے بعد پراسرار خاموشی ہے ،کشمیر کا مسئلہ پاکستان کا مسئلہ ہے ، پاکستان و کشمیر لازم و ملزوم ہیں، کشمیر کی حیثیت جو بھی ہو پاکستان کے ساتھ ہمارا رشتہ

ایمان کا ہے ،مسئلہ کشمیر کے لیے تارکین کا کردار اہم ہے سمندر پار ہم آر پار کشمیریوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں ، شملہ معاہدہ کو فل فور منسوخ کر دینا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار کشمیر یکجہتی کونسل شمالی امریکہ کے بانی چئیرمین جاوید راٹھور نے گذشتہ روز اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا –

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں پوری دنیا ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے مگر پاکستان و کشمیر کی حکومتی پالیسیاں ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں ،آزاد کشمیر اور پاکستان کی حکومت کنفیوژن کا چکار ہیں ،کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں اور نظریات کا احترام کرتا ہوں 72 سالوں سے ہم لوگ مشکلات کا شکار ہیں –

ہمارے مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ اور تمام عالمی انصاف اور امن کے ادارے اپنا کردار ادا کریں وگرنہ حالات بگڑ جائیں گے انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے لوگ ہی مسئلہ کشمیر کے فریق ہیں ،کشمیر کے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ دیا ہے-

اب وقت گیا ہے کہ کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ہو جاوید راٹھور نے کہا کہ تارکین وطن کشمیریوں میں آصف محمود ،ڈاکٹر طاہر جاوید سمیت دیگر امریکہ اور دوسرے ممالک میں سات سمندر پار مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں-

جو کہ قابل ستائش ہے ،جاوید راٹھور نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے اچھی تقریر کی لیکن اس کے بعد مکمل خاموشی ہے اگر کوئی فیصلہ کیا گیا ہے تو کشمیریوں کو بھی بتایا جائے ۔ کشمیر کے حوالے سے سفارتی پالیسی بہت کمزور ہے۔ دفتر خارجہ کے لوگ صرف فوٹو بنا کر حاضری لگاتے ہیں-

دوسری جانب آزادی کے بیس کیمپ آزاد حکومت کا بھی یہ ہی حال ہے۔موجودہ صورتحال میں مسئلہ کشمیر ہائی لائٹ ہوا اس کہ وجہ مودی ہے 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالا گیا ہے اس میں ایک بڑی ناکامی سفارت کاری کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ وقت خاموشی سے بیٹھنے کا نہیں –

حکومت پاکستان سے مطالبہ کروں گا کہ فارن آفس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ازسرنو کشمیر پالیسی بنائی جائے اور موجودہ چیر مین کشمیر کمیٹی کو تبدیل کر کے متحرک شخص کو چیرمین بنایا جائے۔

پریس کانفرس میں امریکہ میں مقیم معروف سیاسی و سماجی رہنما ء سردار ظریف اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماء حمید لون بھی موجود تھے اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں اور عام کشمیری عوام پر بھارتی سکیورٹی اداروں کی جانب سے ظلم و بربریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے-

بھارتی سکیورٹی ادارے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہیں، عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی اداروں کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لینا چاہیے ،انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی سکیورٹی ادارے بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے نوجوانوں پر چھرے دار بندقوں سے حملے کر رہے ہیں-

جس کی وجہ سے اب تک سینکڑوں نوجوان کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں،کشمیری عوام اپنے پیدائشی حق خود ارادیت کی جدوجہد جاری رکھیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی اداروں کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ہم آواز بلند کرتے رہیں گے –

جب تک اس سنگین مسئلے کا تصفیہ نہ ہوجائے اس موقع پر اطہار خیال کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے رہنما عبدالحمید لون نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی انتہائی تشویش ناک ہے گزشتہ 4 ماہ کے دوران 15 ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے مقبوضہ کشمیر کے 120 اخبارات ہیں جن مین سے آج صرف 10 اخبار نکلے رہے ہیں-

4 ماہ کے دوران 8 سو کے قریب احتجاج ہوئے ہے اس وقت ہندوستان میں ایک انتہا پسند جماعت برسراقتدار ہے۔ سرینگر میں اس وقت سخت سرد موسم ہے جبکہ بھارتی فورسز نے کشمیریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنایا ہوا ہے جس پر عالمی برادری کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو ترجیح بنیادوں پر رکھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں