امپرئیل کالج لندن کی نئی تحیق کیا کہتی ہے؟

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈاکٹر ہر چھ میں سے ایک کیس میں ہارٹ اٹیک کی ایسی انتباہی علامات کو نظرانداز کردیتے ہیں جو کہ دل کے دورے سے ایک ماہ قبل سامنے آتی ہیں۔

یہ انکشاف برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہارٹ اٹیک کی مخصوص علامات جیسے سینے میں درد کی صورت میں تو ڈاکٹر موثر علاج کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ڈاکٹر اس مرض کی دیگر علامات جیسے غشی طاری ہونا اور سانس گھٹنا وغیرہ کو نظر انداز کرسکتے ہیں جو کہ کسی ہارٹ اٹیک کے شکار ہونے کے خطرے کو بڑھانے کا اشارہ دیتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 2006 سے 2010 تک ہسپتالوں کے ساڑھے لاکھ مریضوں کے ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ میں ایک لاکھ 36 ہزار افراد کو ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوا جن میں سے 21 ہزار 677 چل بسے۔ تحقیق کے مطابق یہ وہ افراد تھے جو اپنی موت سے چار ہفتے قبل دیگر تکالیف جیسے غشی طاری ہونا، سانس لینے میں مشکل وغیرہ کی شکایت تھی۔
محققین کا کہنا تھا کہ غشی طاری ہونا، سانس گھٹنا اور سینے میں درد ایسی واضح علامات ہیں جو بیشتر مریضوں میں موت سے ایک ماہ قبل سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اس وقت تو ہارٹ اٹیک کا بہت اچھا علاج کرتے ہیں جب یہ مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کی وجہ ہو تاہم کسی اور شکایت کی صورت میں ان کے داخلے پر ایسا نہیں ہوتا۔ ان کے بقول بدقسمتی سے چار ہفتے قبل ہسپتال میں داخلے کے باوجود ہارٹ اٹیک سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔

کیٹاگری میں : صحت