ہارٹ آف ایشیا کانفرنس: شاہ محمود کا بھارتی وزیر کی تقریر کا بائیکاٹ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے استنبول میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی وزیر کی تقریر کا بائیکاٹ کر دیا۔

ترکی کے شہر استنبول میں آٹھویں منسٹریل ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے شرکت کی جہاں انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان، ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو اور اور امریکا کی قائم مقام معاون وز یرخارجہ ایلس ویلز سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کی۔

وزیرخارجہ نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات میں پاکستانی قیادت کا پیغام انہیں پہنچایا اور کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کے خلاف ترک صدر کی آواز نے نہتے کشمیریوں کو بے پناہ حوصلہ دیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کانفرنس میں امریکا کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز سے بھی ملاقات کی جس میں پاک افغان دو طرفہ تجارت سے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امن و استحکام کے لیے افغانستان پاکستان ایکشن پلان کے تحت پاک افغان تجارت و سرمایہ کاری ورکنگ گروپ موجود ہے جو دو طرفہ تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لیے امریکا کے ساتھ معاونت کے لیے تیار ہے، ہمیں بھرپور توقع ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے انٹرا افغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی اور نتیجتاً افغانستان میں امن کی شمع روشن ہو گی۔

اسی موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی وزیر کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔جیسے ہی بھارتی وزیر کی تقریر شروع ہوئی وزیرخارجہ احتجاجاً وہاں سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں