وائس چانسلر جامعہ کشمیرڈاکٹرکلیم عباسی نے مسئلہ کشمیرحل کے آپشنزپرروشنی ڈال دی

مظفرآباد(نیوزڈیسک)وائس چانسلر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے کہا ہے کہ 70سال سے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم پراجاگر کر رہے ہیں،اب وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مختلف آپشنز پر غور کریں۔مسئلہ کشمیر کے پر امن حل اور تنازعہ کشمیرکو سفارتی محاذ پر اجاگر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ کشمیری قیادت کو بین الاقوامی فورمز پر نمائندگی دی جائے۔ غاصب ممالک کے قوانین بدلنے سے آزادی کی تحریکوں کو دبایانہیں جاسکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ایک منظم سازش کے تحت تیزی سے کم کیاجا رہا ہے جو بڑا انسانی المیہ ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے، ایسٹ تیمور کو رائے شماری کا حق مل سکتا ہے تو کشمیریوں کو کیوں نہیں مل سکتا۔ 5اگست جیسے واقعات تحریک آزادی کشمیر کو سرد خانے میں نہیں ڈال سکتے۔ ا ن خیالات کا اظہارانہوں نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جموں وکشمیر لبریشن سیل اور جامعہ کشمیر کے باہمی اشتراک سے منعقدہ سمینار بعنوان مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقو ق کی سنگین خلاف ورزیاں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سمینار سے سیکرٹری صدارتی امور ڈاکٹر ادریس عباسی، ڈاکٹر محمد مشتاق ڈائر یکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ڈاکٹر عزیز الرحمن چیئرمین شعبہ قانون انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، راجہ محمد سجاد خان ڈائریکٹر انتظامیہ جموں وکشمیر لبریشن سیل نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیری اپنے حق کیلئے یک نکاتی فارمولے پر متفق ہو جائیں۔5اگست 2019کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جوحالات پیدا کیے گئے تھے،وہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کمزور کرنے کی سازش تھی۔ جسے بہادر کشمیری عوام نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اقوام متحدہ کشمیریوں کو انکا بنیادی حق دلوانے کیلئے اپنے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرے۔

وائس چانسلر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنوبی ایشیا میں امن کی ضمانت ہے، پوری دنیا باالخصوص انسانی حقوق کے عالمی ادارے،حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرآواز بلند کرنی چاہیے۔ سیکرٹری صدارتی امور ڈاکٹر ادریس عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر دو ملکوں کے درمیان زمین کا تنازعہ نہیں بلکہ انسانی حقو ق کا مسئلہ ہے۔اسکا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ڈ اکٹر محمد مشتاق ڈائر یکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادنے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کو انٹر نیشنل کریمنل کورٹ میں اٹھایا جائے۔

ڈاکٹر عزیز الرحمن چیئرمین شعبہ قانون انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں،جسکی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ راجہ محمد سجاد خان ڈائریکٹر انتظامیہ جموں وکشمیر لبریشن سیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ 5اگست کے بعد 128دن ہو گئے ہیں مقبوضہ وادی میں کرفیو ہے،جس پر اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں خاموش ہیں، کشمیریوں کو عالمی قوانین کے مطابق حق خودارادیت کا اختیار دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ سمینار میں رجسٹرار جامعہ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ سہیل،ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید، ڈین انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر محمدقیوم،ڈائر یکٹر فنانس پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق اعوان، چیئرمین شعبہ آئی آر ڈاکٹر عبدالقادر،ڈائر یکٹر آپریشنز لبریشن سیل راجہ محمد اسلم،ڈاکٹر ثمینہ صابر سمیت سربرہان شعبہ جات،فیکلٹی ممبران،طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں