تلور کا شکار— قطری شاہی خاندان کے سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا

نوشکی(ویب ڈیسک ) بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تلور کے غیر قانونی شکار کے لیے آنے والے سات قطری باشندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں قطر کے شاہی خاندان کے ارکان بھی شامل ہیں-

ڈپٹی کمشنر نوشکی عبدالرزاق ساسولی کے مطابق لیویز اہلکاروں نے قطری باشندوں کو سڑک کے راستے کوئٹہ سے آتے ہوئےنوشکی سے 30 کلومیٹر دور کلنگور چیک پوسٹ پر گرفتار کرکے سرکٹ ہاس نوشکی منتقل کردیا-

عرب خبررساں اداریکی رپورٹ کے مطابق گرفتار قطری باشندوں نے انتظامیہ کو چکما دینے کے لیے مقامی لباس پہن کر اپنا بھیس بدل رکھا تھا، گرفتار ہونے والوں میں سے 34سالہ شیخ محمد بن منصور جاسم ،34سالہ شیخ خالد بن علی، 27سالہ شیخ عبداللہ بن جاسم اور29 سالہ شیخ احمد بن علی خالد کا تعلق قطر کے الثانی شاہی خاندان سے ہے-

دیگر گرفتار افراد میں سلمان سعید، سالم ہضبان اور سعود جابری شامل ہیں، لیویز کے مطابق سعود جابری سے ایرانی پاسپورٹ بھی ملا ہے،بلوچستان کے سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات سعید احمد جمالی نے عرب خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گرفتار افراد تلور کا شکار کرنا چاہتے تھے تاہم ان کے پاس شکار کا قانونی اجازت نامہ نہیں تھا-

اجازت نامہ کے بغیر شکار کی کوشش کرنے پر انہیں مقامی لیویز اور ضلعی انتظامیہ نے گرفتارکرکے محکمہ جنگلی حیات کےحوالے کردیا ہے، محکمہ جنگلی حیات نے نوشکی میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش بھی شروع کردی ہے،محکمہ جنگلی حیات کے حکام کے مطابق گرفتار قطری باشندے رواں ماہ کے آغاز پر تین ماہ کا ویزہ لے کر پاکستان آئے تھے-

دو دسمبر کی رات کو کوئٹہ پہنچنے پر محکمہ جنگلی حیات کے اہلکاروں نے نجی ہوٹل جا کر ان سے پوچھ گچھ کی تھی اور واضح کیا تھا کہ اجازت نامے کے بغیر شکار کی اجازت نہیں دی جائے گی،قطری باشندوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ شکار کے لیے نہیں بلکہ سیروتفریح کے لیے نوشکی جائیں گے-

شکار کے لیے لائسنس نہ ہونے پر محکمہ جنگلی حیات نے قطری باشندوں سے پاسپورٹ کی نقول اور حلف نامے حاصل کیے تھے، چاغی، خاران، واشک، نوشکی، موسی خیل ، جھل مگسی سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع موسم سرما میں تلور اور دیگر نایاب پرندوں کا مسکن بنتے ہیں-

ہر سال سرد موسم شروع ہونے سے پہلے وسطی ایشیائی ریاستوں سے تلور اور دیگر پرندے ہجرت کرکے بلوچستان کا رخ کرتے ہیں اور موسم بہار کی آمد پر واپس چلے جاتے ہیں،سیکریٹری جنگلات وجنگلی حیات نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے اس سال سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت 18غیر ملکی پارٹیوں کو بلوچستان کے پندرہ سے زائد علاقوں میں تلور اور دیگر پرندوں کے شکار کی اجازت نامے جاری کئے ہیں،انہوں نے بتایا کہ اب تک 18 میں سے صرف دو پارٹیوں نے شکار کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے عائد کردہ قانونی فیس جمع کرائی ہے جس کے بعد انہیں لائسنس جاری کردیئے گئ-

ہیں،سیکریٹری جنگلات وجنگلی حیات نے مزید بتایا کہ اس وقت ایک لاکھ ڈالر فیس جمع کروانے کے بعد غیرملکی شکاریوں کو 100 تلور شکار کرنے کی اجازت دی جارہی ہے تاہم صوبائی حکومت اس قانون میں تبدیلی پر غور کررہی ہے-

مجوزہ قانون میں شکار کی کوئی فیس مقرر کرنے کی بجائے رضاکارانہ طور پر کرنے کی تجویز دی گئی ہے،خیال رہے کہ ایک ماہ قبل بھی چاغی سے لیویز اہلکاروں نے دو قطری باشندوں کو غیر قانونی شکار کے الزام میں گرفتار کیا تھا، فروری2017 میں بھی نوشکی میں قطری شہزادے کی غیر قانونی شکاری پارٹی کے سولہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں