پیرعلی رضابخاری نے اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس سمیت دو اہم قراردادیں پیش کردیں۔

مظفرآباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) ممبر قانون ساز اسمبلی پیر علی رضا بخاری نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران دواہم قراردادیں اورتوجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا۔انگریزی میں پیش کی گئی قرارداد میں ناروے میں قران پاک کی بے حرمتی کی مذمت کے ساتھ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام مذاہب کے مقدسات کی توہین کو روکنے کے لئے قانون سازی کی جائے اورعالمی امن کو ممکن بنایا جائے۔

دوسری قرار داد میں پیرعلی رضا بخاری نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر کی جاری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے جہاں لاک ڈاؤن کو 129روز گزرچکے ہیں۔ بھارتی کرفیوسے کشمیری عوام کانظام زندگی برح طرح متاثرہوا ہے وہ اپنی روز مرہ کی اشیاء زندگی کے لیے ترس گئے ہیں۔تعلیمی ادارے، دکانیں، کاروباری مراکز بند جب کہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ اب بھی غائب ہے۔انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن سروس بھی تاحال بند ہے جب کہ حریت رہنما اور مقامی سیاسی قیادت سمیت 11 ہزار کشمیری گرفتار ہیں۔

انہوں نےکہا کہ آزاد کشمیر و پاکستان کی حکومتوں کیساتھ ساتھ چین ،ترکی اور ملائشیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کے لئے تعلیمی وظائف کا اعلان کریں اور ان کا تعلیمی مستقبل تباہ ہونے سے بچائیں۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاؤنی میں بدل چکا وہاں سے کشمیری طلبہ کے تعلیمی کیرئیر کو بچانا ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

اسی طرح توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا کہ میں معززایوان کی توجہ صحت عامہ کے متعلق موجودہ وقت کے نہایت اہم مسئلہ۔بڑھتے ہوئے کینسر اور دل کے امراض جن کے باعث آئے روز اموات معمول بنتی جارہی ہیں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔

خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے کینسر کے کیسز اور دل کے متعلق امراض معاشرے میں بڑی پریشانی کا سبب ہیں جن پر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی روک تھام اور ان بیماریوں کے متعلق عوام میں بچاؤ کے لئے آگہی پیدا کرنے کی کوئی ادارہ جاتی سطح پرحکومتی کوششیں نظر نہیں آ رہیں جس کے نتیجہ میں یہ مسئلہ گھمبیر شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

ہر ہفتے ان بیماریوں سے تین سے چار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ہمیں اس مسئلے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کرانی چاہیے تاکہ اس کے اسباب معلوم ہو سکیں۔ خاص طور پر ناقص اور مضر صحت فروخت ہونے والے گھی ،آئل اور دیگر اشیاء خوردنی پر پابندی ہونی چاہیے حکومت نے اگر فوڈ اتھاڑٹی قائم کی ہوئی ہے تو اس کو فنکشنل بھی ہونا چاہیے۔

اس وقت دور افتادہ نیلم ،لیپہ،حویلی ،نکیال ،سماہنی جیسے علاقوں میں مضر صحت اشیا خورد ونوش کی کھلے عام فروخت جاری ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔یہ معمولی بات نہیں یہ انسانی جانوں کیساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے جس کی ذمہ دار انتظامیہ اور دیگر ادارے ہیں ،اس معزز ایوان کواس حوالے اداروں کو جوابدہ بنانے کے لئے مستقل بنیادوں پر مانیٹرنگ کمیٹی بھی تشکیل دینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں