تحریک انصاف آزادکشمیر کے عہدیداران سیف اللہ نیازی سے ڈانٹ کھا بیٹھے

اسلام آباد(شہزادخان/سٹاف رپورٹر)بیرسٹرسلطان محمودکو نیچا دکھانے کیلئے مسلم کانفرنس سے گٹھ جوڑ کی کوشش میں راجہ مصدق کی قیادت میں تحریک انصاف کی بی ٹیم سیف اللہ نیازی سے ڈانٹ کھابیٹھی۔سٹیٹ ویوز کو ذرائع نے مسلم کانفرنس اورتحریک انصاف کی بی ٹیم کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی بتائی ہے کہ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل راجہ مصدق خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سردارعتیق احمد خان سے ملے اور انہیں بتایا کہ تحریک انصاف کی ٹیم مسلم کانفرنس کے ساتھ ملکر چلنا چاہتی ہے جبکہ بیرسٹر سلطان محمود رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔آپ ہماری رہنمائی کریں اور بتائیں کہ بیرسٹر سلطان محمود کو کیسے ٹف ٹائم دیا جائے۔

اس پر سردارعتیق احمد خان نے انہیں کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان سے انکی ملاقات کرائیں۔وہ گذشتہ ڈیڈھ سال سے کوشش کررہے ہیں لیکن ملاقات نہیں ہوسکی۔مصدق خان نے اس بات کی گارنٹی لی کہ وہ عمران خان سے ان کی ملاقات کرائیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ مسلم کانفرنس اور تحریک انصاف کے درمیان طے ہوا کہ وہ آئندہ ملکر چلیں گے اوربیرسٹر سلطان محمود کو راستے سے ہٹائیں گے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ملاقات کی خبر پی۔ٹی۔آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی تک پہنچی تو انہوں نے اپنی بی ٹیم کو ڈانٹ پلادی اور کہا کہ مسلم کانفرنس کے لوگ تحریک انصاف میں آنا چاہتے تھے۔آپ لوگوں نے سردارعتیق سے ملاقات کرکے مسلم کانفرنس کو یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ اتحاد کا تاثر دے اور جو مسلم کانفرنسی تحریک انصاف میں آنا چاہتے ہیں وہ رک جائیں۔

یاد رہے کہ چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے تحریک انصاف آزادکشمیر میں بیرسٹرسلطان محمود سے مشاورت کے بغیر بالا ہی بالا ایسے عہدیداران بنا رکھے ہیں جو اپنے پولنگ سٹیشنز بھی جیتنے کی پوزیشن میں نہیں اور انہوں نے مبینہ طورپربیرسٹر کے خلاف حلفاً ایکا کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے بیرسٹر سلطان محمود بھی انہیں اپنے ساتھ چلانے سے اس قدر کتراتے ہیں کہ میرپورکے ضمنی انتخابات میں بھی ان عہدیداران کو کوشش کے باوجود قریب نہیں آنے دیا گیا۔یہ بھی یاد رہے کہ تحریک انصاف کا مرکزی دفتر گلبرگ گرین میں قائم ہے جسکا افتتاح عمران خان نے کیا تھا جبکہ پارٹی کی بی۔ٹیم نے سواں میں علحیدہ دفتر قائم کررکھا ہے کیونکہ پارٹی کے مرکزی دفتر میں انہیں پذیرائی نہیں ملتی۔یہ بھی یاد رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود کے لئے قابل قبول بننے کیلئے ان عہدیداران نے ہرممکن کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہیں ہوئی کیونکہ بیرسٹر سلطان محمود ان عہدیداران کو اپنے لئے سیاسی بوجھ سمجھتے ہیں اور تحریک انصاف کے کارکنان کی اکثریت انکے خلاف ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ بی ٹیم نے اس دوران گراؤنڈ پر کام کرکے لوگوں کی پاور حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس میں بھی تاحال کامیاب نہیں ہوسکے۔

ہرطرف سے سیاسی راستے بند دیکھ کر تحریک انصاف کی بی ٹیم بلاآخر مجاہد منزل پہنچ گئی اور سردار عتیق احمد خان سے مدد اور رہنمائی طلب کی۔اس ملاقات کے بعد تحریک انصاف کی بی ٹیم نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ ریاست جموں وکشمیر کی وحدت پر کوئی سودا کیا جائے گا اور نہ ہی آزادکشمیر کے موجودہ اسٹیٹس میں کسی قسم کی تبدیلی قبول ہے ۔ آزادکشمیر کی سیاسی قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے رائے شماری کے نعرے کی بنیاد پر اکھٹی ہوکر کشمیریوں کی ہر محاذ پر حمایت کرے گی اور انہیں کسی بھی قیمت پر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم اور مسلم کانفرنس کے سابق صدر سردار عتیق احمد خان اور تحریک انصاف آزادکشمیر کے جنرل سیکرٹری راجہ مصدق خان نے مشترکہ طور پردونوں جماعتوں کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ تحریک آزادی کی خاطر مسلم کانفرنس تحریک انصاف کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لیے تیار ہے۔ راجہ مصدق خان نے کہا کہ مسلم کانفرنس ریاست جموں وکشمیرکی ایک پرانی جماعت ہے اور کشمیریوں کے حقوق اور آزادی کے لیے اس کی جدوجہد تاریخ ساز ہے۔ یاد رہے کہ راجہ مصدق کی قیادت میں تحریک انصاف کی بی ٹیم ایک جانب اس پریس ریلیز میں کشمیر کی وحدت پر سمجھوتہ نہ کرنے اور آزادکشمیر کا موجودہ سٹیٹس تبدیل نہ کرنے بات کررہی ہے جب کہ دوسری جانب تحریک انصاف کا ایسا آئین قبول کیا ہوا جس میں آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کو نہ صرف صوبہ لکھا گیا بلکہ صوبائی طرز پر پارٹی کا انتظامی ڈھانچہ بھی بنایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں