حکومت سرمایہ کاروں کو بیورو کریسی کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑے گی،سردارتنویرالیاس

لاہور(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ و ٹریڈ سردار تنویرالیاس خان نے وفاق اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کے ایک بڑے وفدسے ملاقات میں انہیں ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے حکومت کی سنجیدہ کوششوں سے آگاہ کیا۔

سرمایہ کاروں کے مختلف سوالوں کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کو وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی پرخلوص قیادت پر یقین رکھنا چاہیے، وہ آپ کو کبھی بھی بیورو کریسی کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونے دینگے۔عمران خان ملک میں حقیقی طورپرسرمایہ کاری کے خواہاں ہیں اور وہ آپ کے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرینگے، وہ ہر فیصلہ سوچ سمجھ اور تدبر سے کرنے کے عادی ہیں وہ عجلت میں فیصلے نہیں کرتے تاکہ کوئی غلطی سرزدنہ ہو۔انہوں نے کہاکہ آپ نے جن مشکلات کی نشاندہی کی ہے اس حوالے سے میں وزیر اعظم کو کچھ دن پہلے آگاہ کرچکا ہوں اور پھر بھی انہیں تجاویز پیش کروں گا، میرے علاوہ بھی لوگوں نے وزیراعظم کو انہی حقائق سے آگاہ کیا ہے۔

سردار تنویر الیاس خان نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف میں صنعتکاروں،سرمایہ کاروں سمیت انتہائی مخلص اورایماندار لوگ بھی شامل ہیں جو مدتوں سے بیورو کریسی اور ظالمانہ نظام سے تنگ آچکے ہیں۔وزیراعظم کو اس حوالے سے تجاویز دی جاچکی ہیں کہ تجارت،سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں مرکز اور تمام صوبوں میں یکساں طور پر دور کی جانی ضروری ہیں اوررخنے ڈالنے والے بیورو کریٹس کو فوری طورپر متعلقہ عہدوں سے الگ کردینا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ یہ بات ہر فورم پر کی جاتی ہے کہ بیورو کریسی بڑے عہدوں پر اپنے پلاٹ،پراڈو اور لینڈ کروزر کے مزے لینے کے لئے براجمان رہتی ہے اور ان کا منفی طرز عمل ملکی سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے،اس بات میں وزن ہے اور حقیقت بھی،وزیراعظم خود بھی اس سے آگاہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ سنگاپور،کوریا اور ملیشیا نے ہمارے بعد ترقی شروع کی اور آگے نکل گئے مگر ہمارے ہاں کوئی تو ہے جو ترقی روک کر اسے پیچھے دھکیلناچاہتا ہے اب جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں بیورو کریسی کو احتساب کے شکنجے سے بے خوف کر دیا گیاہے اسکے باوجود یہ کام نہیں کرتے تو پھر ایسے افراد کو نہ صرف جبری برطرف کردیا جانا چاہیے بلکہ یحییٰ خان دور کی طرح ایک کمیشن بنا کر انکی جائیدادوں،بینک بیلنس،زیر کفالت اور قریبی رشتہ داروں کی جائیدادوں کے بارے میں معلومات کے بعد انہیں نشان عبرت بنانا چاہیے جنہوں نے پاکستان کو دشمن سے زیادہ نقصان پہنچایا۔انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ سوال سو فیصد درست ہے کہ جن لوگوں نے دنیا نہیں دیکھی ،کبھی کاروبار نہیں کیا نہ ہی ترقی یافتہ ملکوں میں جاکر ان کی ترقی کے حوالے سے کوئی تحقیق کی ہمارے اداروں کے اعلیٰ ترین منصبوں پر فائز ہوکر مال بٹورنے میں مصروف ہیں انھیں اس کا احساس نہیں کہ وہ اپنے یا اپنے خاندان کا بھلا کرنے کیلئے ملک اور قوم کا کتنا نقصان کررہے ہیں ان کی وجہ سے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ بیروزگار ہیں اور وفاقی دارلحکومت میں تو خود وزیراعظم کو پناہ گاہوں کے دوروں کے دوران نوجوانوں نے بتایا کہ وفاقی دارلحکومت میں سالوں سے کام منجمد ہے اور مزدوری نہیں مل رہی،تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی یہ مزدور پر امید تھے کہ اسلام آباد کے ہر طرف بڑی بڑی کرینیں لگی نظر آئیں گی اور ترقی کا پہیہ وفاق سے گھومتے ہوئے صوبوں تک پھیلتا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا ،آپ کا یہ تجویز نما سوال بھی درست ہے کہ بیورو کریسی نے کوئی ذاتی مفاد اور کچھ سیاسی جماعتوں سے وراثتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی خاطر ترقی کو منجمد کر دیا ہے اور ان افسران سے چھٹکارا حاصل کرنا ملک اور قوم پر بڑا احسان ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ میں اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتا کہ ترقی کا پہیہ روک کر نوجوانوں کو اشتعال دلا کر تحریک انصاف کے خلاف اکسایا جاسکتا ہے البتہ نوجوان ناراض ضرور ہوسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بیورو کریسی کو فوری طورپر برطرف کرتے ہوئے سزائیں دینے کی تجویز آپ کے علاوہ دیگر لوگ بھی ہر جگہ پیش کرتے ہیں اگر سزائیں نہ بھی دی جائیں تو ایسے لوگوں کو معطل کرکے کسی پول میں ضرور ڈالا جاسکتا ہے جو ہر حکومت کرتی رہی ہے دیگر حکومتیں تو اپنی ذاتی مقاصد اور اغراض کے لئے کرتی تھیں مگر موجودہ حکومت کو یہ کام ملک کی بہتری اور فلاح کے لئے کرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم جہاں ملک کی ایک ایک پائی بچانا چاہتے ہیں وہاں وہ چاہتے ہیں کہ ایک ایک پائی سے لیکر اربوں کھربوں روپے کی ملک میں سرمایہ کاری ہو انھیں اس بات کا احساس ہے کہ غریب کس طرح زندگی گزار رہا ہے اسی لئے وہ آدھی رات کو گرم بستر سے نکل کر پناہ گاہوں میں گئے اور وہاں سب سے پہلے ہیٹر دیکھے کہ وہ چل رہے ہیں یا نہیں۔انھوں نے کہا کہ میں اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ مرکز اور صوبوں میں سرکاری عہدوں پر براجمان بیورو کریسی کا ایک ٹولا ملک کی ترقی اور سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے ہم جن سرمایہ کاروں کو منا کر لاتے ہیں وہ ہم پر یقین کے باوجود جب اپنے ذرائع اور دیگر لوگوں سے معلومات حاصل کرتے ہیں اور انھیں جب معلوم ہوتا ہے کہ بیورو کریسی کوئی کام کرنے نہیں دے گی تو وہ سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں جس سے ہماری تمام تر کوششیں ،کاوشیں اور ذاتی اخراجات بھی ضائع ہوجاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں آپ کی تجاویز پھر وزیراعظم تک پہنچائوں گا اور ایسے تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا جو ملکی سرمایہ کاری اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر بھی کہیں ترقی دیکھیں تو وہاں بھی مداخلت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں دیر ضرور ہوتی ہے اندھیر نہیں ہوتا اور بیوروکریسی کو تحریک انصاف کی حکومت کوناکام بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں