ایسا واقعات جو تحریر کرنے مشکل ہو گئے

تحریر:عامر اقبال

دن بھر کی دوڑ دھوپ سے تھک کر وہ دس منٹ بھی نہ سویا تھا کہ فون کی بل بجی ناگواری کے ساتھ فون اٹھایا تو سلام دعا کے بغیر ھی ایک اجنبی نے پوچھا حاجی صاحب کدھر ھے تم …. اس نے کہا بھائی غلط نمبر ڈائل کر دیا ھے اسنے فون بند کیا ۔ لیکن دوبارہ آنکھ لگتے ھی پھر بل بجی تو پھر وھی سوال کہ حاجی صاحب تم کدھر ھے – میں نے جواب دئیے بغیر ھی فون بند کر دیا –

اگلے دس منٹ بعد پھر یہی عمل ھوا اب کی بار میں نے سوچا اس سے پوچھ تو لوں کہ اسے کیا پرابلم ھے – جیسے ھی اس نے کہا حاجی صاحب ھمیں ادھر بلا کر تم کدھر ھے – تو میں نے اس سے کہا کہ حاجی صاحب گھر پر نہیں ھیں تم بتاؤ کیا مسئلہ ھے میں انکا منشی بول رھا ھو ۔ بار بار فون کرنے والے نے کہا یارا منشی صاحب ھم بیمار ھے اور حاجی صاحب نے ھم کو ادھر اسلام آباد علاج کے لئے بلایا تھا ابھی ھم اس سردی میں ھسپتال کے باھر بیٹھا ھے اور حاجی صاحب نہی مل رھا ھے – اس نے فون کرنے والے سے ھسپتال کا نام پوچھا اور ڈرائیور سے کہا گاڑی نکالو اور ساتھ ایک کمبل بھی رکھ لو –

ھم پندرہ بیس منٹ میں ھسپتال کے مین گیٹ پر پہنچ گئے – سردی میں باریک سی چادر اوڑھے ایک بزرگ کو بیٹھے دیکھا تو اسے شک ھوا کہ یہی ھوگا ۔ چنانچہ اس نے سلام کیا اور پوچھا حاجی صاحب کو آپ نے فون کیا تھا وہ جھٹ سے بولا کدھر ھے حاجی صاحب ھم کو بلا کر خجل کیا ھے — اس نے کہا حاجی صاحب کسی کام سے آسلام آباد سے باھر گیا ھے میں انکا منشی ھو بتائیں اپکو کیا مشکل ھے – تھوڑی سی تفصیل جان کر اس نے اپنے کزن کو فون کیا جو اسی ھسپیٹل میں ڈاکٹر تھا –

مختصر یہ کہ مریض علاج کے لئے داخل ھو گیا – ڈرائیور نے کمبل بابے کے بیڈ پر رکھا اور ھم واپس گھر آ گئے دوسرے دن وہ اسے دیکھنے کے لئے گیا توبہت خوش تھا اور حاجی صاحب کو دعائیں دے رھا تھا – ھمارا علاج تو ادھر وزیر کی طرح ھوتا ھے – پانچ چھ دن وہ ھسپیٹل میں رھا اور منشی بھی اسے روزانہ دیکھنے اور خدمت کے لئے جاتا رھا – جب ھاسپیٹل سے ڈسچارچ ھوا تو منشی نے ڈرائیور سے کہا کہ بابے کو اس کے گھر جو صوبہ سرحد میں کسی جگہ پر تھا پہنچا آ ؤ – مریض اب صحت مند تھا گاڑی میں بیٹھتے وقت بھی حاجی صاحب کو دعائیں دے رھا تھا – بابا اپنے گھر کی طرف روانہ ھوا اور منشی ٹیکسی کر کے گھر آ گیا –

ھفتے بھر کے بعد فون پر ایک اور کال آ ئی سلام کرتے ھیں ھی بولنے والے نے کہا کہ میں فلاں حاجی بول رھا ھو – آپ کون ھیں اور کدھر رھتے ھیں .آپ نے میرے بلائے ھوئے ایک غریب آدمی کا علاج میرا منشی بن کر کرایا ھے وہ میرا شکریہ ادا کرنے آیا تھا اور مجھے کہا کہ یار حاجی صاحب تمہارا منشی بہت اچھا بندہ ھے – اس کو کبھی بھی نوکری سے نہ نکالنا .اس نے ھمیں کمبل دیا کھانا بھی دیا علاج بھی کرایا اور گھر پہنچنے کے لئے پیجارو جیپ بھی دیا –

یہ باتیں کرتے ھوئے حاجی صاحب کی ھچکیاں لگ رھی تھیں اور کہہ رھے تھے میں مرنے سے پہلے منشی جی اپکو ملنا چاھتا ھوں مجھے اپنے گھر کا پتا بتاؤ – اس نے حاجی صاحب کو گھر کا پتا بتایا – دوسرے دن ھی حاجی صاحب اپنے منشی کا دیدار کرنے اسکے گھر پہنچے اور منشی صاحب کو گلے لگایا اسکے ھاتھ چومتے ھوئے کہا یار منشی صاحب کبھی کبھار یہ رانگ نمبر پر کی گئی کال بھی کتنی فائدے مند اور عظیم ھوتی ھے –
ایسے منشی جس گروپ میں ھوں وہ گروپ خیر کے کام نہ کرتا تو پھر بھلا کیا کرتا –

اپنا تبصرہ بھیجیں