دو اسلام

اکثر لوگ کہتے رہتے ہیں کہ دینِ اسلام صرف ایک ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ اسلام ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔

● ایک اسلام وہ جو دُنیا کے سب سے بہترین لیڈر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے بطورِ مکمل ضابطہ حیات ہر ذی روح کی بھلائی کے لئے آیا جبکہ دوسرا وہ خود ساختہ اسلام جو ہمارے مُلک، محلے، شہر یا گاؤں کے مولوی صاحب نے صرف اپنے مسلکی فائدے کی چادر میں لپیٹ کر ہم تک پہنچایا۔

● ایک اسلام ہمیں تحقیق، سائنس، جدّت، ترقی پسندی اور دنیا و آخرت کی بھلائی کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرا اسلام قدامت پسندی، دھاگہ تعویذ، دم درود، زیارتوں و مزاروں پہ سجدے کرانا، غریب اور سیدھے سادے لوگوں کو جہاد کے نام پر جنت میں پہنچا کر مال کمانا اور ناچ ناچ کر یار منانا سیکھاتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں اپنی زندگی عین اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنے کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرے اسلام کو ہم اپنے فائدے، مرضی اور ضرورت کے مطابق کہیں سے یا کسی طرف بھی موڑ لیتے ہیں۔

● ایک اسلام ہمیں کافر کو بھی کافر کہنے سے صرف اس لئے روکتا ہیکہ مبادا وہ کل مسلمان ہو جائے جبکہ دوسرا اسلام ہمیں مسلک کی آگ میں جھلسا کر کافر کافر کا کھیل کھیلتے ہوئے خون خرابا کرنا سیکھاتا ہے۔ اس اسلام کی عبادات و صوم و صلوات کا طریقہ کار اور وقت بھی دوسروں سے مختلف ہے اور جو کوئی بھی اُس طریقہ کار سے ہٹ گیا وہ دین بدر کر دیا جاتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں خدا کی قربت کا درس دیتا ہے، جبکہ دوسرا اسلام ہمیں غفور و رحیم خدا پاک سے صرف ڈراتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرا اسلام دنیا کو بے مقصد و فانی چیز بتاتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں سیکھاتا ہیکہ رب پاک “رب العالمین” اور نبی پاک “رحمتہ للعالمین” ہیں جبکہ دوسرا اسلام خدا اور نبی پاک پہ صرف اپنا حق جتانے اور قبضہ جمانے کا درس دیتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں بطورِ نمونہ اپنےآپ کو غیر مسلموں کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ وہ ہمارے حسنِ سلوک یا اخلاق سے متاثر ہو کر اسے قبول کریں جبکہ دوسرا اسلام غیر مسلم لڑکیوں کو اغواہ کرنے کے بعد ہوس مٹانے کے لئے زبردستی مسلمان بنانے کی بات کرتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں قرآنی آیات پہ تحقیق کرنے کا درس دیتا ہے، جبکہ دوسرا اسلام جائیداد کی خاطر بہن بیٹی کا قرآن سے نکاح کروانے، محفلوں اور عدالتوں میں جھوٹی قسمیں کھانے، برکت کے لئے طاق میں سجانے، دلہن کو سائے سے گزارنے، تراویح و نماز پڑھانے کے لئے رٹا لگانے یا بغیر معنی سمجھے خالی حفظ کر کے “حافظ صاحب” کہلانے کی بات کرتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرا اسلام ہمیں فلان بن فلان سے منسوب روایات سے آگے سوچنے سے منع کرتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں اپنی زندگی قرآن کے مطابق گزارنے کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرا اسلام زندوں کو فضائل اعمال، بہشتی زیور، فتاوى اور استفتات، تہذیبِ الاحکام، خطباتِ اہلحدیث، نور یا بشر، قصیدہ بُردہ شریف، اصولِ اربعہ اور پکی روٹی پڑھاتا اور اُسی انسان کی وفات کے بعد مرحوم کو قرآن پڑھ کر بخشنے کی تعلیمات دیتا ہے۔

● ایک اسلام انسانیت کی بھلائی کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرا اسلام ہمیں نفرت کرنا سیکھاتا ہے۔

● ایک اسلام ظالم و طاقتور کے سامنے کلمہ حق کہنے کا درس دیتا ہے جبکہ دوسرا اسلام طاقتور کے در پہ سائل و سوالی اور غریب کے لئے غنڈہ و موالی بن جاتا ہے۔

● ایک اسلام ہمیں ہر ریاستی شہری کو برابر حقوق دینے کی بات کرتا ہے چاہے اُس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو جبکہ دوسرا اسلام مذہبی انتہا پسندی، جنونیت اور نفرت کرنا سیکھاتا ہے۔

یقین کیجئے جب تک ہمارے مدارس و مساجد سے کا کڑا احتساب نہیں ہوتا، مسلکی تعصب، کافر کافر کی صدائیں اور من گھڑت کہانیاں ختم کر کے تمام مذہبی ادارے اُوقاف کے حوالے نہیں کئے جاتے اور چندے کا دھندہ بند کر کے تمام ذمہ داران کو سرکاری خزانے سے تنخواہ نہیں دی جاتی تب تک ہم لوگ اصلی اور نقلی اسلام کا فرق نہیں جان سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں