امریکیوں نے 10 بار گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا مگر انہیں ملا عمر کا سایہ بھی نہ مل سکا ، اس کی ایک خاص وجہ تھی ۔۔۔۔ افغان طالبان کے سینئر رہنما کو 12 سال تک پناہ دینے والی شخصیت نے حیران کن واقعات بیان کردیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)افغان طالبان کے ایک سینئر رہنما ملاعبد الجبار عمری، جس نے تحریک کے بانی ملا محمد عمر کو ان کی وفات تک تقریباً 12 سال تک اپنے گھر میں پناہ دی تھی،نے کہا

ہے کہ ملا عمر افغان صوبے زابل میں فوت ہوئے اور وہیں ان کی تدفین کی گئی ،ان کے گھر پر غیر ملکی اور افغان فورسز نے 10 چھاپے مارے تھے لیکن ملا عمر گرفتاری سے بچ گئے تھے ۔

ملا جبار، جو کہ طالبان کی حکومت میں شمالی صوبے بغلان کے گورنر اور طالبان کے ایک اہم فوجی کمانڈر تھے ، کا کہنا ہے کہ ملا عمر اور چند اور لوگوں کے ساتھ غیر ملکی افواج کے قندھار پر حملوں کے بعد وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور اپریل 2013 میں وفات تک جنوبی صوبہ زابل کے عمرزو گائوں میں اس کے گھرمیں موجود رہے ۔

طالبان نے 2015 میں ملا عمر کی وفات کی تصدیق کی تھی لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں اور کیسے فوت ہوئے تھے ۔ افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے اہلکاروں نے اس وقت دعوی کیا تھا کہ طالبان کے بانی کراچی کے ایک ہسپتال میں علاج کے دوران وفات پا گئے تھے-

لیکن ملا جبار عمری نے انکشاف کیا ہے کہ ملا عمر12 سال تک صوبہ زابل میں ان کے گھرمیں موجود رہے اور کبھی اس گھر سے باہر نہیں گئے تھے ۔ ملا عمر کی وفات کے 3 دن بعد ان کے بیٹے ملا یعقوب اور بھائی ملا عبد المنان عمرزو گائوں آئے تھے اور ان کے لئے قبر کھود کر میت دکھائی گئی تھی اور انہوں نے شناخت کی تصدیق کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں