کھانے اور چائے پر بلانا بھی ہراساں کرنے میں شامل

کراچی (ویب ڈیسک) وفاقی محتسب برائے انسدادِ جنسی ہراسانی کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ کھانے اور چائے پر بلانا بھی ہراساں کرنے میں شامل ہے۔ کراچی میں خواتین کو دفاتر میں ہراساں

کرنے کے خلاف نجی انسٹیٹیوٹ میں سیمنار ہوا جس میں وفاقی محتسب برائے انسداد جنسی ہراسانی کشمالہ طارق نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب میں کشمالہ طارق کا کہنا تھا کہ ہراسانی

کا واقعہ ہو تو والدین کہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے لیکن ہمیں یہ خوف ختم کرنا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہراساں کرے تو وفاقی محتسب سیکریٹریٹ برائے انسداد جنسی ہراسانی (فوسپا) سے رابطہ کریں-

فوسپا مردوں کے حقوق کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کشمالہ طارق کا کہنا تھا کہ کھانے اور چائے پر بلانابھی ہراساں کرنے میں شامل ہے۔ وفاقی محتسب برائے انسداد جنسی ہراسانی نے کہا کہ جب عہدہ سنبھالا تو مہینے کے 5 کیسسز آتے تھے-

اب تعداد 60 ہوگئی، اِس ادارے میں وکیل کے بغیر بھی اپنا کیس لڑ جاسکتا ہے، آسانی کے لیے ہم نے آن لائن کیس فائل کرنے کا بھی آپشن دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ثبوت کی بناء پر 5 سال پرانا کیس بھی ریکارڈ کرایا جاسکتا ہے، ہر ادارے میں ہراسانی سے متعلق ایک محکمہ لازمی ہے-

ہمارے پاس طلبہ اور اساتذہ کے کیسز بھی فائل ہوتے ہیں، ہم کیس فائل کر کے کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتے۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور سائبر کرائم سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں-

ایف ائی اے سے بھی مدد لیتے ہیں اور فرانزک کرواتے ہیں۔ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کشمالہ طارق کا کہنا ہے کہ خواتین کو گڈ مارننگ کا میسج بھیجنا بھی ہراساںی کے زمرے میں آتا ہے۔

2 سال قبل دنیا بھر میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف شروع ہونے والی ’می ٹو‘ مہم کے بعد پاکستان میں بھی اس حوالے سے بھی بحث نے جنم لیا اور گلوگار علی ظفر پر میشا شفیع کے الزامات کے بعد اس بحث نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔

لیکن اب وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کشمالہ طارق نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں ’ویمن ڈے‘ کے حوالے سے تقریب میں ہراسانی کی تعریف بیان کی۔

مزید دیکھیں

گاڑیوں کے شوقین افراد مختلف ماڈلز میں سفر کے لیے تیار ہوجائیں۔۔۔ 2020ء میں پاکستان میں کونسی نئی گاڑیاں متعارف کرائی جائیں گی؟ جانیے

اپنا تبصرہ بھیجیں