نقطہ نظر /راجہ خرم زاہد

تبدیلی کا رخ آزادکشمیر کی طرف

پاکستان میں تبدیلی اپنے پنجھے گاڑھنے کے بعد آزادکشمیر کی طرف اڑان بھر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے مسلم کانفرنس دور کے سابق وزیراعظم اور موجودہ مسلم لیگ نواز کے سینیئر

رہنما اور سالارِ جمہوریت کا خطاب پانے والے سردار سکندر حیات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اور خبریں آ رہی ہیں کہ فروری تک مسلم لیگ نواز آزادکشمیر میں فاروڈ بلاک قائم کر دیا جائے گا-

جس میں کچھ سہولت کاری موجودہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی اور پنڈی کی فیورٹ شخصیت شاہ غلام قادر بھی کرینگےجو ہمیشہ سے ہی وزارت عظمی کی دوڑٹ میں شامل رہے ہیں۔ آذادکشمیر میں تبدیلی کے لیے ہمیشہ سے ہی پنچھ تیار رہتے ہیں بس وفاق سے بلاوا آنے کی دیر ہوتی ہے-

لیکن اس بار شاید حالات تھوڑے مختلف ہونگے اور تبدیلی سرکار کو آزادکشمیر کے اندر تبدیلی لانے میں مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں۔ ایک تو آزادکشمیر میں تبدیلی کی قیادت کی اب عوام میں کوئی خاص پذیرائی نہیں رہی –

کیونکہ سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے آزادکشمیر میں جماعتیں بنانے اور تبدیل کرنے کا شاید ریکارڈ قائم کیو ہوا ہے، وفاق میں جو بھی حکومت ہو موصوف اسی پارٹی میں شامل رہتے ہیں، اور پھر جب اپنی جامعت کے قیام کا فیصلہ کیا تو اس کا نام پیپلز مسلم لیگ رکھا اور اس کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ وفاق میں پیپلز پارٹی یا ن لیگ میں سے کسی بھی پارٹی میں ضم کیا جا سکتا ہے-

بس اشارے کی دیر ہے اور پھر موصوف نے اپنی جماعت کو پیپلز پارٹی میں ضم کیا لیکن وزارت عظمی جب نہ مل سکی تو خود کو تحریک انصاف کی جھولی میں ڈال دیا۔ عمران خان نے 22 سال جدوجہد کے بعد آزادکشمیر میں تبدیلی کی قیادت کا جو ہیرا تراشا وہ اب عروج سے زوال کی جانب گامزن ہے-

اسی لیے اب اس ہیرے کو اپنے جیسے ایک اور ہیرے کی ضرورت ہے جو ہمیشہ سے ہی تبدیلی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے سابق وزرائے اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور سردار سکندر حیات کی ملاقات کے بعد آزادکشمیر میں تبدیلی کی قیاس آرائیاں جاری ہیں اور حکمران جماعت کے اندر بھی سب معاملات ٹھیک نہیں ہیں-

جس کا اندازہ گزشتہ دنوں وزیراِ اطلاعات مشتاق منہاس اور شاہ غلام قادر سے متعلق اختلافات سے سامنے آیا۔ آزادکشمیر کی حکمران جماعت نے اپنے اراکین اسمبلی کو سنبھالنے کے لیے وزارتوں کے منہ پہلے سے ہی کھولے ہوئے ہیں لیکن اگر وفاق یا وفاق کے مضافات سے کوئی صدا لگتی ہے تو پھر آزادکشمیر کے سیاستدانوں کے پاس لبیک کہنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا –

مگر اب کی بار وفاق میں بھی تبدیلی سرکار مشکلات میں ہے اور ایک غیر یقینی پائی جاتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو آنے والے دنوں میںکن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، حکومت کے اندر فاروڈ بلاک اور اتحادیوں کی آئے روز ناراضگیوں نے بے یقینی کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں-

ان حالات میں سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار سکندر حیات خان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات محض سیاسی بلیک میلنگ سے زیادہ کچھ نہیں لگتی کیونکہ ایک اور سابق وزیراعظم جو ہمیشہ سے ہی سول ملٹری ڈیموکریسی کے نعرے سے برسر اقتدار آئے وہ بھی شاید اس کے حامی نہیں ہوں گے-

وہ اپنے مدمقابل کسی اور کو فیورٹ بننے دینے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے پر ہی سارا زور لگائیں گے۔ دوسری بات بیرسٹر سلطان محمود اور تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیشنگوئی کرنا مشکل ہے اور یہ بات بھی اڑتے پنچھیوں کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

تیسرے بات آزادکشمیر میں اس وقت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے عوامی سطح پر ایک رد عمل پایا جاتا ہے اور عام آدمی کا یہی خیال ہے کہ وفاق میں بیٹھی تحریک انصاف نے محض ایک تقریر اور آدھے گھنٹے کی خاموشی کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔

ان سب حالات میں آزادکشمیر کے اندر تبدیلی کا امکانات فی الحال معدوم سے ہیں باقی آزادکشمیر اڑتے پنچھیوں کا ہرا بھرا دیس ہے جس موسم بنتا ہے تو یہ پنچھی اڑنے میں دیر نہیں لگاتے یہاں نہ کوئی نظریات ہیں اور نہ ہی عوامی سطح پر کوئی خاص مزاحمت ہوتی ہے-

جس کی ایک وجہ برادریوں کے گرد گھومتی سیاست ہے لیڈر جب کسی سیاسی جامعت میں جاتا ہے تو کارکن اور برادری اس کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں