تنخواہیں لے کر تم لوگ کہاں سو رہے ہو، نوکری بچانی ہے تو۔۔۔حکومت نے شیخ رشید سمیت دیگر بڑے بڑے وزیروں سے جواب طلب کر لیا

کراچی (ویب ڈیسک)سندھ ہائیکورٹ میں ملک میں آٹے ،گندم کے بحران،سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی سے متعلق کیس میں پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم ،خسرو بختیار اور وزیر ریلوے شیخ رشید

اور دیگر کو نوٹسز جاری کردیئے،عدالت نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں ملک میں آٹے،گندم کے بحران،سمگلنگ اورذخیرہ

اندوزی سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی ، درخواست میں پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم ،خسرو بختیار اور وزیر ریلوے شیخ رشید اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا،عدالت نے درخواستگزار سے استفسار کیاکہ آپ نے شیخ رشید کو فریق کیوں بنایا؟

۔درخواست گزار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید نے بیان دیاہے کہ غریب نومبر اور دسمبر میں روٹی زیادہ کھاتے ہیں ،جسٹس محمد علی مظہر نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹا بحران پر آپ لوگ کیا کررہے ہیں ؟،

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ بحران پورے ملک میں ہے سندھ حکومت قا بو پانے کی کوشش کررہی ہے،عدالت نے کہا کہ بین الصوبائی ترسیل پابندی کیوں نہیں لگاتے ؟۔عدالت نے ملک میں آٹے،گندم کے بحران پر پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم ،خسرو بختیار اور وزیر ریلوے شیخ رشید کو نوٹس جاری کردیئے-

عدالت نے سیکرٹری خزانہ چیف سیکرٹری ،ڈی جی نیب سندھ،چیئرمین صوبائی اینٹی کرپشن اوردیگر کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے صوبائی اوروفاقی حکومت سے 7 فروری تک جواب طلب کرلیا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کیلئے خیرسگالی کے طور پر روزانہ کی بنیاد پر 5 ہزار ٹن گندم بھجوانے کی منظوری دیدی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بہن بھائیوں کی مدد ہمارا فرض ہے۔ پنجاب حکومت اپنے سٹاک سے خیبرپختونخوا کو روزانہ 5 ہزار ٹن گندم فراہم کرے گی اور یہ اقدام خیبرپختونخوا میں آٹے کی قلت کو دور کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے آٹے کی قیمتوں میں استحکام کیلئے ضروری اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ چکی آٹے کی قیمت میں بلاجواز اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔ چکی آٹا کی قیمت میں استحکام کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکے حکم پر محکمہ خوراک نے صوبہ بھر میں فلور ملوں کی انسپکشن کی اوراب تک مجموعی طور پر 1119 انسپکشن کی گئی ہیں اور 542فلورملوں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے گندم کا کوٹہ معطل کیا گیا-

جبکہ 88فلور ملوں کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں اور 14 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں

اب ہم ترنگا پاکستان میں لہرائیں‌گے،عمران ٹرمپ ملاقات پر بھارتی میڈیا کا غصہ

اپنا تبصرہ بھیجیں