نقطہ نظر/ملک عبدالحکیم کشمیری

کبھی اُن کے در کبھی دربدر

سکندر حیات کی عمران خان سے ملاقات،آزادکشمیر کے اخبارات کیلئے ”ہاٹ کیک“خبر تھی،جلی شہ سرخیوں کی شکل میں شائع ہونے والی اس ملاقات کو آزادکشمیر میں حکومتی تبدیلی سے جوڑا گیا……گرچہ چائے کی پیالی میں برپا کیے گئے اس طوفان کا فائدہ اٹھانے کی سلطان محمود کوشش ضرور کریں گے کیونکہ اس طرح کی سرگرمیاں دستیاب سیاست کے اقتدار پرست سیاستدانوں کیلئے ہوا (اقتدار)کی سمت کا تعین کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں مگر اس ملاقات سے فاروق حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔

دلیل یہ کہ آزادکشمیر کی لیگی حکومت کا ڈیڑھ سال باقی ہے،اخلاقیات اور اصولوں سے دور دور تک واسطہ نہ رکھنے کے باوجود یہ امید کی جا سکتی ہے کہ عمران خان پاکستان کے اندرونی مسائل (مہنگائی‘اتحادیوں کے اختلافات)کی وجہ سے اس بے گناہ لذت کا حصہ نہ بنیں اور ساتھ یہ کہ اختیارات کے حقیقی مراکز مبینہ خواہش کے باوجود بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حالات کی وجہ سے ایسی کسی بھی مشق کے متحمل نہیں ہو سکتے،سو بحیثیت چیف ایگزیکٹیو آزادکشمیر تابعداری سے ناواقف فاروق حیدر ”گڈگورننس“کے ثمرات سے فیض یاب ہوتے رہیں گے۔

فرض کریں یہ فیصلہ ہو چکا کہ حکومت کی تبدیلی ناگزیر …………تو متبادل کوئی ایک ہوگا‘سب وزیر اعظم تو نہیں بن سکتے۔ایسے میں مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی سینئر قیادت طارق فاروق،شاہ غلام قادر،نجیب نقی 2016میں وزارت عظمیٰ کے لئے نواز شریف کے نامزد امیدوار مشتاق منہاس اسمبلی کے اندر دو چار ممبران اسمبلی کی قیادت کرنے والے چوہدری عزیز کیلئے باعث کشش کیا ہے؟پرانی تنخواہ پر ہی گزارہ کرنا ہے تو پھر فاروق حیدر ہی بہتر ہے۔

رہی بات سکندر حیات کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی اس بارے میں خود سکندر حیات تردید کر چکے ہیں یہ خیال آزادکشمیر میں آئندہ حکومت پی ٹی آئی کی بنے گی قابل غور ہے‘اس لئے کہ پاکستان میں تحریک انصاف کو تیسری سیاسی قوت کے طور پر متعارف کروانے والوں کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔پہلے سے موجود لیڈر شپ کو آہستہ آہستہ سیاسی میدان میں اترنے کا راستہ دیا جا رہا ہے۔یوں مستقبل کا سیاسی منظر دھندلا ہے،۔ایسے میں کائیاں سیاستدانوں کی قابل ذکر تعداد سلطان محمود کے کہنے پر پی ٹی آئی کا حصہ نہیں بنیں گی۔

الیکٹ ایبلز مخصوص یقین دہانی پر ہی شامل ہوں گے،میری اطلاعات کے مطابق پولیٹیکل انجینئرنگ کے پراجیکٹ پربھی فی الوقت کام رُکا ہوا ہے۔سکندر حیات کے خاندانی ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے تھی یہ بھی درست نہیں۔مسئلہ کشمیر پر آزادکشمیر کے سیاستدانوں کی حیثیت ”ٹول“(Tool)سے زیادہ نہیں۔معاہدہ کراچی کے بعد کی پریکٹس اس کا ثبوت ہے۔حقیقت یہ ملاقات آزادکشمیر کی موجودہ سیاسی حیثیت میں تبدیلی کے حوالے سے تھی۔ 5اگست 2019کو جب بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلی گئی اس کے بعد آزادکشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے کے لئے رائے عامہ ہموار کی جا رہی ہے۔

سکندر حیات وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ اگر آزادکشمیر کو صوبہ بنایا گیا تو میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو اس کی حمایت کروں گا۔آزادکشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی اس خطہ کے سیاستدانوں کی سیاسی موت ہے،تحریک آزادی کشمیر کا ”برانڈ“ فروخت کرنے والوں کی نیندیں حرام ہوئی ہیں۔اختیارات کے مراکز چونکہ ہمیشہ تحریک آزادی کے پشتنی بان ہونے کے دعویدار رہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ سیاستدانوں کے کھاتے میں ڈالا جائے۔عمران خان اس کیلئے تیار ہیں۔اقتدار کی راہداریوں میں قدم رکھنے سے قبل آزادکشمیر کے معتبر اخبار روزنامہ جموں کشمیر نے عمران خان کا ایک انٹرویو کیا تھا جس میں عمران خان نے مسئلہ کشمیر کا بہترین حل تقسیم جموں کشمیر قرار دیا تھا۔

اب مسئلہ آزادکشمیر کے سیاستدانوں کی حمایت کا ہے،فاروق حیدر تقسیم کشمیر کے کسی بھی فیصلے کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔سردار عتیق کا بیانیہ بھی فی الوقت یہی ہے۔پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی بھی تقسیم کشمیر کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔پی ٹی آئی کے سلطان محمود اور سکندر حیات آزادکشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے باالفاظ دیگر تقسیم کشمیر پر متفق ہیں۔تاریخ کا علم رکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ بہت عرصہ قبل چناب فارمولا سکندر حیات کے ذریعے سامنے لایا گیا تھا سو اب بھی غیر مقبول فیصلے کو قبولیت کی سند عطا کرنے کیلئے پیرانہ سالی کے باوجود سکندر حیات میدان میں اترے‘انتظار …………کچھ عرصہ بعد کئی اور بڑے نام اس فہرست میں شامل ہوں گے۔

مسئلہ کشمیر پیدا کرنے والے اسے ختم کرنے کیلئے چہرے پر مجبوریوں کا لوشن لگا کر ایسی حکمت عملی اختیار کریں گے کہ آزادکشمیر کے سیاستدان ایک وقت میں خود مطالبہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے پھرمیں آپ ہم ان کی اولادوں سے تاریخی کہانیاں سنیں گے کہ میرے پاپا بہت بڑے آدمی تھے،آزادکشمیر کے وزیر اعظم ہوا کرتے تھے،ہمارے خاندان کی تحریک آزادی کیلئے گراں قدر خدمات ہیں ………………اور ہم عام آدمی آج کی طرح اس وقت بھی ان کی عظیم الشان سیاسی جدوجہد،حریت کی داستانوں کو باعث تقلید سمجھتے ہوئے اپنی جیب سے درخواست نکال کر ان کے سامنے پیش کریں گے-

اس لئے کہ ہم نے انہیں اپنی قسمت کا مالک تسلیم کر رکھا ہے‘کل سے آج تک اور آج سے آئندہ کل تک ہم نے کبھی انہیں سچ کہا ہی نہیں،ہم تو تابعداری کی آخری منزل پر کھڑے ہیں ……ایسے ماحول میں یہ کہنا کس قدر باعث تسکین ہوگا کہ حضور یہ خطہ آپ کا ہے،آپ نے یہ خطہ تقسیم کیا آپ کا ویژن تھا‘آپ نے ہم پر حکومت کی………… آپ کا حق تھا ……آپ نے ریاستی شناخت کا درس دیا ہم نے یاد کیا-

آپ شناخت سے دست بردار ہوئے،ہم آپ کی تابعداری میں پہلے سے زیادہ مستعدی کے ساتھ دست برداری کو سینے سے لگانے کیلئے تیار ہیں ……آپ کل بھی ہیرو تھے آج بھی ہیرو ہیں۔ہمارے ماں باپ نے آپ کے ماں باپ کو رہبران ملت و قوم تسلیم کیا،ہم اپنے آباؤ اجداد کے مسلک کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں،لاکھوں مارے گے لاکھوں نے ہجرت کی،یہ سب جناب کے آباؤ اجداد کی عظمت کیلئے تھا،یہ تسلسل جاری رہنا چاہئیے،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ وراثت چھوڑ کر لاوارث ہو گئے،آپ گریڈ 22سے کلرک ہو گئے ……آپ خوش ہم خوش،ہم زمین بستہ نسل ہیں۔ہمارے شعور نے آپ کو رہبری کا خدا مانا ہے۔
کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی اُن کے در کبھی دربدر
غمِ عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں