raja shafiq ahmed

عوامی مفادمیری سیاست کامحور،کردارکشی کرنیوالوں کومنہ کی کھاناپڑی،راجہ شفیق

لوٹن(سٹیٹ ویوز)چیئرمین اینڈ میڈیا ایڈوائزر اوور سیز پاکستان مسلم لیگ ن راجہ شفیق احمد نے کہا کہ میری سیاست کا محور و مرکز عوامی مفاد اور علاقائی مسائل کا ترجیحی بنیادوں پرحل ہے۔ حلقہ چڑھوئی میں گزشتہ 9سال سے بغیر کسی لالچ کے ن لیگ کے کارکن کے طورپر ذمہ داریاں نبھائی۔ ہر انتخابی مہم میں وقت اور جتنا کچھ ہوسکا جماعت کیلئے خرچ کیا۔ مسلم لیگ ن کو چڑھوئی میں گراس روٹ لیول سے اوپر لانے میں جتنا کچھ ہوسکا کردارادا کیا اور بالآخر پارٹی کارکن اور عوامی مسائل کیلئے آواز اٹھانے پر سوشل میڈیا میں میرے خلاف بھرپور مہم چلائی گئی میری اور میرے خاندان کی کردار کشی اور ہر اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کیاگیا میرے خلاف ہتک آمیز رویے اور زبان کے استعمال پر بھی مقامی قیادت نے مکمل چپ سادھے رکھی بار بارتنبیہ کرنے کے باوجود زیادتی کاازالہ نہ کیا گیا بلکہ مقامی قیادت کی آشیر باد سے(گالم گلوچ بریگیڈ) کوٹارگٹ دیاگیا کہ میری کردار کشی میں آخری حد تک جائیں مجھے بدترین ذہنی اذیت سے دوچار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب میں سوچا کہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلوں کیونکہ عوامی مفادات کیخلاف آواز اٹھانا جرم ہے۔ تعلیم، تعمیروترقی، صحت سمیت چڑھوئی علاقائی مسائل کی گرداب میں ہے لیکن حق کی بات کرنے کو جرم کراس کی کردار کشی وطیرہ بن چکا ہے۔ کارکنوں کیساتھ زیادتی اوردیگر مسائل حل نہ ہونے پر جب ٹکٹ ہولڈرکیساتھ میں نے راہیں جدا کیں تواس وقت بھی چند کرائے کے لوگوں نے سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پرمیری تذلیل کی اور میرے موقف کوغلط رنگ دینے کیلئے ہر اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کیا لیکن علاقے کے باشعور، باضمیر اور غیور عوام بخوبی واقف ہیں کون حق پر ہے اورکون ذاتی ملازم بن کرذاتی مفادات کیلئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث معصوم سدرا رزاق کے قتل کا معاملہ ہوا حالانکہ میری مقتولہ یا اسکے خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا صرف انسانیت کے ناطے اور انسانیت کے قتل پرآواز اٹھائی جب سدرہ رزاق کے قتل پرمعاملہ اجاگر کیا تو پھر چند ذاتی ملازم اپنی دیہاڑی کی تلاش میں نکل پڑے اورمیرے خلاف پروپیگنڈے کی انتہا کی۔میری آزادکشمیر بیوروکریسی، وزراء اور وزیراعظم تک تمام کیساتھ گزشتہ ایک عشرے سے اچھا تعلق ہے اورہمیشہ ذاتی مفاد کے بجائے علاقائی مسائل کے حوالے سے ان سے رابطہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرصحت نجیب نقی کوبھی تمام سے آگاہ کیا اور چڑھوئی میں دیئے جانیوالے دھرنے کی قیادت عنصر یعقوب ، مقتولہ سدرہ کی فیملی، سکول کے طلباء اور سول سوسائٹی نے اس معصوم کے قتل کیخلاف آواز بلند کی جو ایک بہترین کاوش تھی پرجس انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ دھرنے متاثرین کے مطالبات منظور ہونے پرجب دھرنا ختم ہوا تو حلقہ چڑھوئی کی سول سوسائٹی اور متاثرہ فیملی نے جس قدر میری عزت افزائی وہ زندگی بھر یاد رکھوں گا وہ مجھ پرمتاثرہ فیملی اور اہلیان چڑھوئی کا قرض ہے جن نیک کلمات کیساتھ انہوں میری حوصلہ افزائی کی لیکن دوسری طرف ایک مخصوص لابی آج بھی اسی انتظار میں ہے کہ راجہ شفیق کیخلاف کب ہم لب کشائی کریں اور پروپیگنڈہ کرکے کردارکشی کریں لیکن چڑھوئی کے غیور اور باشعور عوام نے ہمیشہ مجھے بے پناہ عزت دی جس پران کا بے حد مشکور ہوں اورآئندہ بھی عہد کرتا ہوں کہ آئندہ بھی عوامی مسائل کے حل کیلئے اور پسند ناپسند، اقرباء پروری کیخلاف آواز اٹھاتا رہوں گا چاہے اس کیلئے مجھے جو بھی قیمت چکانا پڑے اس سے دریغ نہیں کرونگا۔

2021ء کے الیکشن کے حوالے سے ایسے امیدوار کا چنائو کرینگے جو عوامی مسائل حل کرنے کا درد رکھتا ہوکیونکہ ایک طویل عرصہ جس گروپ اور شخصیت کا ساتھ انہوں نے بدلے میں سوائے رسوائی اور کردار کشی کے کچھ نہیں دیا جبکہ دوسری طرف مظلوم کا ساتھ دینے اور زیادتی کیخلاف آواز اٹھانے پر سول سوسائٹی اورمتاثرہ فیملی کا پیار اور محبت کبھی نہیں بھول سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں