بھارت سے فضائی حدوداورتجارتی تعلقات منجمد،گلگت بلتستان کو مناسب وقت پر صوبہ بنا دینگے،علی امین گنڈاپور

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)وفاقی وزیرامورکشمیروگلگت بلتستان علی امین گنڈا پورنےسٹیٹ ویوزکےایڈیٹر سید خالد گردیزی، کنٹرولرنیوز خواجہ کاشف میر اور رپورٹر فیصل علی کو پینل انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سےکام کوتیزی سےآگےبڑھا رہی ہے۔وہ منصوبے جو گزشتہ 12، 12 سال سےتاخیر کا شکارتھے جس میں سڑکوں اورپلوں کےکئی بڑےمنصوبےشامل ہیں انکو ہماری حکومت مکمل کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے آزادکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بسنے والے شہریوں کے تحفظ اور سہولت کیلئے ایک مکمل پیکیج دیا ہے جس میں ایل او سی کے باسیوں کیلئے بنکرز کا منصوبہ سر فہرست ہے، وفاقی حکومت نے ایل اوسی کیلئے تین بلین روپے(تین ارب ) کی رقم گزشتہ بجٹ میں شامل کیا تھا جس پر اب پی سی ون بن چکے ہیں ، اس منصوبے پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔

وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے آزادکشمیر کی آئینی ترامیم پر پیش رفت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ آزادکشمیر کے آئین میں ترامیم کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک کمیٹی بنا رکھی ہے ، وہ کمیٹی تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل رہی ہے اور جب یہ کمیٹی اپنی سفارشات دے گی اور کوئی فیصلہ کر سکے گی تو تب ہی ان امور پر مزید پیش رفت ہو سکے گی۔

وزیر امور کشمیر نے کہا کہ میں اس حق میں ہوں کہ آزادکشمیر حکومت کے پاس مکمل اختیارات ہونے چاہیے اور وزارت امور کشمیر کا جو ایڈوائزری کا کردار ہے یہی ہونا بھی چاہیئے۔ آزادکشمیر کے آئین میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کو درست کیا جانا چاہیئے، 14 ویں آئینی ترامیم کرانے کا مقصد یہ ہے کہ جو معاملات قومی مفادات سے متعلق ہیں یعنی دفاع اور خارجہ امور سے متعلق جو تحفظات ہیں وہ دور ہونے ضروری ہیں، قومی مفادات سے متعلق امور پر ہم آئینی ترامیم چاہتے ہیں ،آئینی ترامیم کے ذریعے ہم ترقیاتی منصوبے کے اختیارات لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ یہ مقامی حکومت کا کام ہے ۔وفاقی حکومت آزادکشمیر میں پی ایس ڈی پی سے اربوں روپے کے منصوبوں پر کام کرا رہی ہے اور جو مزید ترقیاتی منصوبے وفاقی حکومت نے وہاں لگانے ہوئے وہ بھی پی ایس ڈی پی سے لگاتے رہیں گے اس کیلئے ہمیں آزادکشمیر کی عوام کے ٹیکس سے اکٹھے پیسوں کا اختیار نہیں چاہیے۔ اصل ایشو دفاع اور خارجہ کے امور سے متعلق ہے جن سے قومی مفادات اور قومی سلامتی جڑے ہیں اس لیے ان معاملات پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا۔

علی امین گنڈا پور نے کشمیر کونسل کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت کے آنے سے پہلے آزادکشمیر میں شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز روکے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری حکومت آنے سے قبل کشمیر کونسل نے اپنے ترقیاتی فنڈز سے بہت سے منصوبوں کے ٹینڈر دے دیئے تھے، ان منصوبوں کو ایڈوانس ادائیگیاں بھی کی گئیں ، اس حوالے سے تمام ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے ، ٹھیکیدار ایڈوانس رقم لے گئے لیکن انہوں نے اب تک ان منصوبوں پر کام ہی شروع نہیں کیا، کشمیر کونسل سے ترقیاتی منصوبوں کے اختیارات لے لیے گئے اس لیے ہم ان منصوبوں کیلئے رقوم تو اب دے نہیں سکتے۔ ہم آزادکشمیر حکومت کو کہتے ہیں کہ آپ ہی ان منصوبوں پر کام کرائیں اور ان کو ادائیگیاں بھی کردیں جبکہ آزادکشمیر والے کہتے ہیں کہ ان منصوبوں کیلئے ادائیگیاں وفاقی حکومت کرے ، اب اگر آزادکشمیر حکومت مالی اختیارات خود لینے کا شوق رکھتی ہے تو اسے منصوبے بھی خود دینے چاہیے اور ادائیگیاں بھی خود کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں آزادکشمیر کے اندر کشمیر کونسل کے فنڈز بہت غلط طریقے سے استعمال ہوئے، گزشتہ الیکشن میں کونسل کے فنڈز انتخابی مہم کیلئے دیئے جاتے رہے اور بغیر ٹینڈر کے ادائیگیاں کی گئیں اور بغیر ٹینڈر کے منصوبوں پر کام کرائے گئے۔ آزادکشمیر میں آئینی ترامیم کے حوالے سے جب کمیٹی کی سفارشات سامنے آ جائیں گی تو ہم کشمیر کونسل کے فنڈز کے غلط استعمال اور بغیر ٹینڈر کے منصوبوں کو دی جانے والی رقوم سمیت دیگر معاملات پر انکوائری کرائیں گے۔ جب تک آئینی کمیٹی کی تجاویز سامنے نہیں آجاتیں تب تک ہم ان معاملات پر آگے نہیں بڑھیں گے۔

وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے گلگت بلتستان کے آئینی اور انتظامی اختیارات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم گلگت بلتستان کو صوبائی سیٹ اپ دینا چاہتے تھے چونکہ اسکے ساتھ کشمیر کا مسئلہ منسلک ہے اور ایسے موقع پر جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت آئینی ترامیم کے ذریعے ختم کردی ہے تو اس موقع پر ہمارا مسلہ کشمیر پر پوری دنیا میں جو بیانیہ ہے اس کے اوپر اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ دنیا کہے گی کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اور پاکستان نے گلگت بلتستان میں ایک جیسا اقدام کردیا ہے ۔7 دہائیوں سے کشمیری جو پاکستان کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ، 80 لاکھ کشمیری 6 ماہ سے بھارت نے قید کر رکھے ہیں ، کشمیریوں کے موقف کو ہم نے کافی حد تک انٹرنیشنلائز کربھی دیا ہے، ایسے موقع پر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا تھا۔ اس حوالے سے فارن آفس نے سٹیک ہولڈرز سے میٹنگز کیں تو حریت کانفرنس نے اس عمل کی مخالفت بھی کی تھی ، ہم گلگت بلتستان کیلئے فلحال ریفارمز کر رہے ہیں جس میں ہم گلگت بلتستان کو مزید مضبوط کریں گے، ان ریفارمز کے ذریعے ویاں ہر شعبہ آگے بڑھے گا۔ مائیننگ اور ٹورازم کے شعبے میں واضح تبدیلیاں کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے باقی صوبوں کے طرح گلگت بلتستان کا وزیر اعلیٰ بھی مکمل با اختیار اور خود مختارہے، اب کوئی بندہ اپنی نالائقی کی وجہ سے کہے کہ میرے پاس اختیارات نہیں ہیں تو وہ ایک الگ بات ہے، کبھی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ہمارا مباحثہ کرا لیں، آئی جی اور چیف سیکرٹری جس طرح گلگت بلتستان میں وفاق لگاتا ہے اسی طرح آزادکشمیر اورباقی صوبوں میں بھی آئی جی کی تعیناتی وفاقی حکومت ہی کرتی ہے، بتایا جائے کہ کون سا اختیار ہے جو چیف منسٹر گلگت بلتستان کے پاس نہیں ہے۔

علی امین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی بہت زیادہ قربانیاں ہیں ، کیبنٹ میں شامل ہونے کے بعد دوسرے یی کیبنٹ اجلاس میں، میں نے یہ تجویز دی تھی کہ گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دے دیں، اس کے بعد اس معاملے پر کافی بحث و مباحثہ ہوا تو وسیع تر قومی مفاد میں ہم نے اس تجویز کو موخر کیا ہے، یہ نہیں ہے کہ ہم گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ نہیں دیں گے بلکہ ہم نے اس معاملے کو مناسب وقت تک کیلئے موخر کیا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ ملکر ریفارمز پر تیزی سے کام ہو رہا ہے، جی بی حکومت نے ڈرافٹ کر کے ہمیں دیا ہے جس پر مشاورت جاری ہے جلد ہی وہاں کی حکومت کی تجاوزیر کے مطابق جی بی ریفارمزآرڈر کو حتمی شکل دیدی جائے گی۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان کی پالیسی ہے کہ تمام اداروں کو خود مختار کیا جائے اور پاور کو نیچے لایا جائے اس پر ہم نے کافی حد تک کام کردیا ہے، آزاد کشمیر کے مقابلے میں جی بی بہت زیادہ پسماندہ رہ گیا ہے، اس پسماندگی کی وجوہات سے میں لاعلم ہوں ، ہم نے گلگت بلتستان کے حوالے سے بہت زیادہ کام اس لیے بھی کرنا ہے کہ ان کی آبادی بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے ، بہت سی آبادی والی جگہوں کے راستے وہاں چھ سے سات ماہ تک بند رہتے ہیں، وہاں پر سفری راستہ کافی طویل ہے ، جب تک فاصلے کم نہ ہوں تب تک تیز رفتار ترقی نہیں ہو سکتی،گلگت بلتستان میں سیاحت اور مائیننگ کا بہت زیادہ پوٹینشل موجود ہے، مجھے افسوس ہے کہ ان دونوں شعبوں میں کام نہیں کیا گیا، ہم نے حکومت میں آکر وہاں سیاحتی اور مائننگ کی پالیسی لائی ہے، ہم نے غیر ملکی سیاحوں پر گلگت بلتستان جانے کی پابندی ختم کر دی ہیں، سب سے زیادہ غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان جا رہے ہیں، پاکستان کو اگر امریکہ و دیگر ممالک سیاحت کیلئے موزوں ترین ملک قرار دے رہے ہیں تو وہ گلگت بلتستان کی وجہ سے کہہ رہے ہیں، گلگت بلتستان میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے اچھی خاصے انوسٹر ہمارے پاس آئے ہوئے ہیں جو 100 ملین روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کرنے والے ہیں، انشاء اللہ گلگت بلتستان جلد ہی سیاحت اور مائیننگ کے حوالے سے بہت آگے چلا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں مائننگ کا غیر قانونی کام کیا جاتا رہا ہے جس کا نقصان یہ ہوا کہ مخصوص لوگوں کو تو فائدہ ہوتا رہا لیکن حکومت اور مقامی لوگوں کو اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ مائننگ کے معاملے کو بھی ہم شفاف طریقے سے آگے بڑھائیں گے ، گلگت بلتستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں سہولیات کی بہت زیادہ کمی ہے ، وہاں کارڈیالوجی کا ایک بڑا ہسپتال زیر تعمیر ہے جو جلد مکمل ہوجائے گا، اس کے ساتھ ساتھ گلگت، سکردو اور ہنزہ وغیرہ کے جو ڈسٹرکٹ ہسپتال ہیں ان کو ضروری مشینری دی جارہی ہے تاکہ مریضوں کو وہین بہتر علاج کی سہولیات میسر آئیں ، تفصیلی سروے کے بعد ہم وہاں کے ہر شعبے میں واضح تبدیلیاں لارہے ہیں۔

آزادکشمیر میں سیاحتی راہداری کے منصوبے کی سی پیک میں شمولیت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر امور کشمیر نے کہا کہ گزشتہ حکومت سیاحتی راہداری کو سی پیک کے منصوبوں میں شامل کرانے کا صرف زبانی کہہ رہی تھی،جہاں تک یہ بات ہے کہ مسلم لیگ نواز کی مرکز میں قائم حکومت آزادکشمیرمیں سیاحتی راہداری کے منصوبے کو تیزی سے آگے لے جارہی تھی تو میں اس حوالے سے حقائق بتاوں کہ ہمیں آزادکشمیر کی سیاحتی راہداری کے حوالے سے کوئی ایک متفقہ دستاویزات نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ وفاقی حکومت وہ راہداری بنانے کیلئے سنجیدہ تھی، انہوں نے اس حوالے سے صرف زبانی کلامی اعلانات کر رکھے تھے ، اس پر اتفاق رائے ہی موجود نہیں تھا، سیاحتی راہداری کو سی پیک منصوبوں میں شامل کرنے کے حوالے سے عملی اقدام نہیں کیے گئے، ٹرپل ایم روڈ بارے بھی اعلانات ہوئے لیکن عملی کام کوئی نہیں کیا گیا، اب اس منصوبے کو بھی ہم آگے لیکر جارہے ہیں.

وفاقی وزیرنے کہا کہ گزشتہ حکومت نے سی پیک میں گلگت بلتستان کو کچھ دیا ہی نہیں جبکہ یہ منصوبہ گلگت بلتستان سے ہو کر ہی پورے ملک میں جائے گا۔ اب ہم گلگت بلتستان میں انڈسٹریل زون اور اکنامک زون ہم بنا رہے ہیں، گلگت بلتستان کے لوگوں کیلئے ریلوے کا منصوبہ بھی ہم لا رہے ہیں، اب وہاں کے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ جہاں تک بات ہے آزادکشمیر میں سیاحتی راہداری کے منصوبے کی تو اس منصوبے پر گزشتہ حکومت نے سی پیک میں اس منصوبے کو شامل ہی نہیں کیا تھا اور اب ہماری حکومت ہوتے ہوئے بھی اس منصوبے پر پیش رفت نہیں ہوسکے گی، ہم سی پیک کے ساتھ اس سیاحتی راہداری کا معاہدہ کرنے کیلئے کام شروع کیے ہوئے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سیاحتی راہداری کا منصوبہ سی پیک میں شامل ہوجائے۔

وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور سے پوچھا گیا کہ کشمیر تنازعے کو اجاگر کرنے کیلئے آزادکشمیر کے وزیراعظم وفاقی حکومت سے اختیارات کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ کشمیری بھی ان تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ عمران خان حکومت مسلہ کشمیر پر اچھی تقاریر اور بیانات تو دے رہی ہے لیکن بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل نہیں کیے گئے جبکہ تقسیم کشمیر کے حوالے سے بھی لوگ تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت سے قبل ماہ فروری میں یوم الحاق پاکستان ،اکتوبر میں یوم تاسیس اور یوم سیاہ کے جو دن منائے جاتے تھے ان دنوں کے حوالے سے جو تقریبات منعقد ہوتی تھی اس کی پبلسٹی کی مد میں جو بینر، جھنڈے اور پوسٹر بنتے تھے، ان کے بھی لوگ پیسے کھا جاتے تھے۔ آج آپ دیکھ لیں کہ یوم کشمیر کے حوالے سے جو تقریبات ہوتی ہیں ان کی پبلسٹی کس بہترین طریقے سے ہوتی ہے، ہر جگہ بینر، جھنڈے اور پوسٹر لگے ہوتے ہیں، پہلے کی نسبت اب ہم کم اخراجات میں یہ دن زیادہ بہتر طریقے سے مناتے ہیں، کرپٹ لوگ کشمیریوں کے حوالے سے بہنر اور پوسٹر بنوانے کے فنڈز سے اپنی جیبیں بھرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم عمران خان نے مسلہ کشمیر کو انٹرنیشنلائز کردیا ہے ، جس طرح سے عمران خان کشمیر کے مسلے کو اجاگر کر رہے ہیں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ عمران خان افغان مہاجرین کے پروگرام میں بھی کشمیر کی بات کرتے ہیں ، تمام عالمی فورمز پر عمران خان کا اصل ایجنڈہ مسلہ کشمیر ہوتا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان میں کلائمیٹ چینج کے حوالے سے آئے ہوئے تھے لیکن عمران خان نے ان کے ساتھ بھی مسلہ کشمیر پر بات کی، دنیا کے جس فورم پر بھی جائیں اور جس خیر ملکی سربراہ سے بھی ملیں، عمران خان کشمیر کی بات ضرور کرتے ہیں، ان کا بیانیہ ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو ان کا حق دیا جائے، پاکستان اپنے اصولی موقف پر مسلسل کھڑا ہے۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ اقوام متحدہ کی منطور شدہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو یہ حق دیا جانے چاہیے کہ وہ صاف و شفاف رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔

وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ وزیر اعظم آزادکشمیر کو کسی نے منع نہیں کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کام نہ کریں ، وہ ایک سال میں سات مختلف ملکوں کے دورے کر چکے، کسی نے انہیں نہیں روکا۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ دنیا میں شخصیت اور ساکھ کی اہمیت ہوتی ہے ، عمران خان کی دنیا میں ایک ساکھ ہے ، انہوں نے اقوام متحدہ کے اہم اجلاس میں جس انداز سے 40 منٹ تک مسلسل کشمیر پر مدلل بات کی ہے، کسی اور ملک میں اتنی جرات نہیں ہے کہ وہ ایسی جاندار بات کرے، کس ملک میں جرات ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں کھڑے ہو کر کہے کہ ہم ایٹمی ملک ہیں ، ہم ہر حد تک کشمیر کیلئے جائیں گے ، دنیا کو کہا کہ آپ کشمیر مسلے پر مداخلت کریں ورنہ اگر کشمیر پر جنگ ہوئی تو یہ انڈیا اور پاکستان کا مسلہ نہیں رہے گا بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے بہت بڑا مسلہ بن جائے گا کیونکہ جنگ آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ علی امین نے کہا کہ ہم بھارتی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کر رہے ہیں، اگر خدانخواستہ جنگ ہوجاتی ہے تو 22 کرووڑ عوام ہماری اور 1 ارب کی آبادی انڈیا کی متاثر ہوجائے گی۔

بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کے حوالے سے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان خود بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو پھر بھی وہ بھارت کی فضائی حدود استعمال نہیں کرتے، اگر وہ فجائی حدود مین سفر کی اجازت لینا چاہے تو شاید انہیں بھارت کی طرف سے انکار بھی نہیں کیا جائے گا لیکن عمران خان نے 5 گھنٹے اضافی سفر کرنا مناسب سمجھا لیکن بھارت کی فضائی حدود استعمال کرنا مناسب نہ سمجھا۔ علی امین نے کہا کہ بھارت سے ایک خاص دوائی جو انسانی جان کے تحفظ کیلئے ہے جو پاکستان میں مریضوں کیلئے منگوائی جاتی رہی ہے، ہم نے وہ دوائی بھی طویل وقت سے منگوانے پر پابندی عائد کیے رکھی، اس دوائی کی ہم نے خاصی تلاش کی ہے لیکن کسی اور ملک سے ہمیں وہ دوائی نہیں مل سکی، گزشتہ چار ماہ سے کیبنٹ میں کئی مرتبہ اس دوائی کو منگوانے کی تجویز آئی لیکن رد کر دی گئی لیکن اب ہم نے مجبور ہو کر اس دوائی کی صرف ایک کھیپ بھارت سے منگوانے کی اجازت دیدی ہے۔

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے اصل سٹیک ہولڈر حریت کانفرنس والے ہیں، حریت کانفرنس والوں نے کچھ دن قبل وزیر اعظم عمران خان کو تفصیلی خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں وزیر اعظم عمران خان کی کشمیر پالیسی پر مکمل اعتماد ہے ، حریت قائدین نے خط میں عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس وقت جس طرح سے آپ مسلہ کشمیر کیلئے وکالت کر رہے ہیں ہم اس سے مطمئین ہیں۔ جن کا مسلہ ہے وہ مطمئین ہیں اور جو کبھی مقبوضہ کشمیر گئے نہیں اور یہاں مجاہد بنے پھرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم مطمئین نہیں ۔ جموں کشمیر کے اصل سٹیک ہولڈر پاکستان کی کشمیر پالیسی سے مطمئین ہیں ۔ بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی صاحب نے جو تازہ ترین تقریر کی ہے اس میں انہوں نے پاکستان، کشمیر اور عمران خان کے بارے میں جو الفاظ کہے ہیں وہ ہمارے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہاں بیٹھ کر سیاسی بنیادوں پر کہتے ہیں کہ ہم عمران خان حکومت کی مسلہ کشمیر بارے پالیسیوں سے مطمئین نہیں ہیں تو وہ کہتے رہیں فرق نہیں پڑتا، یہاں جو لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو ہم چھوڑ دیں تب وہ مطمئین ہوں گے تو ہم نواز شریف کو نہیں چھوڑنے والے ، وہ بے شک اس وجہ سے مطمئین نہ ہوں۔

وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ عوام کا منتخب نمائندہ ہوں، عوام سے 24 گھنٹے رابطہ ہے ، مجھے علم ہے کہ عوام مہنگائی کے حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک میں اس وقت مہنگائی زیادہ ہے لیکن اسکی وجوہات یہ ہیں کہ ملک میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تو قرضہ 30 ہزار ارب روپے قرضہ تھا، ملک اس وقت ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہیں اور بلیک لسٹ میں جانے والے ہیں،آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف ہمیں پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کرنے کیلئے سبسڈی دینے سے اس لیے روکتا ہے کہ یہیں سے تو پیسہ اکٹھا ہو رہا ہے، ٹیکس جمع نہیں ہو رہا تو بجلی ، گیس ، پٹرول اور ڈیزل سے ہی حکومت کو آمدن ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج اگر حکومت پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کیلئے ڈیڑھ کھرب روپے سبسڈی دے دیتی ہے تو پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں 30 روپے فی لیٹر کم ہوسکتی ہیں۔ ترقیاتی کاموں سے ڈیڑھ سو ارب روپے نکال کر سبسڈی کیلئے دیئے جا سکتے ہیں لیکن حکومت مہنگائی کم کرنے کیلئے ایسا کوئی مصنوعی اقدام نہیں کرنا چاہتی ، وجہ یہ ہے کہ ہم پر الزام آتا ہے کہ ہم نے پہلے ہی قرضے لے لیئے ہیں اور قرضے لیکر ہم سبسڈی کیسے اور کیوں دیں ؟ سبسڈی دیکر قرضہ کیسے اتارا جاسکتا ہے کیونکہ کہیں اور سے تو آمدن ہو نہیں رہی۔ ایسی ہی بہت سی مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے ہم سبسڈی نہیں دے سکتے۔ علی امین گندا پور نے کہا کہ جب ٹماٹر دھائی سو روپے کلو ہوگیا تھا تو پورے پاکستان میں ہر کوئی چیخ رہا تھا کہ ٹماٹر ڈھائی سو روپے تک پہنچ گیا ہے، آج ٹماٹر 30 روپے کلو فروخت ہو رہا تو کوئی اس پر بات ہی نہیں کر رہا، آٹا اور دالیں مہنگی ہوئیں تو حکومت انکی قیمتیں نیچے لے آئی، باقی اشیاء کی قیمتیں بھی ہم کر رہے ہیں جبکہ یہ طے ہو چکا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اب مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ مشکل ترین حالات میں جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو ان پر اعتماد کرتے ہوئے مختلف ممالک نے ہمیں قرضے دیئے ، عوام نے مشکل ترین معاشی حالات کا مقابلہ کیا ہے اور اب بھی عوامی تعاون سے ہم اس مسئلے پر قابو پانے والے ہیں، جس حالت میں ہمیں حکومت ملی تھی، اس وقت ملک کے اوپر 30 ہزار ارب روپے قرضہ تھا، ساڑھے 10 ارب روپے قرضے کی قسط ہم نے فوری ادا کرنا تھی ، عمران خان کی ساکھ کو دیکھتے ہوئے مختلف ممالک نے ہماری مدد کی اور ہمیں اس صورتحال سے نکالا، گزشتہ حکومت نے ملکی اداروں کو گروی رکھ کر چلے گئے۔ پی آئی اے، سٹیل مل، ایئرپورٹ ، موٹروے جیسے ادارے خسارے میں چھوڑ کر چلے گئے، اس ملک میں لوگ ٹیکس دیتے نہیں اور جب ہم نے ٹیکس لینے کی کوشش کی تو ایک پورا مافیا ہمارے خلاف کھڑے گیا، ٹیکس وصول نہیں ہوگا اور تمام ادارے خسارے میں ہوں گے تو کیسے ریوینیو اکٹھا ہوگا، جادو کی چھڑی تو ہے نہیں کہ گھمائیں اور پیسے اکتھے ہوجائیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ ہے، جب تک ملک میں کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ باقی رہے گا تب تک ملک ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس خسارے سے روپیہ اپنی قدر کھوتا ہے، ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے ، جب ہم نے حکومت سنبھالی تو اس وقت 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا، اب ہم اپنے پونے دوسال میں اس خسارے کو ڈھائی ارب ڈالر پر لے آئے ہیں اور جلد ہی یہ خسارہ ختم ہوجائے گا۔ گزشتہ حکومت نے ڈالر کی قیمت اس لیے بڑھنا نہ دی کہ وہ جو قرضہ لیتے تھے اس قرضے سے ہر مہینے وہ اربوں روپے اسٹاک ایکسچینج میں ڈال دیتے تھے ، اس طرح ڈالر کی قیمت کو انہوں نے آگے جانے سے روک ہوا تھا اب ایسا مصنوعی کام ہم تو نہیں کر سکتے تھے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے یا قرضے کی رقم کو ہم ڈالر کی قیمت اوپر جانے سے روکنے کیلئے استعمال کریں، ہم نے ابتداء سے ہی عوام کو سچ بتایا کہ اصل صورتحال کیا ہے اور اسکی وجوہات کیا ہیں، اس صورتحال سے ہم نکل رہے ہیں لیکن ہم مصنوعی طور پر مہنگائی نہیں کریں گے۔

وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے آزادکشمیر میں پارٹی کے الیکشن کے حوالے سے مرکز کی پالیسی بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں الیکشن آنے والے ہیں کہ پارٹی کی بنیاد پر الیکشن لڑیں گے اور ہر حلقے سے اپنا پارٹی امیدوار دیں گے۔ہم کوشش کریں گے کے اچھے لوگوں کو سامنے لائیں اور وہاں حکومت بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل پارلیمانی بورڈ بنے گا جو تمام انتخابی حلقوں کے بارے میں سروے کرے گا اور ان حلقوں کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے امیدواروں کے بارے میں فیصلے کیے جائیں گے۔ کچھ حلقوں میں بلکل نئے لوگ بھی سامنے آسکتے ہیں، پارلیمانی بورڈ وہاں برادریوں کو بھی دیکھے گا ، پارٹی کے امیدواروں کا جائزہ بھی لے گا اور جہاں اچھی ساکھ کے الیکٹیبلز کی ضرورت پڑی تو انہیں بھی پارٹی میں شامل کیا جائے گا۔ الیکشن خود لڑیں گے اور ہر سیٹ پر اپنی پارٹی کا امیدوار دیں گے الیکشن سے پہلے کسی جماعت سے اتحاد نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں