چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کی نا اہلی کیلئے دائر ریفرنسز پر وفاقی حکومت نے تفصیلات طلب کر لیں۔

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، خواجہ کاشف میر)آزادجموں کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کی نا اہلی کیلئے چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس دو ریفرنس دائر کیے گئے تھے جن پر طویل خاموشی کے بعد اب وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ ریفرنس اگر قانونی ہیں تو ان پر کاروائی کی جائے اور اگر حقایق کے خلاف ہیں تو ریفرنس خارج کر دئیے جایں۔

سٹیٹ ویوز کو ذرایع نے بتایا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آزادجموں کشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء جو 31 مارچ کو ملازمت سے ریٹایرڈ ہو جایں گے۔ ان کے خلاف دائر نا اہلی کے دونوں ریفرنسز پر اب وفاقی حکومت سنجیدہ ہو گئی ہے اور وزارت امور کشمیر سے یہ ریفرنس گزشتہ سال وزارت قانون میں بھجوائے گئے تھے تب سے ان ریفرنسز پر مکمل خاموشی اختیار کی جاتی رہی۔

ذرایع کے مطابق سموار کے روز وفاقی وزارت قانون نے ایک مکتوب کے ذریعے آزادکشمیر حکومت سے ان ریفرنسز بارے تمام تفصیلات دینے کو کہا ہے اور یہ تفصیلات فوری مہیا کرنے کا کہا گیا ہے۔اب آزادکشمیر کے چیف سیکرٹری وزارت قانون کی مدد سے یہ تفصیلات جمع کریں گے اور وفاقی حکومت کو بھجوایں گے۔ تفصیلات کا جایزہ لینے کے بعد وفاقی وزارت قانون یہ فیصلہ کرے گی کہ چیف جسٹس کے خلاف دایز ریفرنس حقایق پر مشتمل ہے یا نہیں اور اگر رپورٹ چیف جسٹس کے خلاف آتی ہے تو چئیرمین کشمیر کونسل انکے خلاف کاروائی کی منظوری دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2 اپریل 2019 کو جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماء و رکن اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان نے چیف جسٹس آزادکشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء کے اقدامات کو غیر آئینی و میرٹ کے متصادم قرار دیتے ہوئے چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس بذریعہ وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور جمع کرایا تھا۔ چیف جسٹس آزادکشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء کے خلاف جمع کرایا گیا ریفرنس 11 صفحات پر مشتمل تھا اور اس کے پٹیشنر ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان خود تھے۔

ریفرنس میں چیف جسٹس چوہدری ابراہیم پر آئینی خلاف ورزی اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے . جموں کشمیر پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ سردار خالد ابراہیم خان کی عدلیہ کے وقار اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد کوانکے چھوڑے ہوئے ویثرن کے مطابق جاری رکھے گی اور آزادکشمیر کے اندر عام آدمی کیلئے انصاف کی فراہمی اور میرٹ کی بالادستی کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گی۔

جبکہ چیف جسٹس کے خلاف دائر دوسرے ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس آزادکشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء نے ججز کے کوڈ آف کنڈیکٹ کی متعدد مرتبہ خلاف ورزیاں کی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا لہذا انہیں نا اہل کیا جائے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر کے ذریعے یہ ریفرنس مظفرآباد، راولاکوٹ ، کوٹلی، پلندری، ہجیرہ ، تھوراڑ اور ہٹیاں بالا کے 16 وکلا نے چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس دائر کیا تھا۔

وکلا نےریفرنس میں موقف اختیار کیا تھا کہ چیف جسٹس آزاد جموں کشمیر نے اپنے آئینی اور انتظامی عہدے کا بارہا نا جائز استعمال کیا ہے۔ سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان وکلا نے بتایا تھا کہ ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان نے چیف جسٹس کے خلاف جن گراونڈز پر ریفرنس دائر کیا ہے ان میں سے اہم نقات سمیت نئے پوائینٹس بھی شامل کیے گئے ہیں.اس ریفرنس میں کل 16 نقات زیر بحث لائے گئے ہیں جن میں 8 نئے نقات بھی شامل تھے.

وکلا کے مطابق اس ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس کی حمایت میں ان کی گجر برادری سے تعلق رکھنے والے آٹھ وزرا حکومت کی طرف سے بیانات جاری ہوئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کوئی نوٹس نہیں لیا جس سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ چیف جسٹس نے اپنے حق میں ان وزرا سے خود بیانات جاری کیے. ایک اہم پوائینٹ یہ بھی اٹھایا گیا تھا کہ ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان کی طرف سے 2 اپریل کو دائر ریفرنس کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری ابراہیم ضیا نے گزشتہ دنوں ایک ڈنر رکھوایا اورجس میں انہوں نے متنازعہ خطاب کیا ہے۔

چیف جسٹس نے تقریر میں اپنے اور دیگر ججز کے خلاف دائر ریفرنسز کو عدلیہ کے خلاف سازش قراردیا۔ان کا یہ اقدام کیسز پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے.اس کے علاوہ تقریر میں چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کے پانچ نئے تعینات ججز کے کیس پرپر ریمارکس دیتے ہوئے اس کیس کو بھی عدلیہ کے خلاف سازش قراردیا . وکلا کے مطابق چیف جسٹس نے عدالت میں زیر سماعت کیس پر اپنا موقف دیتے ہوئے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے. وکلا کے مطابق چیف جسٹس نے تقریر کے دوران یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر میں چیف جسٹس نہ رہا تو اس پورے سسٹم کو لپیٹ دوں گا، لہذا ان کا یہ بیان بھی آئین و قانون اور ججز کے کوڈ آف کنڈیکٹ کے خلاف ہے.

ریفرنس دائر کرنے والوں میں محمد ظہیر خان ایڈووکیٹ پلندری، ملک اصغر سیٹھی ایڈووکیٹ کوٹلی، سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ راولاکوٹ، وحید بشیر اعون ایڈووکیٹ مظفرآباد، احمد فراز ایڈووکیٹ تھوراڑ، ارسلان نثار ایڈووکیٹ پلندری، سردار محمد گلزار خان ایڈووکیٹ ہٹیاں بالا، سردار حسن خورشید ایڈووکیٹ ہجیرہ، محمد امین ایدووکیٹ ہجیرہ، واجد علی ایڈووکیٹ ہجیرہ، سردار افتخار احمد ایڈووکیٹ ہجیرہ، سرادر خالد محمود ایڈووکیٹ راولاکوٹ، راجہ عزت بیگ ایڈووکیٹ راولاکوٹ، سردار سیف اللہ حجازی ایڈووکیٹ راولاکوٹ اور سجاد ضیا ایڈووکیٹ پلندری نے دائر کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں