انتہا پسند بھا رتی حکو مت نے نئے کشمیر کے خاکے کو حتمی شکل دینے پر صلاح ومشورہ تیز کر دیا ، اہم فیصلے بھی سامنے آگئے

سرینگر ( ویب ڈسیک ) بی جے پی کی قیادت میں ہندتوا حکومت ، نازی نظریہ سے متاثر ہوکر مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنے کے لئے ہر حد کو عبور کر چکی ہے۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے اپنے نئے کشمیر کے خاکے کو حتمی شکل دینے پر صلاح ومشورہ تیز کر دیا ہے ۔ جس کے تحت جموں، ادھمپور، پونے، دہلی اور دیگر شہروں میں تین دہائیوں سے مقیم کشمیری پنڈتوں کے لیے وادی میں خصوصی ٹاون شپ قائم کیے جائیں گے۔

1990 سے وادی کشمیر سے باہر رہنے والے پنڈت خاندانوں کی کشمیر واپسی کے لیے بھارتی حکومت نے کوششیں تیز کر دی ہے۔ ہندوستان کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں ہندو وں کی آبادکاری کے لئے دس علیحدہ علاقے مختص کئے ہیں۔اس نئے خاکے کے مطابق مہاجر پنڈتوں کے لیے بنائی جانے والی یہ علیحدہ بستیاں وادی کشمیر کے 10 اضلاع میں قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان خصوصی بستیوں میں پنڈت خاندانوںکے لیے مکانات تعمیر کیے جانے کے ساتھ ساتھ ہسپتال بھی بنائے جائیں گے –

جبکہ ان میں مارکیٹ کی سہولیات بھی رکھی جائیں گی۔نئے کشمیر بلیو پڑنٹ کے مطابق مخصوص بستیوں کے نزدیک خصوصی سیکورٹی کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی مشترکہ چوکیوں کا قیام بھی عمل میں لانے کے قوی امکانات ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گزشتہ ہفتے نئی دلی میں کشمیری پنڈتوں کے ایک وفد کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مرکزی سرکار مہاجر پنڈتوں کی کشمیر واپسی اور بازآبادکاری کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہے۔

ہندوستان کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا تھاکہ دہلی کی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندووں کو الگ بستی فراہم کرے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے۔اس سے قبل ہندوستان غیر کشمیری سرمایہ کاروں کے لئے 60000کنال اراضی پہلے ہی فراہم کرچکی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرکاری فرنٹ مین وہ زمین خریدیں گے۔ایک ہندو مندر کو بھی 1000 کنال اراضی فراہم کی گئی ہے۔ جموں میں مسلمانوں سے 4 ہزار کنال سے زیادہ اراضی ہتھیائی گئی ہے۔

یہ بھی سنیں

اپنا تبصرہ بھیجیں