بھارت سن لے کہ یہ درست راستہ نہیں، ترک صدر کی مودی سرکار کو للکار

انقرہ (ویب ڈیسک ) ترک صدر بھی بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف بول پڑے، تفصیلات کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے قتل عام میں ہندو انتہا پسند ملوث ہیں، مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ بھارت دنیا میں امن کی حمایت کی بات کرتا ہے جبکہ اُن کے ملک میں ایسا ہورہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بھارت ایسا ملک ہے جہاں ہندو بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کےقتل عام کی مذمت کرتے ہیں، ہم نفرت ، ناانصافی کے خلاف اور مظلوموں کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور ہم بھارتی حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ درست راستہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتہا پسند ہندوؤں کے حملوں میں مزید شدت آگئی تھی۔آر ایس ایس کے غنڈوں نے دہلی میں مساجد کو بھی شہید کرنا شروع کردیا تھا۔

بھارت کی زمین مسلمانوں کے لیے تنگ کرنے کا بھارتی حکومت کا پروپیگینڈہ جاری ہے۔ ہمسایہ ملک میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے اور انکے مقدس مقامات کی بھی توہین کی جاتی ہے۔ بھارت میں مساجد کو جلانے یا انکو گرانے کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی میں پیش آیا ہے جہاں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایک مسجد کو نزآتش کردیا تھا۔

اس سے قبل ہندوانتہا پسندوں نے اشوک نگر کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر اکھاڑ دیئے اور مینار پر بھارتی جھنڈے لہرا دیئے تھے۔ دہلی میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلمانوں کے گھروں کو بھی جلا کر راکھ کردیا تھا۔ اس حوالے سے مسلمانوں کو کہنا تھا کہ نئی دہلی پولیس نے انتہا پسند ہندوؤں کو روکنے کی بجائے ان کا ساتھ دیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران دارالحکومت دہلی میدان جنگ بن گیا تھا۔

شمالی دہلی میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ بجھن پورا میں شہریت کے متنازع کالے قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں، مشتعل افراد نے گاڑیوں اور دوکانوں کو نذر آتش کر دیا، جھڑپوں کے دوران فائرنگ سے 11 افراد ہلاک جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں

امریکہ کے دیرینہ خواہش پوری۔۔۔!!! سی پیک کے حوالے سے پاکستان نے بڑا قدم اُٹھا لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں