نقطہ نظر/عتیق الرحمن

کشمیر کاز اور سردار مسعود خان

صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان عالمی سطح پر مظلوم کشمیریوں کی آواز بن کر اُن کا مقدمہ تو لڑ ہی رہے ہیں ۔ وہ طاقتور ملکوں کے پارلیمان کے ممبران، اُن کے تھنک ٹینکس، میڈیا، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے مل کر اُن کی توجہ کشمیر میں بہتے ہوئے خون کی طرف دلو ا کر اُن کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جگا تے رہے ہیں ۔ آج برطانیہ، فرانس، امریکہ ، یورپین یونین اور دیگر ممالک کی پارلیمانوں میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہو رہی ہے تو اس ضمن میں بھی سردار مسعود خان کا خاطر خواہ اہم کردار رہاہے۔

جب وہ اندرون ملک ہوتے ہیں تو تب بھی وہ کشمیر کاز کو اُجاگر کرنے کے لئے شب و روز مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان اور آزادکشمیر کی مختلف جامعات میں نوجوان نسل سے خطاب کرتے ہیں اور انہیں کشمیر کاز کو اُجاگر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ملک کے دانشوروں، سول سوسائٹی کے ارکان اور پریس و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ Interactionکرتے رہتے ہیں ۔

حال ہی میں ملائشیا کے پانچ روزہ کامیاب دورے کے بعدصدر سردار مسعود خان اسلام آباد پہنچے تو اُسی روز اسلام آباد کی وزارت خارجہ میں جا کر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتینو گوتیریس سے ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حل کروانے، پاکستان اور ہندوستان کے مابین اس مسئلے پر مصالحت کے لئے اُن کی جانب سے پیش کی گئی آفر پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں آزادکشمیر میں موجود چالیس ہزار کشمیری مہاجرین اور لائن آف کنٹرول کے اس جانب آباد 6لاکھ چالیس ہزار افراد کی حالت زار کے بارے میںبھی تفصیلاً بتایا۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کو بتایا کہ کس طرح آئے روز بلا اشتعال فائرنگ کر کے ہندوستانی افواج آزادکشمیر میں نہتے اور معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اور اُن کے جان و مال کا بے پناہ نقصان کرتے ہیں۔

انہوں نے انتینو گوتیریس کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرنے اور بنفس نفیس خود وہاں کی صورت حال دیکھنے کی دعوت بھی دی۔ نیز ان سے درخواست کی وہ UNMOGIPکی طرف سے ارسال کردہ رپورٹوںکی سلامتی کونسل کے ممبران میں تقسیم کو یقینی بنائیں۔ نیز اس امر پر بھی زور دیا کہ تاوقتیکہ یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا سلامتی کونسل کو اس پر بات چیت اور بحث و مباحثہ جاری رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ سوا کروڑ انسانوں کے مستقبل اور زندگیوں کا ہے جسے حل کرنا اقوام عالم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یاد رہے کہ سردار مسعود خان صدر آزادکشمیر کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتنیو گوتیریس کے ساتھ دیرینہ اور دوستانہ مراسم ہیں صدر مسعود جب جنیوا میں پاکستان کے سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب تعینات تھے تو اس وقت انتینیو گوتیریس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر تھے۔2005میں جب پاکستان اور آزادکشمیر میں قیامت خیز زلزلہ آیا تو اس وقت بھی سردار مسعود خان کی تحریک پر انتنیو گو تیریس نے آزادکشمیر کا دورہ کیا اور اُن کی ایجنسی نے ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اس وقت اپنے ہمراہ امریکہ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی کو بھی لائے تھے۔ اس مرتبہ جب صدر مسعود کی اُن سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بڑے غور سے صدر کی گزارشات کو سُنا اوران کے اٹھائے گے نکات پرمثبت پیشرفت کی یقین دہانی کرائی۔ ایوان صدر مظفرآباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقدہ انٹرنیشنل ورکشاپ بعنوان ــ’’لیڈر شپ اینڈ سکیورٹی‘‘ کے شرکاء جن میں بزنس مین، پارلیمنٹرین، سفارتکار، بیوروکریسی ، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی

اور جن کا تعلق برطانیہ، امریکہ، روس، نیوزی لینڈ، برازیل، کینیا، ملائشیائ، گانا، سری لنکا، یو۔ اے ۔ ای، ہانگ کانگ سے تھاسے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے انہیں مسئلہ کشمیر کے پس منظر ،حالیہ پانچ اگست کو ہندوستان کی طرف سے کیے جانے والے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام اور اس کے نتائج، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور وزیر اعظم نریندر ہ مودی کی فاشسٹ پالیسیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور باالخصوص ہندوستانی وزیر اعظم کے اس بیان کی طرف اُن کی توجہ دلوائی کہ وہ نیو کلیئر ہتھیاروں کے استعمال سے بھی اجتناب نہیں کریں گے۔

اس موقع پر صدر مسعود خان کے لیکچر کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا تو شرکاء نے صدر گرامی کو یقین دلایا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی فسطائیت کو روکنے اور وہاں پر انسانی حقوق کی بحالی کے سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وفد میں موجود روسی خاتون نے صدر گرامی کو یقین دہانی کروائی کہ وہ آئندہ صدر آزادکشمیر کے روس کے دورے کے دوران میزبانی کے فرائض سر انجام دے گی اور کشمیر کاز کی بھرپور وکالت کرے گی۔ اس موقع پر وفد کے ایک رکن کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے افریقی ممالک کی یونین سے بھی رابطہ کرنا چاہیے ۔

اس پر صدر گرامی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ انشاء اللہ جلد عالمی نوبل انعام یافتہ سابق صدر سائوتھ افریقہ نیلسن منڈیلا کے پوتے اور سابق سائوتھ افریقین صدر فریڈرک ویلیم ڈی کلرک کو بھی پاکستان اور آزادکشمیر آنے کی دعوت دیں گے۔ایوان صدر مظفرآباد میں ہی برطانیہ سے آئے ہوئے پارلیمنٹرین کے اعلیٰ سطحی وفد جس کی قیادت ممبر پارلیمنٹ ڈیبی ابراہم چیئرمین آل پارٹی پارلیمانی کشمیر گروپ آف یو۔کے کر رہی تھی اور ان کے ہمراہ برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی، لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ، ایم پی عمران حسین، ایم پی سارہ برٹکلف(Sara Britcliff)، ایم پی جیمز ڈیلے، لارڈ قربان حسین، ایم پی طاہر علی، ایم پی جوڈتھ کیومنز(MP Judith Cummins)، MP Mark Eastword ، Councillor Harpreet Uppalاور کونسلر یاسمین ڈار آئے تھے سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزادکشمیر ایک کھلے Show Caseکی طرح ہے اور ہم یہاں دنیا سے کچھ بھی نہیں چھپا رہے ہیں۔

یہاں کے لوگ کما حقہ بنیادی انسانی حقوق سے بہرہ مند اور مستفید ہو رہے ہیں۔ انہیں مکمل شخصی اور سماجی آزادیاں حاصل ہیں اور یہاں کسی بھی طرح کا تشدد، نظربندیاں اور پابندیاں نہیں۔ یہاں کے لوگوں میں سیاسی مخالفین کے لئے برداشت اور رواداری کے جذبات موجود ہیں۔ سردار مسعودنے وفد کو بتایا کہ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں وہاں کی اصل سیاسی قیادت کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیاہے۔ وہاں ہندوستانی افواج نے نہ صرف مردوں کو بلکہ خواتین اور بچوں کو بھی قید زنداں میں ڈال رکھا ہے۔ خواتین پر جنسی تشدد اور ان کی آبروریزی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔

لوگوں پر پیلٹ گن کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ پانچ اگست کے بعد تو ہندوستان نے مکمل کرفیو کا نفاذ کر کے لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ان کی شخصی آزادیوں کو سلب کر رکھا ہے۔ ضلع باغ کے گائوں موری فرمان شاہ میں کشمیر کانفرنس کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود خان نے سامعین باالخصوص نوجوانوں کو کہا کہ وہ کسی محمد بن قاسم کا انتظار کئے بغیر کشمیر کی اپنی مائوں ، بہنوں، بیٹیوں کی مدد اور حفاظت خود محمد بن قاسم بن کر کریں۔ انہوں نے نوجوانوں میں جذبہ حریت اور جوش و ولولہ پیدا کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت اب لاشوں کی گنتی کا نہیں بلکہ ظالموں کی لاشیں گرانے کاہے۔

صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے ڈڈیال آزادکشمیر میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ کشمیر کانفرنس جس کی صدارت تحریک کشمیر برطانیہ کے چیف راجہ فہیم کیانی نے کی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنا ہم سب پر فرض ہے اور دنیا کو اب کشمیریوں کا Death Tollاور خواتین کی آبروریزی کے قصے سنانے کے بجائے ہمیں اس قدر موثر اور جاندار طریقے سے اپنی جدوجہد شروع کرنی ہو گی کہ تاریخ کے رخ کو موڑا جا سکے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے ہمارے بھائیوں، بہنوں، بیٹیوں اور مائوں کو آزادی نصیب ہو۔ صدر سردار مسعود خان نے اس موقع پر تارکین وطن کے کردار اور اُن کی کشمیرکاز کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا ۔ اس کانفرنس سے ایم ایل اے عبد الرشید ترابی اور تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے بھی خطاب کیا۔

پاکستان کے دل لاہور میں صدر سردار مسعود خان نے ملک کی نامور درسگاہ ’’یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور‘‘ کے شعبہ پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان ورلڈ آرڈر کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جس ورلڈ آرڈر کی بنیاد قانون کی حکمرانی پر رکھی گئی تھی ہندوستان اُسے اپنے پائوں تلے روند رہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ اقوام متحدہ جو اس ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے آج دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی اور دائمی ترقی کے لئے کوشش تو کر رہا ہے لیکن وہ اپنی اُن بنیادی اور اہم ذمہ داریوں سے عہدہ براہ نہیں ہو رہا ہے –

جن کے تحت اُسے دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں، انسانی قتل عام، نسلی صفائی ومذہبی منافرت اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے روکنا تھا۔ اس کانفرنس سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان، صدر UMTابراہیم حسن مراد، لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید حسن اور عبداللہ گیلانی نے بھی خطاب کیا۔ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل پیس لیڈرز (IIPL)کے وفد جن میں برطانیہ، سعودی عربیہ، فرانس، سری لنکا اور

پاکستان سے آئے ہوئے سفارتکار، میڈیا نمائندگان، بزنس مین، ماہر معاشیات اور انسان دوست(Philanthropists) شامل تھے سے بات چیت کرتے ہوئے صدر مسعود خان نے کہا کہ دنیا کو اس وقت امن کے سفیروں کی ضرورت ہےاور تمام دنیا کی سول سوسائٹی کو آگے بڑھ کر ہندوستانی فسطائیت کا راستہ روکنا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی ریاستی دہشت گردی کے خاتمے، وہاں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور لوگوں کو حق خودارادیت دلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کراچی میں پروفیشنل یوتھ فیڈریشن آف پاکستان(PYFP)کے زیر اہتمام منعقدہ کشمیر میڈیا کانفرنس جس میں ملک کے نامور ٹی وی چینلز کے اینکر پرسنز، تجزیہ نگار، سابقہ سفراء ، ماہرین تعلیم، محققین ، ریٹائرڈ فوجی اور سول آفیسران نے شرکت کی سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا ہائوسز کو موثر طریقے سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی بحران کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنا چاہیے اور قومی اخبارات میں کشمیر کاز کو زیادہ سے زیادہ جگہ دینی چاہیے۔

انہوں نے اس موقع پر PYFPکے چیف عمر خان کی اس تجویز کو بے حد سراہا کہ ہمیں تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر مشتمل ایک کشمیر میڈیا کمیٹی بنانی چاہیے۔ تاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میںآئے روز رونما ہونے والے واقعات کی مناسب کوریج کو یقینی بناتے ہوئے

کشمیر کاز کو ملکی و عالمی سطح پر اُجاگر کیا جاسکے۔ اور دنیا کی رائے عامہ کو مقبوضہ کشمیر کے دبے ہوئے مظلوم لوگوں کے حق میں استوار کیا جاسکے۔ صدر مسعود خان نے کراچی میں وفاقی وزیر مقبول احمد صدیقی کی دعوت پر MQMہیڈ کوارٹر واقعہ بہادر آبادکا دورہ بھی کیا اور اس موقع پر ایم کیو ایم کے قائدین نے انہیں کشمیر کاز کے لئے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

ہیڈ کوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود خان صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ہندوستان گزشتہ 72سالوں سے جو کھیل کشمیر میں کھیل رہا تھا اس کا مظاہرہ اب دہلی کی سڑکوں پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔نریندرہ مودی کی حکومت اور اس کی فسطائیت اور ہندوتوا سوچ کا مظاہرہ اب بھارت کی سرزمین پر پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ R.S.Sکے نظریہ پر قائم موجودہ ہندوستانی حکومت اپنے ہی ملک کے اُن تمام شہریوں کو اول درجے کا شہری ماننے سے انکاری ہو چکی ہے جن کا تعلق ہندوازم کے سوادیگر مذاہب سے ہے جن میں مسلمان ، عیسائی ، دلت اور دیگر مذاہب کے پیروکار شامل ہیں ۔
صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ موجودہ ہندوستانی حکومت باطل کی راہ پر گامزن ہے اور باطل مٹنے کے لئے ہے اور وہ مٹ کر رہے گا۔ کشمیریوں کو انشاء اللہ ضرورآزادی ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں