کورونا وائرس سے بچاؤ کیسے ممکن؟

تحریر: ڈاکٹر جہانزیب خان

کورونا وائرس چین کے شہر وہان سے شروع ہو کر دنیا کے تقریبا ۱۹۵ ممالک تک پھیل چکا ہے- اس موذی مرض سے اب تک قریبا ساڑھے سولہ ہزار لوگ مرچکے ہیں۔ جب کہ پوری دنیا میں اس مہلک بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد پونے چار لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جب کہ اس مرض میں مُبتلا ہونے کے بعد ٹھیک ہونے والے افراد کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ تین ہزار ہے۔

کورونا وائرس جسکا دوسرا نام کووڈ -۱۹ ہے، جان لیوا نہیں لیکن خطرناک ضرور ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس بیماری سے زیادہ سے زیادہ بچا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ابھی تک اس بیماری کا کوئی موثر علاج یا ویکسئین دریافت نہیں ہوا ہے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کے اس مرض کی ویکسئین کی تیاری میں کم از کم اٹھارہ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے، جبکہ چین نے آزمائشی بنیادوں پر اسکی ویکسئین کے انجکشنز محدود پیمانے پر تقسیم کرنا شروع کر دئے ہیں۔ یہ وائرس گو کہ چین سے شروع ہوا لیکن چین نے بڑی حد اس کے پھیلاؤ کو روک کر صورتحال قابو میں کر لی ہے۔

اس وقت اٹلی دنیا کاسب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے، جہاں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جب کہ چین میں اب تک اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار تک ہے۔
پاکستان میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ۹۱۸ بتائی جارہی ہے، جس میں پاکستان کا صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے، اس ضمن میں مراد علی کی قیادت میں سندھ حکومت نے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں، جنکو عالمی ادارہ صحت نے بھی سراہا ہے، اور سندھ حکومت دنیامیں چوتھے نمبر پر ہے اس وائرس کے خلاف اقدامات کے حوالے سے۔ پاکستان میں اب تک قریبا سات لوگ اس وائرس کیوجہ داعئ اجل کو لبیک کہ چکے ہیں۔ جن میں سے تین کا تعلق کے پی کے سے جب کہ ایک ایک کا تعلق پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان سے بتایا جارہا ہے۔

پاکستان میں فیڈرل گورنمنٹ سمیت چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام آزاد ریاست جموں و کشمیر کی حکومتوں نے جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے، تا کہ اس مہلک بیماری کے پھیلاؤ کو زیادہ سے زیادہ روکا جا سکے۔ اس مرض سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر میں سب سے اہم بات یہ ہے کے “اپنے گھر پر رہیں، محفوظ رہیں”۔ جب کہ انتہائی ضرورت یا ایمرجنسی کے بغیر اپنے گھر سے باہر نہ جائیں۔ ہجوم سے حتی الامکان اجتناب کریں۔ دوسروں کے گھروں یا دفاتر کو کم سے کم وزٹ کریں۔ ہاتھ ملانے، گلے ملنے اور پنلک جگہوں میں جانے سے گریز کریں۔

یہاں اس بات کی وضاحت کرنا انتہائی ضروری ہے کہ، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ہاتھ ملانا ایک سنت عمل ہے اسلیے اس سے منع نہیں کرنا چائیے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو ہمیں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق نہ صرف مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ اسلام کے اصولوں میں انسانیت کی بقا اور حفاظت بھی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہاتھ ملانا اور مصافحہ کرنا مسلمانوں کے لئے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک سنت ہے، لیکن جب ہاتھ ملانے سے اس وبائی مرض کے پھیلنے کا خطرہ ہو، اُس وقت ہاتھ نہ ملانا سنت ہے۔

اسی طرح کھانے پینے کے لحاظ سے بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ جو چیز بھی خریدیں، اسکواستعمال سے پہلے کم سے کم ۲۴ گھنٹے کے لئے رکھ لیں یا انتہائی ضرورت کی صورت میں گرم پانی سے دھوکر کچھ دیر رکھنے کے بعد استعمال کریں۔ ایمرجنسی کی صورت میں گھر سے نکلنے سے پہلے ماسک اور ہاتھ دستانے اچھی طرح پہن لیں،تا کہ باہر نکلنے کے بعد بار بار فکس کرنے کے لئے انکو چھونا نہ پڑے۔کسی بھی اجنبی شخص سے کم سے کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں۔

گھر میں ضرورت کی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ کوشش کریں کہ ایک ہی بار لے آئیں تا کہ بار بار سامان ضروریات کے لئے باہر نہ جانا پڑے۔ اپنے ہاتھوں کو بار بار صابن کے ساتھ دھوئیں، اور کم سے کم ۲۰ سیکنڈ تک صابن میں ایکسپوز رکھیں۔ اپنا چہرہ، کان، ناک اور پیشانی بار بار نہ چھوئیں۔ کچھ بھی کھانے پینے سے پہلے اپنے ہاتھ اور چہرہ اچھی طرح صاف پانی اور صابن کے ساتھ دھولیں۔ اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد ماحول کو صاف رکھیں۔ٹھنڈی چیزیں اور ٹھنڈا پانی پینے سے گریز کریں۔

پینے کے لئے گرم پانی استعمال کریں اور ہر تھوڑی دیر بعد تھوڑا گرم پانی پی لیں، تا کہ اگر خدانخواستہ وائرس آپ کے منہ میں آیابھی ہو تو معدے میں جا کے ختم ہوجائے۔ ان ساری احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ ہمیں بحثیت مسلمان اللہ دے صدق دل کے ساتھ رجوع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ چونکہ ہمارا ایمان ہے کے ہر بیماری اور اسکی شفا ء اللہ کے امر سے ہے۔

نفع نقصان اور زندگی موت کا مالک اکیلا اللہ ہی ہے۔ اللہ کے امر اور ارادے کے بغیر نہ کوئی مخلوق نفع دے سکتی اور نہ نقصان۔ ہم سب کو سچی توبہ کے ساتھ ساتھ صبح شام کے مسنون اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس مشکل اور آزمائش کی گھڑی میں اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہمیں اس وباء سے اپنے حفظ و امان میں رکھے، اور جلد اس وباء کو ختم فرمائیں۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں