یونیورسٹی آف پونچھ کی آن لائن کلاسز نے طلباء کو اضطراب میں مبتلا کر دیا

راولاکوٹ ( سٹیٹ ویوز ) یونیورسٹی آف پونچھ کی جانب سے آن لائن کلاسز کے اجراء پر طلبہ وطالبات سخت پرشان حال ، طلبہ نے یونیورسٹی سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ۔ان کا کہنا تھا کہ آج دوسرا روز ہے انٹرنیٹ موبائل-فون کی دکانات بند،یونیورسٹی آف پونچھ کے آئن لائن کلاسز کے اجراء پر طلبہ و طالبات نے شدید تخفظات کا اظہارِ کرتے ہوئے سمسٹر بریک کا مطالبہ کر لیا .

تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ اور گردونواح میں لاک ڈاون اور انٹرنیٹ سروس کے تمام مراکز بند ہونے کی وجہ سے جامعہ پونچھ کے طلبہ مشکلات کا شکار ہیں ادارہ ہٰذا نے حال ہی میں کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر تعلیمی سرگرمیاں معطل کر کے آن لائن کلاسز کا اجراء کیا تھا مگر آزادکشمیر کے مختلف دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کے باعث طلبہ کو آن لائن کلاسز میں نہ صرف مشکلات ہیں بلکہ طلبہ و طالبات کے لیے ایسے نامساعد حالات میں ناممکن ہے.

طلبہ نے یونیورسٹی کے اس فیصلے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو چاہیے کہ فی الفور اس فیصلے کو واپس لیا جائے کیونکہ نوے فیصد طلبہ انٹرنیٹ کی نا کافی سہولیات کی وجہ سے کلاسز ہی نہیں لے سکتے ان نے مطالبہ کیا ہے کہ سمسٹر بریک کیا جائے تاکہ طلبہ کا مزید نقصان نہ ہو.

ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی آف پونچھ نے اپنے سینکڑوں ملازمین کو بھی حاضر ہونے کا حکم دیا ہے ان لائن کلاسز کی وجہ سے طلبہ و طالبات نے اپنے اکیڈمک کیرئیر پر شدید تخفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ حکام اور مقامی انتظامیہ اس سنگین معاملے پر نوٹس لے تا کہ طلبہ کو ایسے حالات میں موجود مسائل کا حل نکالا جا سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں