نقطہ نظر/پیرعلی رضا بخاری

کرونا وائرس ؛علامات ،محفوظ کیسے رہا جائے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کے شدید عارضے میں مبتلا کرنے والا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب 185سے زیادہ ممالک تک پھیل چکا ہے۔ دنیا میں اب تک کورونا وائرس سے چار لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 14 ہزار سے زائد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ وائرس پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بھی تشویشناک رفتار سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان میں تاحال اس کے ایک ہزار مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔خوش قسمتی سے آزاد کشمیر میں صرف ایک ہی مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔ ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے سوا اس پر قابو پانے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہاہے اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے اس معاملہ پر سیاسی ،دینی،فوجی قیادت ایک صفحہ پر ہے۔

اس وائرس کی علامات کیا ہیں؟
یہ بظاہر بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے کچھ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے نوبت آ جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم عالمی ادارہ صحت کے مطابق انفیکشن کے لاحق ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 14 دنوں پر محیط ہے۔لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ چینی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کچھ لوگ خود میں علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں

کورونا وائرس کس قدر جان لیوا ہے؟
اس وائرس سے متاثر ہونے والے 44000 مریضوں کے ڈیٹا کے جائزہ کے بعد عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ
•81 فیصد افراد میں اس کی ہلکی پھلکی علامات ظاہر ہوئیں
•14 فیصد میں شدید علامات ظاہر ہوئیں
•پانچ فیصد لوگ شدید بیمار پڑ گئے
اس بیماری جسے کووڈ 19 کا نام دیا گیا سے مرنے والوں کی شرح ایک سے دو فیصد رہی لیکن ان اعداد پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ہزاروں افراد کا علاج اب بھی جاری ہے اور شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی غیر واضح ہے کہ ہلکی پھلکے علامات والے کتنے کیسز ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس صورت میں شرح اموات کم بھی ہو سکتی ہے۔
ہر سال ایک ارب افراد انفلواینزا کا شکار ہوتے ہیں اور دو لاکھ نوے ہزار سے چھ لاکھ پچاس ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ فلو کی شدت ہر سال بدلتی ہے۔

کیا کورونا وائرس کا علاج ممکن ہے؟
تاحال اس کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے، مریض کے جسم کو فعال رکھ کر، سانس میں مدد فراہم کر کے، تاوقتکہ ان کا مدافعتی نظام اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائے۔تاہم اس کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمانی شروع کر دی جائے گی۔

ہسپتالوں میں وائرس کے خلاف پہلے سے موجود دواؤں کا استعمال شروع کر رکھا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کے آیا ان کا کوئی اثر ہے۔

ہم خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے:
•اپنے ہاتھ ایسے صابن یا جیل سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو۔
•کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں، بہتر ہوگا کہ ٹشو سے، اور اس کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔
•کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے یہ آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
•ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ ان کے منہ سے وائرس والے پانی کے قطرے نکل سکتے ہیں جو کہ فضا میں ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔
•اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیں۔ اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے ںمی دشواری تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ طبی حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔

یہ کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے؟
ہر روز ہزاروں نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کہ اصل میں یہ اس سے کہیں کمبڑے پیمانے پر پھیل رہا ہوسکتا ہے کم سے کم اس سے 10 گنا زیادہ جتنا کہ سرکاری اعداد و شمار میں بتایا جا رہا ہے۔
یہ اب تک اٹلی ،فرانس ،سپین سمیت سارے یورپ،برطانیہ ،امریکا ،جنوبی کوریا، اٹلی، ایران میں پھیل چکا ہے جس کے بعد یہ عالمی وبا بن گیا ہے۔ کسی بھی انفیکشن کو عالمی وبا اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب سے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل کر خطرہ بن جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ اس تعداد کے حوالےسے فک مند ہیں خصوصات ایسے کیسز کے بارے میں جن کا بلاواسطہ تعلق چین سے ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ’وائرس کے موجود ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔موسم سرما میں سردی اور فلو کی وجہ سے یہ زیادہ تیزی سے پھیلا، امکان ہے کہ موسم میں تبدیلی اس وبا کے پھیلاو کو روکنے میں مدد دے گی۔

تاہم کورونا وائرس کی طرح کا ایک وائرس ’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم‘ گرمیوں میں سعودی عرب پھیلتا ہے۔ اس لیے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ گرمیاں اس وبا کو روک دیں گی۔

یہ سب شروع کیسے ہوا؟
یہ وائرس خود کوئی ’نیا نہیں‘ ہے۔ یہ صرف انسانوں میں نیا ہے۔ یہ ایک مخلوق سے دوسری میں آیا ہے۔کئی ابتدائی کیسز چین میں ووہان کے ایسے بازار سے جوڑی گئے جہاں جانوروں کا گوشت ملتا تھا۔
ین میں کئی لوگ جانوروں سے بہت قریب ہوتے ہیں جس سے یہ وائرسز منتقل ہو سکتا ہے۔ اور گنجان آباد شہروں کا مطلب ہے کہ یہ بیماریاں آسانی سے پھیل سکتی ہیں۔

سارس نامی بیماری بھی کورونا وائرس سے ہی شروع ہوئی تھی۔ یہ چمگادڑوں سے شروع ہوئی اور سیوٹ کیٹ سے ہوتی ہوئی انسانوں تکل پہنچی تھی۔سارس کی وبا نے چین میں سال 2002 کے دوران 774 افراد کو ہلاک کیا جبکہ آٹھ ہزار سے زائد اس سے متاثر ہوئے۔حالیہ وائرس کورونا وائرس سے کی یہ ساتویں قسم ہے اور اب تک اس میں کؤیی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ لیکن جب حالات سنبھل جائیں گے تو سائنسدان اس کا قریبی جائزہ لیں گے۔

سانئنسدانوں اور ماہرین طب کے مطابق وائرس کی اپنی بائیو سنتھیٹک مشینری (biosynthetic machinery) نہیں ہوتی. جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا. یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے انرجی حاصل نہیں کر سکتا. یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا. یہ اپنے نیوکلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ (replicate) نہیں کر سکتا. حرکت نہیںی کر سکتا. وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کے لئے ایک ہوسٹ (host) کی ضرورت ہوتی ہے. اسی لئے تمام وائرسز کو (obligate endoparasites) کہا جاتا ہے. یعنی یہ کسی دوسرے زندہ جاندار کے جسم کے اندر رہ کر ہی افزائش کرسکتے ہیں. عمل تولید کر سکتے ہیں. انہیں لیبارٹری میں آرٹی فيشل ميڈيا پر grow نہیں کیا جاسکتا. وائرس چونکہ خود سے حرکت بھی نہیں کر سکتا اس لئے یہ passively ہی کسی ہوسٹ تک پہنچتا ہے. ہوسٹ تک پہنچ کر سب سے پہلے یہ اس کے جسم کے سیلز میں گھستا ہے. وائرس کی آمد سے پہلے ہوسٹ کے جسم کے سیلز ہوسٹ کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں. اس کے لئے انرجی یعنی ATP پیدا کر رہے ہوتے ہیں. بیماریوں کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں. مختصر یہ کہ جسم کو توازن یعنی homeostasis میں رکھنے کے لئے اپنا اپنا بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں. جونہی وائرس ہوسٹ کے ان سیلز میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کا مکمل کنٹرول اپنے اختیار میں کرتا ہے. سیلز کے میٹابولزم یعنی وہ ری ایکشنز جو ہوسٹ کے سیلز ہوسٹ کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اب وہ وائرس کے لئے کرنا شروع کردیتے ہیں. وائرس اپنے ہوسٹ کے سیلز سے سب سے پہلے اپنے نیوکلیک ایسڈز کی کاپیز تیار کرواتا ہے. ایک سے دو. دو سے چار اور اسی طرح وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے. وہ ایک ہوسٹ سیل جس کو آغاز میں ایک وائرس نے ہائی جیک کیا تھا اب وہ ہزاروں وائرسز کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ہے. اسی دوران یہ ہوسٹ سیل پھٹ جاتا ہے جسے لائسز (lysis) کہا جاتا ہے.

ایک سیل کے پھٹنے سے ہزاروں وائرسز برآمد ہوکر ہوسٹ کے جسم کے ہزاروں نئے سیلز میں گھس جاتے ہیں. ایک بار پھر سے وہ تمام سیلز وائرس کی تعداد بڑھانے میں لگ جاتے ہیں. اور لاکھوں نئے سائیکلز شروع ہوجاتے ہیں. ان سارے مراحل کے دوران ابھی تک ہوسٹ بظاہر صحت مند رہتا ہے. کیونکہ ہوسٹ کا اپنا جسم بھی کھربوں سیلز کا بنا ہے اور لاکھوں سیلز تباہ ہوجانے کے باوجود نارمل دکھائی دیتا ہے. ان مراحل کو وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ (incubation period) کہا جاتا ہے. بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک یہ انکیوبیشن پیریڈ جاری رہتا ہے. جب ہوسٹ کے باڈی سیلز ایک خاص تعداد تک تباہ ہو جائیں تب جسم نارمل فنکشنز نہ کر سکنے کی وجہ سے بیماری کی علامات ظاہر کرنا شروع کرتا ہے.

اس ساری معلومات کا مقصد آپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر آپ اب تک کرونا میں مبتلا نہیں بھی ہیں پھر بھی آپ خود کو اور دوسروں کو بچائیں. آپ میں سے کوئی بھی وائرس کا کیرئیر ہوسکتا ہے مگر وائرس انکیوبیشن پیریڈ میں ہونے کے باعث علامات ظاہر نہیں کر رہا.

بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کا اب تک کوئی خاص علاج دریافت نہیں ہوا ہے تو کرونا میں مبتلا لوگوں کی ایک خاص تعداد ہسپتالوں سے صحتیاب ہو کر کیسے ڈسچارج ہو رہی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز (quarantine) قائم کرنے کا واحد مقصد کرونا میں مبتلا لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے. تاکہ بیمار لوگ اپنے اردگرد صحت مند لوگوں تک وائرس کی منتقلی کا سبب نہ بنیں. آئزولیشن سنٹرز میں داخل مریضوں کو دنیا بھر میں صرف سادہ پین کلرز دی جا رہی ہیں. سانس اکھڑنے پر وینٹی لیٹرز پر شفٹ کیا جا رہا ہے. جو لوگ صحتیاب ہورہے ہیں وہ اپنے جسم کے مدافعتی نظام کے باعث ہورہے ہیں. مدافعتی نظام یا امیون سسٹم بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کے خلاف ہمارے جسم کا ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے. اور یہی قدرتی حفاظتی نظام ہی لوگوں کو کرونا سے محفوظ کر رہا ہے.

لوگوں کا ایک دوسرا سوال بھی ہے کہ کرونا وائرس جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتا ہے؟ کرونا وائرس سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے. شروع میں جب وائرس سانس کی نالیوں کی دیواروں کے سیلز میں گھستا ہے تو ری ایکشن کے طور پر ریسپائیریٹری نالیاں میوکس پیدا کرتی ہیں جس سے نزلہ، زکام، کھانسی اور چھینکیں آنا شروع ہوجاتی ہیں. جسم وائرس کا قلع قمع کرنے کے لئے نارمل باڈی ٹمپریچر جوکہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے کو بڑھا دیتا ہے. اس وجہ سے بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں. ان سارے عوامل سے یا تو وائرس کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور مریض کے کرونا ٹیسٹس منفی آنے لگ جاتے ہیں. یا پھر اگر یہ سارے عوامل کام نہ دکھا پائیں تو ہم کہتے ہیں کہ مریض کا امیون سسٹم کمزور ہے اور پھر پھیپھڑوں کی تباہی شروع ہوتی ہے. اس کے بعد ہر لمحہ مریض کو بچا پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے.

ان ساری تفصیلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس عالمی وبا کے خلاف کھڑے ہوکر خود کو بچانا ہے. اپنے اہل خانہ کو بچانا ہے. اپنے ملک کو بچانا ہے. اور تمام نسل انسانی کو اس بحران سے پار اتارنا ہے. اپنے گھروں میں قیام کریں. اپنے ہاتھوں کو دھوتے رہیں. مصافحے اور معانقے سے پرہیز کریں. پرہجوم جگہوں سے دور رہیں. سیر سپاٹے ترک کریں. اللہ پر توکل برقرار رکھیں. بے شک اس کی مرضی کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے. پنجگانہ نماز ادا کریں. وضو سے ہاتھ اور منہ بھی دھل جائیں گے اور یقین پختہ ہونے سے بیماری کے خلاف مدافعت بھی بڑھے گی. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے.
آمین.

اپنا تبصرہ بھیجیں