ملازمین کو تنخواہ کے بغیر فارغ کرنے والی زم زم فرماسیوٹیکل کی فرنٹ وویمن سامنے آگئیں

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) زم زم فرماسیوٹیکل نامی کمپنی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ کراچی سے صائمہ مغل نامی خاتون کمپنی کی جانب سے ملازمین کو آن لائن ہائیر کرتی ہیں اور پھر ان سے کام لینے کے بعد ملکی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انہیں بغیر ادائیگی کئے فارغ کردیتی ہیں۔

متاثر ملازمین کے مطابق جن موبائل نمبروں سے ملازمین کے ساتھ رابطہ رکھا جاتا ہے وہ نمبر ملازمین کو فارغ کرنے کے بعد بلاک کر دیئے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ زم زم نامی فرماسیوٹیکل کمپنی کی جانب سے غریب اور پڑھے لکھے لڑکے اور لڑکیوں کو جاب دیکر ان سے کام لینے کے بعد بغیر تنخواہ کے فارغ کرنے اور یہ عمل تسلسل سے جاری رکھنے بارے انکشاف ہوا تھا۔

کراچی۔لاہور اور اسلام آباد میں کمپنی کے متاثرین جلیل احمد۔وسیم خان۔فرح خان۔مینا ملک اور دیگر نے سٹیٹ ویوز کو بتایا تھا کہ زم زم فرماسیوٹیکل نامی کمپنی آن لائن اور دیگر ذرائع سے ہائیرنگ کرتی ہے۔جاب کی تلاش میں پڑھے لکھے اور غریب لڑکے لڑکیاں مختلف شعبوں میں جاب کیلئے اپلائی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ اپلائی کرنے والوں کو ایچ۔آر سمیت فیلڈ میں سپروائزر اور سیلزمین شپ کیلئے جاب دیدی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ہرماہ 19 تاریخ کو طے شدہ تنخواہ ملے گی۔

یاد رہے کہ ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد تنخواہ کی بات اگلے ماہ تک ٹال دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کمپنی کی یہ پالیسی ہے کہ ایک ماہ کی تنخواہ کمپنی اپنے پاس رکھے گی۔ملازمین تین ماہ تک تنخواہ کا انتظار کرتے رہتے ہیں جس کے بعد مختلف حیلے بہانے اور وجوہات سامنے رکھی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ملازمین ازخود نوکری چھوڑ دیتے ہیں جبکہ کمپنی سے جب تنخواہ کیلئے رابطہ کیا جاتا ہے تو موبائل نمبر بلاک کردیئے جاتے ہیں۔

متاترین نے بتایا کہ ہائرنگ کے بعد بغیر تنخواہ کے ملازمین جب نوکری چھوڑتے ہیں تو لائن میں لگے مزید لوگوں کو ہائرکرلیا جاتا ہے اور انکے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا ہے جو ان سے پہلے ملازمین کے خلاف کیا جاتا ہے۔

سٹیٹ ویوز کے استفسار پر متاثرین نے بتایا کہ یہ کمپنی جلد سے متعلق پروڈکٹس دوسرے ملکوں سے منگواتی ہے اور پھر پاکستان میں موجود شاہین۔ڈی واٹسن سمیت اس طرح کے دیگر آؤٹ لٹس میں اپنا کاؤنٹر لگا کر بیچ دیتی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ ان آؤٹ لٹس میں قائم کاؤنٹرز پر سیل کیلئے لاہور۔کراچی اور اسلام آباد میں لوگوں کو ہائرکیا جاتا ہے اور پھر کچھ ماہ تک تنخواہ ادا نہ کرکے نوکری چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔بے روزگار ملازم کے پاس وسائل نہیں ہوتے کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے جس کا نتیجہ کمپنی کے حق میں برامد ہوتا ہے۔

متاثرین نے بتایا کہ اس کمپنی کا ہیڈ آفس کراچی میں ھے جبکہ مختلف شہروں میں بھی دفاتر قائم کرتے اور ختم کرتے رہتے ہیں۔متاثرین نے یہ بھی بتایا کہ متذکرہ کمپنی شاہین اور ڈی واٹسن میں قائم کاؤنٹرز کے ذریعے (Foltene۔Heliocare۔Avenue۔Mustela۔NeoStrata
۔ISIS Pharma)جیسی پروڈکٹس باہر سے منگوا کر بھاری قیمت میں بیچتی ہے۔

اب متاثرین یہ بات سامنے لائے ہیں کہ انہیں صائمہ مغل نامی خاتون کی طرف سے آن لائن ہائرکیا جاتا ہے اور پھر کام لینے کے بعد فارغ بھی کردیا جاتا ہے۔کمپنی کے مختلف شہروں میں قائم دفاتر بھی صائمہ مغل سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ رابطے اچانک ختم کردیئے جاتے ہیں اور دفتر شفٹ کرلیا جاتا ہے۔

سٹیٹ ویوز نے بتائے ہوئے کمپنی نمبرز پر موقف کیلئے رابطہ کیا تو جواب موصول نہ ہوا تاہم رابطہ ہونے کیصورت میں سٹیٹ ویوز کمپنی کی انتظامیہ کا موقف بھی سامنے لائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں