کورونا اور اہلخانہ کے دباؤ کے باوجود خاتون صحافی معاشرے کیلئے مثال بن گئیں

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) اسلام آباد کے سینکڑوں صحافی جہاں اس وقت کورونا کی وباکے بارے میں ناظرین کو فرنٹ لائن سے باخبر رکھے ہوئے ہیں وہیں مرد رپورٹرز کے ساتھ ساتھ خواتین رپورٹر بھی فیلڈ میں خاصی سرگرم نظر آ رہی ہیں۔ خواتین رپورٹرز کی زیادہ تعداد ہیلتھ کی بیٹ کو ر کر رہی ہیں ،موجودہ صورتحال میں جب کورونا کی وبا ملک بھر میں پھیل چکی ہے ایسے میں شہر اقتدار کے مختلف اسپتالوں کے آئیسولیشن سینٹرز ، پولیس کے ناکوں اور کورونا سے متاثرہ علاقوں سے رپورٹ کرنے والی یہ خاتون صحافی اسماء شوکت ہیں جو دنیا ٹی وی کے ساتھ فرائیض سر انجام دے رہی ہیں۔

اسماء شوکت ہیلتھ کی بیٹ کر رہی ہیں اور اس وقت ان کی بیٹ کا عروج ہے ۔سٹیٹ ویوز نے اسماءشوکت کےساتھ دن کا اک ایسا حصہ گزارا جب وہ براہ راست رپورٹنگ کے لیے اسلام آباد کے ایک انٹری پوائینٹ پر ڈیوٹی سر انجام دے رہی تھیں، حالیہ ہیلتھ ایمرجنسی کی وجہ سے جہاں انہیں اسلام آباد کے مختلف اسپتالوں میں قائم قرنطینہ سینٹرز کے باہر سے رپورٹنگ کرنا ہوتی ہے وہیں انہیں شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر شہر کو لاک ڈاؤن کرنے کے سلسلے میں سیکیورٹی صورتحال پر بھی اپ ڈیٹ کرنا ہوتاہے۔

سٹیٹ ویوز کا رپورٹر سے سوال:ٹی وی رپورٹنگ میں کیا سوچ کر آئیں ؟معلوم تھاکہ ایسے حالات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے ؟
اسماء کا کہنا تھا کہ آسان وقت اور حالات میں رپورٹنگ شروع کی تھی اور اسے پیشے کے بجائے اپنے شوق کی بنیاد پر جاری رکھا ہوا ہے جب حالات خراب نہیں ہوتے تب اپنی بیٹ کی رپوٹنگ سے خوب لطف آتا ہے اس وقت ذرا زیادہ مشکل وقت ہے لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا۔

سوال:ہیلتھ کی بیٹ کرنے والی خواتین رپورٹر زکے لیے یہ وقت کتنا مشکل ہے ؟
اسما، ملک میں کورونا کی وبا پھیل چکی ہے لیکن ہم رپورٹرز کو فیلڈ میں بھی جانا ہوتا ہے اس لیے زندگی کا خطرہ تو ہر وقت ہی رہتا ہے گھر والے بھی بہت پریشان رہتے ہیں اور منع کرتے ہیں کہ نہ گھر سے باہر نہ جاو ، لیکن ہیلتھ رپورٹرز کو مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ اسپتالوں میں جانا پڑتا ہے اور اپنے فرائض سرانجام دینا ہوتے ہیں۔

سوال:اگر ایسے ہی ہنگامی حالات جاری رہے تو آپ کب تک ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں گی ؟
اسما، مجھے پوری امید ہے کہ اگر میری جان کو خطرہ نہ ہوا تو میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں سرانجام دینے سے نہیں گھبراؤں گی،لیکن امید کی جا رہی ہے کہ موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی اس وبا پر قابو پا لیا جائے گا۔

سوال:اپنے ہمراہ ڈی ایس این جی سٹاف اور فیلڈ کےلوگووں کے لیے کیا محسوس کرتی ہیں؟
اسما، اک صحافی جو ٹی وی رپورٹر ہوتا ہے وہ اکیلا کچھ بھی نہیں ہوتا ہے اس کے ہمراہ اس کا پورا سٹاف ہوتا ہے جو اسے کسی بھی مقام تک لے جاتا ہے جس میں کیمرہ مین ، سیٹیلائیٹ انجئیر وغیرہ شامل ہوتے ہیں، لہذا ان تمام لوگوں کی زندگی بھی ایسے حالات میں اتنے ہی خطرات کا سامنا کرتی ہے جو کہ ایک رپورٹر کو فیس کرنے پڑتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں