آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء تین سالہ دور میں کن تنازعات کی زد میں رہے؟

رپورٹ:خواجہ کاشف میر
سٹیٹ ویوز: اسلام آباد

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ:
واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ چیف جسٹس سمیت 3 ججز پر مشتمل ہوتا ہے۔پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے برعکس ، آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے ججز کا براہ راست تقرر کیا جاسکتا ہے جبکہ ہائیکورٹ سے بھی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی جاسکتی ہے اور پاکستان کی سپریم کورٹ کے برعکس آزادکشمیر سپریم کورٹ صرف اپیلٹ ادارہ ہے۔آزاد جموں کشمیر کے آئین کے مطابق سپریم کورٹ کا ادارہ ٹریبونل اور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر اپیلوں کی سماعت کا اختیاررکھتا ہے اور سپریم کورٹ اپنے دئیے گئے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے جو معاملہ اس نے حل کیا ہو اس کو دوبارہ کھولتے ہوئے خود سے توہین عدالت کی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ رولز 1978ء کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔

ابراہیم ضیاء کا بطور چیف جسٹس حلف اور عدالتی عملے کو دیئے گئے احکامات:
چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے 25 فروری 2017ء کو آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے 12ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔بطور چیف جسٹس اپنے پہلے خطاب میں چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے عدالتی ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ اضافے کو نماز کی پابندی سے ادائیگی سے مشروط کیا تھا۔چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کا کہنا تھا کہ نماز کے لیے ملازمین کے 2 گروپ ہوں گے، ایک گروپ کی امامت میں خود کروں گا جبکہ معمول کے امام دوسرے گروپ کی امامت کریں گے۔ساتھ ہی آزاد جموں وکشمیر کے نئے چیف جسٹس نے تمام ملازمین کو اپنی ذمہ داریاں مکمل امانت، دیانت اور خلوص سے ادا کرنے کی تلقین بھی کی اور کہا تھا کہ کہ تمام ملازمین کو فرض کی ادائیگی کے دوران ذاتی پسند و ناپسند، علاقائی اور لسانی تفریق سے بالاتر ہونا چاہئے جبکہ کسی بھی غیرذمہ دارانہ رویے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

چیف جسٹس کی ملازمین کو دی جانے والی ان ہدایات کے بعد قومی سطح پر بحث کا آغاز شروع ہوا کہ کیا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ترقی کو نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے سے مشروط کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ تو ملک کے نامور عالم دین مفتی نعیم نے چیف جسٹس کے اس حکم نامے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا حکم دینا ہر گز مناسب نہیں لیکن چیف جسٹس کیلئے بہتر رہے گا کہ وہ ذاتی حیثیت میں نماز پڑھنے کی تبلیغ کرتے رہیں۔

چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے سال 2018ء کے ماہ فروری کے پہلے ہفتے میں سابق سیکرٹری حکومت سردار رحیم خان کو رجسٹرار سپریم کورٹ تعینات کیا جس کو وکلاء نے غیر قانونی قرار دیا۔ایک سابق بیوروکریٹ کو اس طریقے سے رجسٹرار تعینات کرنے پر وکلاء کی بیشتر بار ایسوسی ایشنز نے اس تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے احتجاج کرنا شروع کردیا ۔ رجسٹرار تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ کے وکلاء جن میں فیاص جنجوعہ ایڈووکیٹ بھی شامل تھے انہوں نے اس تقرری کو عدالت میں چیلنج کرنے کیلیے رٹ پٹیشن دائر کی اور کیس کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی 13 ماہ سروس کے بعد سردار رحیم خان نے عہدے سے استعفی دیدیا تھا۔

چوہدری ابراہیم ضیاء کے بیٹے کا گاڑی اسکینڈل:
13 مارچ 2017ء کو جب چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کے بیٹے ارسلان ابراہیم کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں واضح دیکھا جا سکتا تھا کہ چیف جسٹس کے زیر استعمال آفیشل گاڑی پر وہ سیر و تفریح کر رہا اور ایک سیاحتی مقام پر کھڑے ہو کر تصاویر بنوا رہاہے تو آزاد کشمیر کی سول سوسائٹی اور میڈیا کے لوگوں نے سوالات کھڑے کرنا شروع کر دیئے کہ جس چیف جسٹس کا اپنا بیٹا اسکی اپنی آفیشل گاڑی کا غلط استعمال کر رہا ہو وہ عدالتی ملازمین کو زبردستی نمازی بنانے، نیک صالح اور امانتدار رہنے کی تلقین کیسے کرسکتا ہے۔

سیکرٹری کالجز شاہد محی الدین کی گرفتاری کا حکم:
چوہدری ابراہیم ضیاء نے 6 دسمبر 2017 ء کو تعلیمی پیکج کے کیس میں سیکرٹری تعلیم کالجز شاہد محی الدین کی گرفتاری کا حکم دیا تھا، جس پر احاطہ عدالت سے انہیں گرفتار کرلیا گیا اور دو ہفتے تک پولیس نے انہیں حراست میں رکھا۔عدالت کی طرف سے ایک بیوروکریٹ کو اس طرح گرفتار کرنے کے احکامات پر اس وقت حکومتی حلقوں و سول سوسائٹی میں بحث جاری رہی کیونکہ تعلیمی پیکج پر عمل کرنے کا اختیار وزیر اعظم اور وزیر تعلیم کے پاس ہوتا ہے اور جب تک وہ منظوری نہ دیں بیوروکریسی اپنے تئیں کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں کرتی۔ اس وقت یہ افواہ بھی سرگرم رہی کہ چوہدری ابراہیم ضیاء نے اپنی کسی پرانی اور ذاتی چپقلش کی بنیاد پر شاہد محی الدین سے انتقام لینے کیلئے یہ گرفتاری کے احکامات دیئے۔


سردار خالد ابراہیم خان کی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر از خود نوٹس:
چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء سال 2018 کے ماہ اپریل کے اوائل میں اس وقت خبروں کی زیادہ زینت بنے جب انہوں نے رکن اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان کو از خود نوٹس لیتے ہوئے طلب کرنے کے احکامات دیئے۔ سردار خالد ابراہیم خان نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے چیف جسٹس اور صدر آزادکشمیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے عدالت میں تعینات ہونے والے نئے ججز پر سودا بازی کی ہے اور آئین و قانون کے خلاف پانچ افراد کو ججز تعینات کرایا ہے۔

چیف جسٹس نے اسمبلی میں کی گئی اس تقریر پر از خود نوٹس لیتے ہوئے خالد ابراہیم خان کو توہین عدالت کا مرتکب قراردیا تھا، خالد ابراہیم کو نوٹس بھیجے گئے جس پر انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ چیف جسٹس کے ان غیر آئینی احکامات کو نہیں مانتے کیونکہ ان کے نزدیک چیف جسٹس آزادکشمیر کے پاس اختیار نہیں کے وہ از خود نوٹس لے یا یہ اختیار بھی نہیں کہ چیف جسٹس اسمبلی میں کی گئی کسی رکن کی تقریر پر طلب کرے۔ چوہدری ابراہیم ضیاء نے سردار خالد ابراہیم خان کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیا تھا جبکہ سردار خالد ابراہیم خان نے چیف جسٹس کے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے چیف جسٹس کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف سیاسی جدوجہد شروع کر دی تھی اور چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے سے صاف انکار کردیا تھا۔


خالد ابراہیم خان کیس پر فیصلہ اور چیف جسٹس کے خلاف دائر ریفرنسز:
4 نومبر 2018ء کو سردار خالد ابراہیم خان کی برین ہیمرج کی وجہ سے موت واقع ہوئی تو 8 نومبر کو عدالت نے ان کے خلاف مقدمہ ختم کردیا تھا جبکہ سردار خالد ابراہیم خان کے فرزند سردار حسن ابراہیم خان نے اپنے والد کی چھوڑی ہوئی نشست پر الیکشن جیتے اور اسمبلی کے اندر اور باہر چیف جسٹس چوہدری ابراہیم خان کے اقدامات کے خلاف کھل کر احتجاجی تحریک چلائی، 2 اپریل 2019 کو سردار حسن ابراہیم خان نے چیف جسٹس آزادکشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء کے اقدامات کو غیر آئینی و میرٹ کے متصادم قرار دیتے ہوئے چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس بذریعہ وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور ریفرنس جمع کرایا، یہ ریفرنس 11 صفحات پر مشتمل تھا اور اس کے پٹیشنر ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان خود تھے۔ ریفرنس میں چیف جسٹس چوہدری ابراہیم پر آئینی خلاف ورزی اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے، یہ ریفرنس ابھی تک چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس زیر التواء ہے۔آزادکشمیر کے 16 وکلاء کی طرف سے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے خلاف ایک اور ریفرنس بھی چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس دائر کیا گیا لیکن چیئرمین کشمیر کونسل نے اس پر ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی۔

چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کے حق میں برادری کے وزراء کھڑے ہو گئے:
چیف جسٹس اور سردار خالد ابراہیم خان کے درمیان چلنے والی اس آئینی و قانونی جنگ کے دوران آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے 12 ممبران اسمبلی بشمول حکومتی وزراء چیف جسٹس کی برادری کے تھے انہوں نے برادری ازم کی بنیاد پر چیف جسٹس کا کھل کر ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا جبکہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سمیت آزادکشمیر کے مختلف شہروں میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کے خلاف درجنوں مظاہرے ہوئے اور مظفرآباد کے کچھ وکلاء نے چیف جسٹس کے حق میں بھی جلوس نکالا تھا۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس آفتاب علوی کو عہدے سے فارغ کردیا:
15 نومبر 2019ء کو چیف جسٹس آفتاب علوی کی تقرری بارے کیس کی سماعت ہائی کورٹ کے ریفری جج اظہر سلیم بابر نے کی اور آفتاب علوی کی بطور جج تقرری کو غیر آئینی قرار دیا۔ آفتاب علوی کی بطور چیف جسٹس تقرری کو آئین و قانون کے خلاف قرار دیا گیا اس طرح ایم آفتاب علوی چیف جسٹس عدالت عالیہ کے منصب سے فارغ ہوئے۔آفتاب علوی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو چیف جسٹس سپریم کورٹ سمیت دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے آفتاب علوی کے خلاف کیے گئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

عدالت عظمی نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی کی بطور چیف جسٹس آزاد کشمیر ہائی کورٹ تقرری آزاد کشمیر کے عبوری آئین کے آرٹیکل 43(شق 2_A) کے منافی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی کی تقرری غیر آئینی ہے اور ان کی تقرری کے وقت مکمل قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ قانونی ماہرین کے مطابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء نے ایک مرتبہ آفتاب علوی کی تقرری کو درست قراردیا جبکہ دوسری مرتبہ انہیں عہدے سے فارغ کردیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق چوہدری ابراہیم ضیاء نے جسٹس آفتاب علوی سے ذاتی رنجش کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا۔

ماہرین کے مطابق جب آفتاب علوی کی بطور جج تعیناتی ہوئی تو اس سے پہلے آئینی ضرورت کے تحت چیف جسٹس ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے درمیان مشاورت ضروری ہوتی ہے۔ اس وقت آفتاب علوی کی تعیناتی پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی رضامندی شامل تھی جبکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے رضامندی نہ دی تھی۔ ماہرین کے مطابق اس وقت مصطفیٰ مغل چیف جسٹس ہائی کورٹ تھے، وکلاء اس تعیناتی کے خلاف سڑکوں پر آئے تو چیف جسٹس ہائی کورٹ کی طرف سے تحریری موقف سامنے آیا کہ اب مجھ سے رضامندی لے لی گئی ہے لہذا احتجاج ختم کردیں۔ بعد ازاں احمد نواز تنولی ایڈووکیٹ نے اس تعیناتی کو ایک مرتبہ پھر چیلنج کیا تو ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے وہ رٹ خارج کردی۔ رٹ پٹیشن خارج ہونے کے خلاف احمد نواز تنولی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو چوہدری ابراہیم ضیاء پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس تعیناتی کو درست قرار دیاتھا۔

بعد ازاں جب آفتاب علوی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور حلف اٹھایا اس کے بعد جب ہائی کورٹ کے پانچ نئے ججز کی تقرری کو وکلاء نے چیلنج کیا تو اس وقت ایک مرتبہ پھر چیف جسٹس عدالت عالیہ کی ابتدائی تقرری کو چیلنج کردیا گیا ۔وکلاء کے مطابق اب کی بار آفتاب علوی کی تقرری کو ایک طے شدہ منصوبے کے تحت میرپور کے ایک وکیل کو سامنے لا کر چیلنج کرایا گیا اور چیف جسٹس ابراہیم ضیاء اور جسٹس راجہ سعید اکرم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آفتاب علوی کو عہدے سے فارغ کردیا۔یاد رہے کہ چوہدری ابراہیم ضیاء نے بطور جج سپریم کورٹ, شریعت کورٹ کے دو ججز سردار شہزاد اور مشتاق جنجوعہ کو بھی ٹیکنیکل بنیادوں پر عہدوں سے فارغ کیا تھا۔

وزیر حکومت چوہدری سعید کو نا اہل قراردیدیا:
25 ستمبر 2019ء کو سپریم کورٹ آف آزادکشمیر کے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء نے وزیر حکومت چوہدری محمد سعید کو 5 سال کی مدت کے لئے نااہل کردیا۔چوہدری سعید پر میرپور میں جوڈیشل ریسٹ ہاؤس کی زمین پر تجاوزات کرنے کا الزام تھا۔ اس فیصلے پر قانونی ماہرین نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ چوہدری سعید کو غیر آئینی و غیر قانونی طریقے سے اسمبلی نشست سے فارغ کرتے ہوئے نااہل کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ آزادکشمیر نے سابق وزیر چوہدری محمد سعید کی نظرثانی درخواست باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کی تھی اور مسئول علیھم کو نوٹس جاری کیے، چوہدری سعید کی طرف سے سردار عبدالرازق ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوتے رہے. سردار عبدالرازق ایڈووکیٹ نے نظرثانی پیٹشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جس فیصلے کی وجہ سے انہیں توہین عدالت کی سزا سنائی گئی اس میں نہ تو وہ فریق مقدمہ تھے اور نہ ہی انہی کوئی ڈائریکشن یا حکم دیا گیا تھا اور نہ ہی انہوں نے کوئی توہین عدالت کی تھی ، عبدالرازق ایڈووکیٹ کے مطابق چوہدری سعید کو سزا کے باوجود نااہل کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا عدالت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے انہیں غیر آئینی طور پر نااہل کیا.

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے چوہدری سعید کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے اور انکی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی الیکشن کرانے کے احکامات بھی جاری کیے۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے وکلاء فیاض جنجوعہ و دیگر نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اپیلٹ کورٹ کو اختیار نہیں کہ وہ الیکشن کرانے کے احکامات دے اس پٹیشن کو عدالت عالیہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خط کو بنیاد بناتے ہوئے خارج کیا۔ فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ سے جب یہ کیس ریمانڈ کرا کے دوبارہ ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے منظور کرایا تو ہائی کورٹ نے الیکشن کرانے کے پراسیس پر حکم امتناعی جاری کردیا تھا۔ فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس کیس میں خط لکھ کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا کیونکہ الیکشن کرانے کا اختیار چیف الیکشن کمشنر کو حاصل ہے۔

جسٹس (ر) منظور گیلانی کا چوہدری سعید کیس پر تبصرہ:
آزادکشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی نے چوہدری سعید کے خلاف دیئے گئے اس فیصلے کے حوالے سے تبصرہ کیا کہ وزیر حکومت چوہدری سعید کے خلاف یہ فیصلہ آئین و قانون اور توہین عدالت کے قانون سے استحصال باالجبر ہے ، جس فیصلہ کی پاداش میں چوہدری سعید کو توہین عدالت کی سزا دی گئی کیونکہ اس میں نہ وہ فریق تھا نہ فیصلہ اس کے خلاف تھا۔ یہ پرائیویٹ فریقین کے درمیان ایم ڈی اے کا معاملہ تھا جس میں صرف وہی لوگ اس کے پابند تھے جو اس میں فریق تھے ، یہ فیصلہ دو فریقین کے درمیان تھا اور قانون کی روشنی میں ان کی حد تک تھا ،اس میں چوہدری سعید کہاں سے ملزم ٹھہرا جس کا اس کے ساتھ کوئی لین دین نہ تھا۔ عدالتی فیصلوں کے پابند فریقین ، ماتحت عدالتیں اور انتظامی آفیسر ہوتے ہیں۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ایم ڈی اے کے ملازمین کے خلاف کارروائی ہو سکتی تھی کہ انہوں نے چوہدری سعید کو اس سے بے دخل کرنے کی کارروائی کیوں نہیں کی۔ یہ نا انصافی اور عدالتی اختیار کے غلط استعمال کی انتہا تھی ،اس سے بڑھ کربھی چوہدری سعید کو اسمبلی ممبر شپ سے نااہل قرار دینا آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس کا اختیار صرف چیف الیکشن کمشنر کو حاصل ہے۔ آئین کی اس ہی طرز کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں ریاض اختر چوہدری کو مائل قرار دے کر بر طرف کرنے کی سفارش کی تھی اور فیصلہ کرنے والے بینچ کا ایک جج اس فیصلے کا حصہ بھی تھا۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ، جب برستی ہے تو قہر بن کے برستی ہے ، لیکن اس کا پہلا شکار اس کیخلاف چپ رہنے والے ہوتے ہیں ، پھر کرنے والے اور ان کے ساتھ باقی سب بھی بھسم ہونگے۔

وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کاچیف جسٹس کو گھر بھیجنے کا عندیہ:
25 اکتوبر 2019ء کو وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آف آزادکشمیر کے چیف جسٹس اور ججز اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں، اداروں کے درمیان تصادم کی کوشش نہ کی جائے۔وزیراعظم نے کہا تھا کہ وزیر حکومت چوہدری سعید کو عدالت سزا ضرور دے سکتی تھی لیکن اسمبلی نشست سے ہٹانے اور نا اہل کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں ،سپریم کورٹ کے ججز اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے یہ بھی کہا تھا کہ چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء اور دیگر ججز کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف ہم آئینی قدم اٹھائیں گے۔ راجہ فاروق حیدر خان نے کہا تھا کہ کابینہ کے اراکین پوچھتے ہیں کہ ایک وزیر کو نا اہل کیا گیا، آپ کیوں خاموش ہیں؟ تو میں سب کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ چیف جسٹس ریاض اختر چوہدری کو میں نے گھر بھیجا تھا یہ چیف جسٹس بھی غیر آئینی اقدام کے بعد آئینی اقدام کیلیے تیار رہیں۔

حویلی میں محبوب اور نعیم قتل کیس کا متنازعہ فیصلہ:
آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کے گاؤں ہالن شمالی کے دو سگے بھائیوں محبوب اور نعیم کو 2013ء میں انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا تھا۔ ان کی نعشوں کو مسخ کر کے ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا، گرفتاری کے بعد ملزمان نے اعتراف جرم کیا اور نعشوں کی نشاندہی کی جس کے بعد نعشیں برآمد کی گئی تھیں۔ سیشن کورٹ حویلی کہوٹہ میں اعتراف جرم کے بعد آلہ قتل بھی ملزمان نے خود عدالت کے سامنے پیش کیا جس پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے 25 سال قید اور دس دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اپیل کی صورت میں ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا۔مجرموں کو بچانے کیلئے ان کے ورثاء سپریم کورٹ چلے گئے جہاں سپریم کورٹ نے مجرموں کے اعتراف جرم ،ان کی نشاندہی پر نعشوں کی برآمدگی اور آلہ قتل کی برآمدگی کے باوجود بھی سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیکر مجرموں کو بری کردیا تھا،چوہدری ابراہیم ضیاء کی طرف سے سنائے گئے اس فیصلے پر شدید عوامی غم و غصہ سامنے آیا اور حویلی کے لوگوں نے اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں چیف جسٹس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ اپنی برادری کے ملزمان کو جرم ثابت ہونے کے بعد بھی انہوں نے اقربا پروری کی بنیاد پر رہائی دیدی ہے۔

فراڈ ، جعل سازی کی پٹیشن ہائی کورٹ میں دائر کیے جانے پر چیف جسٹس برہم:
سال 2020 ء کے تیسرے ہفتے کے آغاز پر سپریم کورٹ کے ایک نامور وکیل مجاہد نقوی ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کے خلاف چئیرمین کشمیر کونسل کے پاس دائر ریفرنسز پر کارروائی کیلیے عدالت عالیہ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ چیف جسٹس نے اپنے کیس بارے عدالت عالیہ میں پٹیشن دائر ہونے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ کے رجسٹرار اور ڈپٹی رجسٹرار کو نوٹس جاری کر دیئے تھے جبکہ قائم مقام چیف جسٹس ہائی کورٹ سے جواب بھی طلب کیا تھا۔

مجاہد نقوی ایڈووکیٹ نے چوہدری ابراہیم ضیاء پر کیا الزامات عائد کیے؟
مجاہد نقوی ایڈووکیٹ نے اپنی پٹیشن میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری ابراہیم ضیاء کے خلاف چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس دائر ریفرنسز پر کارروائی کی جائے۔ اگر ریفرنسز درست ہیں تو کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے اور اگر ریفرنسز درست نہیں تو انہیں التوا میں رکھنے کی بجائے خارج کیا جائے۔ پٹیشن میں مجاہد نقوی نے یہ موقف بھی اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر کے موجودہ چیف جسٹس چوہدری جسٹس ابراہیم ضیاء اس عہدے کے لیے نہ صرف نا اہل شخصیت ہیں بلکہ ان کے تعلیمی کوائف بھی مشکوک ہیں۔پٹیشن کے مطابق چوہدری ابراہیم ضیاء کی میڑک کی سند جعلی ہونے کیساتھ ساتھ انٹرمیڈیٹ اور قانون کی ڈگریاں بھی مشکوک ہیں۔

چوہدری ابراہیم ضیاء کی تعلیمی اسناد اور دیگر ریکارڈ میں ٹیمپرنگ:
درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کی جمع کردہ دستاویزات کے مطابق انہوں نے سال 1970ء میں میٹرک مکمل کی اور 1970ء سے لے کر 1975ء تک ایک پرائمری سرکاری ٹیچر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیے ، جبکہ موصوف کی جانب سے ظاہر کی گئی تعلیمی اسناد کے مطابق ابراہیم ضیاء نے اسی عرصہ کے دوران ستمبر 1974ء میں بی اے کی ڈگری مظفر آباد سے مکمل کی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری بھی اسی عرصہ میں حاصل کی ، سال 1975ء میں قانون کی ڈگری کا دو سالہ ریگولر کورس بھی مکمل کیا ،جبکہ 20 اپریل 1977ء کو پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایک ہی شخص ایک ہی وقت میں ایک سکول میں سرکاری پرائمری ٹیچر کے فرائض سر انجام دیتا ہے جبکہ اسی عرصہ کے دوران یہ شخص دو سالہ ریگولر کورس کیسے مکمل کرسکتا ہے اور اسی عرصہ میں پنجاب یونیورسٹی سے ریگولر قانون کی ڈگری بھی کس طرح مکمل کرتا ہے؟ درخواست گزار کا پٹیشن میں موقف تھا کہ چوہدری ابراہیم ضیاء کی دستاویزات کے مطابق ڈیڑھ سال قبل یہ اپنی پینسٹھ سال عمر پوری کر چکے اور اب مارچ کے اختتام پر یہ ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ چوہدری ابراہیم ضیاء نے اپنی عمر کے ریکارڈ میں بھی ٹیمپرنگ کر رکھی ہے اس لیے عدالت عالیہ اس دھوکہ دہی کی تحقیقات کرے۔

چیف جسٹس کی جانب سے از خود نوٹس پر ہائی کورٹ کا جواب:
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے عدم پیروی کیوجہ سے درخواست خارج کردی جبکہ رجسٹرار اور ڈپٹی رجسٹرار نے توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونے پر وضاحت بھی کی کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی جانب سے اجازت کے بعد انہوں نے درخواست کا اندراج کیا تھا۔اس سلسلے میں اگر توہین عدالت کا کوئی پہلو نکلتا ہے تو وہ غیر مشروط معافی مانگتے ہیں لیکن درخواست خارج ہونے اور ڈپٹی رجسٹرار کے معافی مانگنے کے باوجود ازخود نوٹس کے تحت توہین عدالت کی کارروائی جاری رہی۔

اس کیس کے حوالے سے 30 مارچ 2020ء کو سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ و دیگر دو ججز پر مشتمل بینچ نے کی جس میں اس کیس بارے پہلے دو پوائنٹس پر فیصلہ کیا گیا۔ ڈپٹی رجسٹرار ہائی کورٹ کو کیس سے بری کردیا گیا، فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت عالیہ میں آئندہ ججز کے حوالے سے ایسا کوئی کیس نہ لیا جائے جس میں ججز کی توہین ہو رہی ہو، ہائی کورٹ نے کیس خارج کردیا ہے اس لیے سپریم کورٹ اب اس کیس کی سماعت نہیں کرے گی تاہم اب عدالت عالیہ اس کیس کو دیکھے کہ کیا اس پٹیشن میں توہین عدالت تو نہیں کی گئی۔

وکلاء نے اس فیصلے پر کہا کہ چوہدری ابراہیم ضیاء نے ججز کے حوالے سے کیس نہ دائر کرنے کی ڈائریکشن دی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد خود پر مقدمات قائم نہیں ہونے دینا چاہتے جبکہ دنیا کی ہر ہائی کورٹ شہریوں کو یہ بنیادی حق دیتی ہے کہ کسی بھی معاملے پر پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے اور کسی درخواست گزار کو رٹ جمع کرانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ کیس ٹرائل کے بعد درست ہو گا تو مخالف فریق کو قانون کے مطابق سزا ملے گی اور درخواست گزار کو انصاف ملے گا اور اگر کیس ثابت نہیں ہوتا تو کیس کرنے والے پر جرمانہ ڈالا جاتا ہے کہ اس نے فریق دوم اور عدالت کا وقت ضائع کیا۔

قانونی ماہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر ججز غیر آئینی طریقے سے تعینات ہوں یا کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں تو کیا ان کے خلاف بھی اس ڈائریکشن کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جا سکے گی؟ ماہرین کے مطابق کسی بھی جج کی بھرتی کے طریقہ کار یا اس کے غیر قانونی و غیر آئینی اقدام کے خلاف رٹ دائر کرنا ہر شہری کا حق ہے۔چیف جسٹس کےریٹائرمنٹ کے وقت خود کو مقدمہ بازی سے بچانے کیلیے ایسی متنازعہ ڈائریکشن دئیے گئے ہیں جو آنے والے وقتوں میں کسی بڑے آئینی و قانونی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جو از خود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی وہ آئین کے آرٹیکل 4 کا حوالہ دیتے ہوئے اختیار استعمال کیا گیا ہے جبکہ ان آرٹیکلز کی پرواہ نہیں کی گئی جس میں سپریم کورٹ کو اپیلٹ کورٹ قراردیا گیا اور اپیلٹ کورٹ کسی بھی معاملے پر خود سے کیس شروع کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق آزادکشمیر کے آئین کے مطابق توہین عدالت صرف عدالتی فیصلوں پر عمل نہ ہونے پر ہوتی ہے۔جب سپریم کورٹ کے احکامات نہ مانے جائیں تب اس کو توہین عدالت سمجھا جاتا ہے اور ججز اس پر توہین عدالت کا اختیار استعمال کرتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق مجاہد نقوی ایڈووکیٹ نے جو رٹ پٹیشن عدالت عالیہ میں دائر کی اس میں انہوں نے جو الزامات چیف جسٹس پر عائد کیے تھے وہی الزامات چیف جسٹس پر ریفرنس میں پہلے سے لگائے جا چکے تھے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بجائے اپنے اوپر لگنے والے فراڈ اور جعلسازی کے الزامات کا مقابلہ کرنے کے سٹیٹ جوڈیشنل پالیسی میکنگ ایکٹ کے چیئرمین کے اختیارات کی آڑ میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق چیف جسٹس نے ملازمت سے جاتے جاتے اپنے آپ کو مستقبل میں بھی ان کیسز سے بچانے کیلئے عدالت عالیہ کے اختیار میں مداخلت کی۔ ماہرین کے مطابق چیف جسٹس کو ان الزامات کا سامنا کرنا چاہیے تھا تا کہ عدالت اور عہدے کی ساکھ بہتر رہے۔سٹیٹ جوڈیشنل پالیسی میکنگ ایکٹ کو غیر قانونی قراردینے کیلئے ایک کیس پہلے سے عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس طرح کے کیسز میں ایسے اختیارات کو استعمال نہیں کیاجاتا جو عدالت میں زیر کار ہوں۔

چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیار پر حکومت کا موقف:
اب حکومت کی جانب سے بھی اس از خود نوٹس کے کیس میں مبینہ طور پر یہ تحریری بیان عدالت میں پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق چیف جسٹس سپریم سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے جبکہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس اظہر سلیم بابر نے بھی اپنے تحریری جواب میں مبینہ طور پر یہ وضاحت دی ہے کہ ہائی کورٹ کسی بھی پٹیشن کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا اختیار رکھتا ہے اس لیے سپریم کورٹ اس کے کام میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

چوہدری ابراہیم ضیاء تین سال کن الزامات کی زد میں رہے؟
چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری ابراہیم پر پہلے سال میں ہی یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنی برادری کے مختلف افراد کو خلاف قوائد بھرتی کیا ہے اور ان ملازمین کی فہرستیں سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہیں جبکہ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا کہ جامعات سمیت مختلف محکموں کے کیسز میں یہ محکموں کے سربراہوں کو طلب کرتے اور بلاجواز تنگ کرتے۔ معاملہ تب ختم ہوتا جب ان محکموں میں چیف جسٹس کی مرضی کے افراد بھرتی ہوتے یا ترقی پاتے۔

چوہدری ابراہیم ضیاء پر بعض وکلاء کی طرف سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا کہ انہوں نے وکلاء میں سے اپنی برادری سے چوہدری شوکت عزیز ایڈووکیٹ کو اپنا فرنٹ مین بنا رکھا تھا، مبینہ طور پر سپریم کورٹ میں جو بھی کیس چوہدری شوکت کے ذریعے آتا تھا، اس کیس پر رات کو بات چیت ہوجاتی تھی اور جائز و ناجائز فیصلے اس وکیل کے کیس میں دیئے جاتے رہے مبینہ طور پر چوہدری شوکت کے ساتھ مالی معاملات بھی طے رہے۔ وکلاء کے مطابق چوہدری شوکت عزیز کے کیسز میں چیف جسٹس نے جو فیصلے شوکت عزیز کے جن دلائل کی بنیاد پر دیئے اگر کوئی اور وکیل ان کیسز کے ریفرنسز کو بنیاد بنا کر چیف جسٹس سے استدعا کرتے تو چیف جسٹس انکی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے۔ بعض وکلاء یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ چیف جسٹس صرف اپنی برادری کے وکلاء کے کیسز میں انکو فیور دیتے تھے جبکہ دوسرے وکلاء کے جائز کیسز پر بھی انکے حق میں فیصلہ نہیں دیتے تھے اور بہت سے وکلاء کا کیریئر انہوں نے ذاتی پسند اور نہ پسندیدگی پر تباہ بھی کیا۔

چیف جسٹس پر یہ الزام بھی عائد کیاجاتا رہا کہ انہوں نے مظفرآباد و گردو نواح کی مختلف سرکاری جگہوں پر غیر قانونی طور پر قبضے کیے اور وہاں تعمیرات کیں۔اس حوالے سے ان کے خلاف مظفرآباد کی سول کورٹ میں ایک مقدمہ بھی زیر سماعت رہا۔ چوہدری ابراہیم ضیاء پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا کہ الحاج اشرف قریشی قتل کیس کے ریویو کے دوران انہوں نے جلال آباد پارک کے مین گیٹ کے سامنے واقع ایک بلڈنگ کے عوض فیصلہ حق میں کرنے کی مبینہ طور پر آفر اپنے بھائی کے ذریعے دی لیکن جب دوسرا فریق نہ مانا تو چیف جسٹس نے ان کے خلاف فیصلہ دیدیا۔

ابراہیم ضیاء پر ججز کوڈ آف کندیکٹ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام:
چوہدری ابراہیم ضیاء پر یہ الزام بھی عائد کیاجاتا رہا کہ بطور چیف جسٹس انہوں نے ججز کوڈ آف کنڈیکٹ کی دھجیاں اڑائیں ، ابراہیم ضیاء کبھی شادیوں میں ہار ڈالے بارات کے ساتھ نظر آتے، کبھی مشاعروں میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوتے، کبھی نجی کاروباری مراکز کے افتتاح کرتے نظر آتے، کبھی اپنی برادری کے پروگراموں میں شریک ہوتے اور کبھی ریلیوں میں نعرے بازی کرتے صف اول میں نظر آتے۔چیف جسٹس پر الزام عائد کیا جاتا رہا کہ بلال ہاشمی نامی ایک نوجوان کو انہوں نے کھلی چھوٹ دیئے رکھی جو ان کے نام پر سرکاری وسائل کا استعمال کرتا رہا۔انکی گاڑی اور سیکیورٹی سٹاف کو ساتھ رکھتا اور مختلف محکموں کے کاموں میں مداخلت کرنے سمیت خود کو چیف جسٹس کا پرائیویٹ سیکرٹری ظاہر کر کے کئی نوجوانوں سے لاکھوں روپے بٹورتا رہا، اسی بلال ہاشمی کی شادی تقریب میں ہار ڈال کر ایک دوست کی حیثیت میں چیف جسٹس کی شرکت کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہیں. آئینی اور قانونی ماہرین کا اس حوالے سے موقف رہا ہے کہ ججز کو اپنی سماجی زندگی بہت محدود کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ اخلاقی تقاضا بھی ہے اور قانونی نقطہ نظر سے بھی ضروری ہے کہ ذاتی تعلقات کسی فیصلے میں آڑے نہ آجائیں لیکن ابراہیم ضیاء نے کسی قانونی یا اخلاقی تقاضے کو ملحوظ خاطر نہ رکھا۔

چوہدری ابراہیم ضیاء رخصت ہونے سے پہلے ذاتی فوائد سمیٹ گئے:
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آزادکشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء مارچ 2020ء کے اختتام پر ریٹائرڈ ہونے سے قبل اپنے تمام معاملات سیدھے کر گئے ہیں،انہوں نے ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو اپنے زیر استعمال ایکسیڈنٹ ہونے والی گاڑی دیکر دوسری گاڑی منگوا لی جو اپنے ساتھ لے جائیں گے، اپنے داماد اور بیٹی کو بھی سرکاری نوکری دلاگئے جبکہ چوہدری ابراہیم ضیاء کی طرف سے سپریم کورٹ میں 13 افراد کی بغیر ٹیسٹ انٹرویو کے مستقل آسامیوں پر بھرتیاں کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بھرتی کیے جانے والوں میں کلرک، ڈرائیور، نائب قاصد وغیرہ شامل ہیں۔

سٹیٹ ویوز کو باوثوق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مارچ کے تیسرے ہفتے میں سپریم کورٹ کے اندر 13 افراد کی بھرتیاں کی گئی ہیں اور ان بھرتیوں کیلئے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر ٹیسٹ انٹرویو کے من پسند افراد تعینات کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان افراد میں خضر، عارف، ریاض و دیگر شامل ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے مختلف ملازمین کے عزیزوں کو بھی بھرتیوں میں شامل کیا گیا ہے جبکہ معلوم ہوا ہے کہ بھرتیوں کے نوٹی فکیشن بھی چھپائے گئے ہیں۔ان بھرتیوں کے حوالے سے موقف حاصل کرنے کیلئے سٹیٹ ویوز نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار شیخ راشد سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں بغیر ٹیسٹ انٹرویو کے کسی بھی اسامی پر بھرتی نہیں کی جا سکتی اور ان کے علم میں نہیں کہ گزشتہ دنوں کوئی نئی بھرتیاں ہوئی ہیں۔

چوہدری ابراہیم ضیاء نے بیٹے، داماد اور بہو کو کیسے نوکریاں دلائیں؟
دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء نے یونیورسٹی آف آزادجموں کشمیر کے وائس چانسلر ڈاکٹر کلیم عباسی کو توہین عدالت کے ایک مقدمے میں طلب کیا اور دباؤ ڈال کر اپنے داماد کو یونیورسٹی میں لیکچرر بھرتی کرنے پر مجبور کیا اورداماد کے گریڈ 18 میں لیکچرر بھرتی ہونے کے بعد توہین عدالت کا مقدمہ خارج کیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ایک بیٹے کو پی ایس سی ممببران کو دباو‌میں ڈال کر گریڈ 17 میں بھی بھرتی کرایا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوہدری ابراہیم ضیاء نے اپنی بہو کو بھی بغیرٹیسٹ انٹرویو کے محکمہ تعلیم میں مستقل اسامی پر بھرتی کرادیا ہے۔

چوہدری ابراہیم ضیاء پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا کہ انہوں نے ہائی کورٹ میں بھی کام کرنے والے ملازمین کو ترقیاں دلائیں اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں اپنے قریبی رشتہ داروں اور برادری کے دیگر لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے بھرتی بھی کرایا جبکہ بعض ملازمین کو غیر قانونی طور پر اپنے گھر پر ملازم بھی رکھا، اس حوالے سے چوہدری ابراہیم ضیاء کے ان اقدامات کے خلاف عدالت میں ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی، اس پٹیشن پر کارروائی نہ کرنے کیلئے ابراہیم ضیاء نے ہائی کورٹ کے ججز پردباؤ ڈالا اور ججز نے مبینہ طور پر اس پٹیشن کو عدم پیروی کا جواز بنا کر خارج کیا جبکہ جن وکلاء نے یہ پٹیشن دائر کی تھی ان کو بھی باز ہآنے کے پیغامات بھجوائے گئے۔

ابراہیم ضیاء کون سی سرکاری گاڑی لیکر رخصت ہورہے؟

سٹیٹ ویوز کو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کے زیر استعمال گاڑی جو رواں سال 6 جنوری کو مظفرآباد میں حادثے کا شکارہوئی تھی، اس گاڑی پر 19 لاکھ روپے اخراجات آئے تھے اور وہ گاڑی محکمہ ٹرانسپورٹ کو واپس کر دی ہے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے محکمہ اکلاس کے ایم ڈی کی گاڑی اپنی فرمائش پر منگوائی ہے، اس گاڑی کی مرمت پر بھی گزشتہ دنوں 12 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں اور اب 31 مارچ کو چوہدری ابراہیم ضیاء کے ریٹائرمنٹ لینے کے ساتھ وہ حاصل استحقاق کے تحت یہ گاڑی اپنے ساتھ لے جائیں گے۔دوسری جانب آزادکشمیر کے قوانین کے تحت کوئی بھی چیف جسٹس 16سو سی سی سے زیادہ کی گاڑی اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔

چیف جسٹس نےریٹائرمنٹ کا نوٹی فکیشن قبل از وقت کیوں جاری کرایا؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس ابراہیم ضیاء نے چیئرمین کشمیر کونسل کے پاس اپنے خلاف دائر دو ریفرنسز پر کارروائی کے خطرے کے پیش نظر آزاد کشمیر حکومت سے اپنی ریٹائرمنٹ کا نوٹی فکیشن ایک ماہ قبل ہی جاری کرا دیا۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ قبل از وقت نوٹی فکیشن ایک ڈیل کے تحت جاری کیا گیا، چیف جسٹس نے بعض کیسز میں حکومت کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی اور حکومت نے چیف جسٹس پر ان کے خلاف ریفرنسز کی لٹکتی تلوار سے بچانے کیلئے ریٹائرمنٹ کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔

قانونی ماہرین کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات:
اب قانونی ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے کہ اگر چیف جسٹس سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے تو چوہدری ابراہیم ضیاء نے سردار خالد ابراہیم خان کے کیس میں اور اب اپنے خلاف دائر پٹیشن پر کیسے اور کیونکر یہ اختیار استعمال کیا؟ اور خالد ابراہیم خان کے کیس کے وقت حکومت نے از خود نوٹس کے اختیار بارے اپنا موقف کیوں سامنے نہ لایا۔ ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اگر غیر آئینی اور غیر قانونی کام کرتے رہے تو ان کے خلاف اب کون اور کیسے کارروائی کرسکتا ہے جبکہ چیف جسٹس کے خلاف چئیرمین کشمیر کونسل کے پاس دائر دونوں ریفرنسز کی اب کیا قانونی حیثیت رہ جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق حکومت کو چاہیئے کہ ابراہیم ضیاء کو 7 کروڑ روپے ریٹائرمنٹ پر دینے کے بجائے یہ بھاری رقم کورونا وائرس سے بچاؤ اور عوامی صحت کی سہولت پر خرچ کرنا چاہیئے اور جب تک چئیرمین کشمیر کونسل کے پاس دائر ریفرنسز میں ابراہیم ضیاء خود پر لگنے والے الزامات کے ٹرائل کا سامنا کر کے کو بے گناہ ثابت نہیں کرتے تب تک ان کو کسی قسم کا کوئی الاؤنس یا پینشن نہ دی جائے۔

چوہدری ابراہیم ضیاء کون ہیں؟
عدالتی ریکارڈ کے مطابق چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کا تعلق مظفرآباد کے ایک نواحی علاقے سے ہے اور یہ یکم اپریل 1955ء کو پیدا ہوئے، 1979ء میں پنجاب یونیورسٹی کے لاء کالج سے ایل ایل بی کیا، جس کے بعد انہوں نے مظفرآباد میں پریکٹس کا آغاز کیا۔ اگست 1982ء میں آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے وکیل بنے جبکہ 1984 میں آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ میں وکالت شروع کی۔چوہدری ابراہیم ضیاء نے مرکزی بار ایسوسی ایشن مظفرآباد میں انتظامی عہدیدار کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں جبکہ آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کے وائس چیئرمین بھی رہے۔

ابراہیم ضیاء نے سال 2000ء میں آزاد جموں و کشمیر احتساب بیورو کے پہلے چیف پراسیکیوٹر کی ذمہ داریاں بھی سرانجام دیں، دسمبر 2009ء سے اپریل 2010ء تک آزاد جموں و کشمیر کے ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔ 2 اپریل 2010ء میں آزاد جموں و کشمیر کی اعلی ترین عدالت میں ایڈہاک جج کےطور پر شامل ہوئے جبکہ 15 دسمبر 2011ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔چوہدری ابراہیم ضیاء نے25 فروری 2017ء سے 31 مارچ 2020 تک آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

نوٹ:اس رپورٹ کی اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ سٹیٹ ویوز رجسٹرڈ محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت اس مواد کی اشاعت ممنوع ہے اور خلاف ورزی پر ادارہ قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں