بھارتی مسلمانوں کی مشکلات اور نظریہ پاکستان

نقطہ نظر: سردار کامران سدوزئی

پڑوسی ملک بھارت تیزی سے اخلاقی۔سیاسی و نظریاتی تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔ مہاتماء گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے کو نیریندر مودی اور انکے ساتھیوں نے بری طرح روند ڈالا ہے۔ اب وہ 72 سال قبل والا بھارت نہیں جو مختلف قومیتوں کو ساتھ لیکر آگے بڑھنے کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا. اب آگ اور زہر اگلتے بھارتی ایوان انسانیت اور دیگر مذاہب کیلیے خطرہ بن چکے ہیں۔ آج بانی پاکستان قاید اعظم محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ درست ثابت ہو چکا اور مہاتما گاندھی اور متحدہ ہندوستان کے حامی مسلمان علماء کا اکٹھ ہندوستان کا نظریہ مسلسل غلط ثابت ہورہا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی سبرامنین سوامی نے حالیہ دنوں میں ایک غیرملکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی ملک میں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد سے بڑھ جائے تو یہ اس ملک کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 کی وضاحت میں ان کا کہنا تھا کہ یہ آرٹیکل لوگوں کی برابری کے حوالے سے ہے جبکہ مسلمان ہندؤں کے برابر نہیں ہیں۔ خیال رہے کہ دو ماہ قبل انتہا پسند جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) مغربی بنگال کے سربراہ دلیپ گھوش نے بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت پورے بھارت میں رجسٹریشن پالیسی پر عمل درآمد کرے گی جس کے بعد ایک کروڑ مسلمانوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ مسلمان بھارت میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔دلیپ گھوش نے یہ بھی کہا تھا کہ جو بھارتی کے متنازع شہریت کے بل کی مخالفت کررہے ہیں وہ بھارت کے خلاف ہیں۔

قارئین کی یاد دہانی کیلیے بتانا ضروری ہے جنرل پرویز مشرف دورہ بھارت پر تھے تو ایک پروگرام میں انہوں نے بھارتی مسلمانوں کو کہا کہ وہ اپنے حقوق کیلیے یکجا ہو جایں تو پروگرام میں موجود کچھ علماء کرام نے ان کے مشورے کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھلرتی سول سوسائیٹی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف کھڑی ہوجاتی ہے اس لیے مشرف انکی فکر نہ کریں۔ جنرل مشرف نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ بھارت اگر اپنے ہاں امن چاہتا ہے تو اسے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دینا ہو گا وگرنہ جیش اور حزب جیسی تنظیموں کو بھارتی مسلمانوں کی بالعموم اور کشمیریوں کی بالخصوص حمایت حاصل ہوتی رہے گی۔

دوسری جانب ہمارے پارٹی قاید وزیراعظم عمران خان نے بی جے پی رہنماؤں کے مذکورہ بیانات کی مذمت کرتے ہوتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت مسلمانوں کے خلاف ایسے بات کرتی ہے جیسے یہودیوں کے خلاف نازی بولتے تھے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹ پیغام میں بھارت کی حکمران سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ بی جے پی قیادت 21 ویں صدی میں 20 کروڑ مسلمانوں کے خلاف کھل کر بول رہی ہے۔ بی جے پی قیادت آر ایس ایس کے نظریے سے متاثر ہے۔ عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ابتداء میں سنجیدہ کوششیں کیں کہ بھارت کے ساتھ حل طلب معاملات پر مذاکرات کیے جایں لیکن جب بھارت کے رویے میں لچک نہ آئی تو عمران خان نے حکمران جماعت بی جے پی کے نظریے اور بنیاد کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔

اب بھارت کے مسلمان خواب غفلت سے جاگتے نظر آرہے لیکن اب کہاں سے کوئی مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کو ڈھونڈ کر لائے اور انہیں بتائے کہ یہ ہے جناح اور اقبال کے پیغام کی جیت کہ جو انہوں نے کل کہا تھا آج وہ ہندوستان کا بچہ بچہ کہہ رہا ہے۔ قائد اعظم نے کیا خوب کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب بھارتی مسلمانوں کو بھارت سے اپنی محبت اور وفاداری ثابت کرنے کے لیے نجانے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑیں گے اور آج وہی ہو رہا ہے مگر کوئی نہیں مان رہا۔

بھارت کے حکمران مسلمانوں کو ہندوستانی تسلیم نہیں کر رہے۔ حالانکہ یہ 20 کروڑ مسلمان اسی بھارت کے باشندے ہیں۔ صدیوں سے وہاں رہ رہے ہیں۔ صرف مذہب تبدیل کرنے پر وہ ہندوئوں کے نزدیک غیر ہو گئے ہیں۔ بھارت کامتنازعہ شہریت بل خود بھارت کے سیکولر اور لبرل عوام کے لیے بھی ناقابل برداشت ہے۔ وہ اسے قابل قبول قرار نہیں دے رہے۔ خود پڑھے لکھے ہندوستانی سڑکوں پر اسکے خلاف مسلمانوں کے ساتھ مل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ آج ایک بار پھر 1947ء کی طرح ہندوستان کی گلی کوچوں میں دو قومی نظریہ اپنی سچائی منوا رہا ہے جو نظریہ پاکستان کی جیت ہے۔ یہی کام 72 برسوں سے کشمیری مسلمان بھی کرتے آ رہے ہیں جنہیں بھارتی حکمران غدار کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک بس شیخ خاندان مفتی خاندان جیسے غدار ہی اصل حقیقی ہندوستانی کشمیری ہیں جو بھارت کی ناجائز غلامی پر راضی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اب بھارت اپنے ان پالتو کارندوں پر بھی اعتبار نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سب اس وقت نظر بندی کی حالت میں ذلت کے دن گزار رہے ہیں۔ بار بار بھارت کو اپنی وفاداری اور کشمیریوں سے اپنی نمک حرامی کا یقین دلا رہے ہیں۔

اب دیکھنا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وہاں بھارتیوں کو رہنے اور جائیدادیں خریدنے کی کھلی چھٹی دینے کے بعد خود کشمیر کی حالت کیا ہو گی۔ کشمیر برصغیر کا فلسطین بنتا جا رہا ہے۔ جہاں ہندو آباد کاری کے لیے کشمیریوں سے زمین ان کے گھر بار حکومت زبردستی چھین کر وہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے تاکہ وادی کشمیر کو جو 85 فیصد مسلم آبادی والا علاقہ ہے۔ میں ہندوئوں کو لاکر آباد کر کے یہاں کی مسلم حیثیت ختم کر دے۔ اس تمام مکروہ منصوبے کے ذمہ دار یہی بھارت کے وفادار چند کشمیری خاندان اور ان کے ماننے والے ہیں۔ جنہیں کل بھی کشمیری غدار کہتے تھے آج بھی کہتے ہیں آئندہ تاریخ میں بھی انہیں کشمیری قوم کے دشمن اور غدار لکھا جائے گا جن کی وجہ سے کشمیری ہندوئوں کے بدترین مظالم اور جبر کا شکار ہو کر اپنی وحدت، ریاست اور شناخت کھو رہا ہے۔اب کشمیریوں کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا کہ وہ یا تو اجتماعی طور پر بھارت کے آگے سرنڈر کر لیں جس کا کوئی امکان نہیں یا پھر بنی اسرائیل کی طرح تتر بتر ہو جائیں یا پھر مل کر آخری بار ظلم کی اس زنجیر کو توڑنے کی سرتوڑ کوشش کریں جو وہ کر رہے ہیں اور یہی اپنی بچی کچھی ریاست کے بچائو کی اپنی شناخت کی اور کشمیریت کے بقا کی آخری صورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں