کشمیریوں کا نفسیاتی ٹارچر!

نقطہ نظر:پیر علی رضا بخاری ایم ایل اے

’پوری دُنیا میں یہ بحث ہے کہ کورونا وائرس سے انتہاپسند قوتوں کی ترجیحات بدل جائیں گی۔یہ موقع تھا کہ جنوبی ایشا کی قوتیں ماضی کی کدورتیں بھول کر صحت عامہ کے شعبے میں اشتراک کی باتیں کرتے۔ لیکن انڈیا بھر میں لاک ڈاون ہے ،کشمیری مہینوں سے مصائب کا شکار ہیں اور بی جے پی کی ہندو انتہا پسند حکومت نے ایک اور اعلان کر کے کشمیریوں کا نفسیاتی ٹارچر کیا ہے۔

ہندوستان کا معاشی خسارہ چھہ فیصد سے تجاوز کررہا ہے، لاکھوں نوکریاں چلی گئی ہیں، غریب لوگ جان دے رہے ہیں، صنعت کا بُرا حال ہے، اور انتہا پسندمودی سرکار اب بھی سمجھتی ہے کہ کشمیریوں کو سزا دینا ضروری ہے۔ یہ اعلان تکلیف دہ ہونے کے علاوہ نہایت حیران کن ہے،جس کو کشمیری ہندوستان کے دیگراعلانوں و اقدامات کی طرح اس قانون کو بھی مسترد کرتے ہیں۔
گذشتہ برس اگست میں فاشسٹ مودی حکومت نے کشمیر کی سیاسی اور آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا جو قانون پارلیمنٹ میں منظور کرلیا تھا اُس کی مختلف شِقیں پچھلے سات ماہ سے مرحلہ وار نافذ کی جارہی ہیں۔

بدھ کی صبح بھی ایک اعلامیہ جاری ہوا جس کے مطابق اب کشمیر میں ڈومیسائل (شہریت) کا نیا قانون نافذ ہوگا اور اُس کی رُو سے سرکاری محکموں میں چپڑاسی، خاکروب، نچلی سطح کے کلرک، پولیس کانسٹیبل وغیرہ چوتھے درجے کے عہدوں کو کشمیریوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جبکہ گیزیٹِڈ عہدوں کے لیے پورے انڈیا سے اُمیدوار نوکریوں کے اہل ہوں گے۔ مبصرین کے نزدیک یہ گویا 70 لاکھ کشمیریوں کو 130 کروڑ لوگوں کے سمندر میں غرق کرنے کے مترادف ہے۔
ایسے وقت جب پوری دُنیا کے ساتھ ساتھ انڈیا بھی کورونا کی وبا سے متاثر ہے اور کشمیر میں متاثرین کی تعداد 100 تک پہنچ چکی ہے جبکہ متعدد کی موت ہوگئی ہے، کشمیر کی سیاسی اور انتظامی حیثیت کے بارے میں اس عوام بیزار اعلامیے پر یہاں کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔

حالیہ دنوں طویل قید کے بعد رہا کیے گئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق کٹھ پتلی وزیراعلی عمرعبداللہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کے حملے کی مدافعت میں پورے ملک کے وسائل جھونک دیے گئے ہیں، کشمیر کے بارے میں یہ ناپسندیدہ اعلان کیا گیا۔ ’اگر اس قدر شدید صورتحال کے بیچ حکومت ہند کے پاس یہ اعلان کرنے کے لئے وقت ہے تو محبوبہ مفتی اور دیگر سیاسی رہنماوں کو رہا کرنے کا وقت کیوں نہیں ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ برس اگست میں کشمیر کی نیم خود مختاری کو ختم کرکے خطے کو دو جموں کشمیر اور لداخ کے الگ الگ مرکزی انتظام والے علاقوں میں تقسیم کیا گیا اور دونوں کو انڈین وفاق میں مکمل طور پر ضم کیا گیا جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
یہ نیا اعلان اس قدر غیرمقبول تھا کہ ہندوستان کی حکومت کو دو لاکھ اضافی فورسز تعینات کرکے کئی ہفتوں تک وادی کو لاک ڈاون کرنا پڑا اور سبھی حریت پسند اور ہندنواز سیاسی رہنماوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں سرکردہ سماجی شخصیات اور نوجوانوں کو گرفتارکیا گیا۔
سیاسی اجتماعات، تقاریر اور انٹرنیٹ پر سخت قدغن لگائی گئی۔ انٹرنیٹ کو جنوری میں سُست رفتار کے محدود پیمانے پر بحال کیا گیا۔

کورونا (Covid 19)وبا کے بیچ ایمنسٹی انٹرنیشنل(Amnesty International ) ، رپورٹرز وَداوٹ بارڈرز (Reportets without Borders )اور انٹرنیٹ فاونڈیشن جیسے عالمی اداروں نے حکومت ہندوستان سے کہا ہے کہ کشمیر میں تیزرفتار انٹرنیٹ کو بحال کیا جائے، تاہم حکومت ابھی بھی سکیورٹی کی صورتحال کا حوالہ دے رہی ہے۔

فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ کو گذشتہ ماہ رہا کیا گیا تھا لیکن اُنہوں نے دیگر قیدیوں کی رہائی تک کوئی سیاسی گفتگو کرنے سے اجتناب کیا ہے-
نئے قانون کے مطابق فوج اور دیگر مرکزی اداروں کے ملازمین اگر پندرہ سال سے زیادہ عرصے سے یہاں مقیم ہوں تو وہ کشمیر کے مستقل باشندے ہونگے اور اُنہیں یہاں نوکریوں، ووٹ اور جائیداد کی ملکیت کا حق حاصل ہوگا۔

اس کے علاوہ جو بچے یہاں سات سال سے زیرتعلیم ہوں اور دسویں و بارہویں جماعتوں کے امتحانات مقامی بورڈ کے ذریعے پاس کئے ہوں، وہ بھی متعلقہ مراعات سمیت کشمیری باشندے تصور ہوں گے۔ نئے قانون کی رُو سے سابق وزرائے اعلیٰ کو حاصل مراعات بھی ختم کی گئی ہیں۔
بیس سال قبل فاروق عبداللہ کی حکومت نے ایک قانون کے ذریعے سابق وزرائے اعلیٰ کو سرکاری مہمان اور کابینہ وزیر کا درجہ دیا تھا جسکے مطابق اُنہیں سکیورٹی، چار ملازمین اور ایک ڈرائیور کے علاوہ سفری اخراجات اور قیام و طعام کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی تھی۔ اب یہ سب ختم ہوگیا ہے۔

دریں اثنا دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے واضح کیا کہ پاکستان، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں متعارف کروائے گئے نئے ڈومیسائل قانون کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے۔ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ “بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جموں کشمیر تنظیم نو آرڈر 2020 بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عائشہ فاروقی نے بھارت کے اس اقدام کو ‘غیرقانونی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے اور عالمی وبا کی آڑ میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیرکشمیریوں کی آبادکاری کر رہا ہے۔

ترجمان عائشہ فاروق نے بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی ڈیموگرافی (آبادی کا تناسب) کم کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے۔بیان میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کے اس اقدام کا نوٹس لیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر جواب طلب کرے۔کشمیری حکومت پاکستان کی طرف سے ایسے ہی ردعمل کی توقع کررہے تھے”۔

ہندوستان کی کشمیریوں کیخلاف حالیہ سازش پر حریت کانفرنس نے بھی سخت ردعمل دیا ہے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما الطاف احمد بٹ نے کہا ہے کہ “لاک ڈاون کی آڑ میں ڈومیسائل قانون تبدیل کردیا گیا،آزادی پسند تناسب کو نئے ڈومیسائل قانون کے ذریعے تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے،کشمیری ہندوستان کے نئے ڈومیسائل قانون کو نہیں مانتے،نئے ڈومیسائل قانون کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں خون خرابے کا خدشہ ہے، کشمیری عوام کروناسے لڑ رہی ہے ہندوستان کےحکمران کشمیریوں کی نسل کشی کی سازشوں میں مصروف ہیں”۔

ادھر آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے نئے ڈومیسائل قوانین کے نفاذ کی مذمت کی ہے۔انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ “بھارتی حکومت کو کشمیر کو اپنی کالونی بنانے کی پالیسی ترک کرکے تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہیے۔آزاد جموں و کشمیر کے صدر نے کہا کہ نئے ڈومیسائل قانون کا ایک اور مذموم مقصد کشمیریوں کو روزگار کے حق سے محروم کرنا اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے ہندو انتہا پسند کارکنوں کو فائدہ پہنچانا ہے”۔

مودی حکومت کے نئے نئے اوچھے ہتھکنڈے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے ان کی آواز کو دبا نہیں سکتے اور انشااللہ مقبوضہ کشمیر جلد بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر پاکستان سے ملحق ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں