نقطہ نظر /روزینہ علی

مہلک کورونا نعمت بھی ہے

جب سے کورونا نے دنیا بھر میں خوف کی فضاء قائم کی انسانی زندگیاں نگلیں تو ہر طرف سناٹوں کا راج ہو گیا، کہیں ٹریفک مکمل بند تو کہیں کم چلنا شروع ہوئی اور گویا انسان کی زندگی چار دیواری میں محدود ہوگئی،کورونا سے پہلے انسان باہر تو نکلتے تھے دن بھر ہر طرف ایک عجیب سے بھیڑ نظر آتی تھی ، کہیں گاڑیوں کے بجتے ہارن ، کہیں انسانوں کے ہجوم کا شور اور ان سب میں انسان ایک عجیب سی زندگی گزار رہا تھا ، اتنی عجیب زندگی کہ جس میں پرندوں کی چہچاہٹ نہیں تھی، سبزے میں شادابی نہیں تھی، نیلا آسمان بھی دھندلا سا لگتا تھا ، نہریں خاموش اور بدبودار ہوتی جا رہیں تھی انسان اپنی زندگی کے ساتھ ماحول کو بھی پراگندہ کرتا جا رہا تھا پھر کورونا کا ایک خاموش پرندہ آیا ادھر ادھر فضاء میں اڑتا انسانوں کو بتاتا گیا کہ زندگی جینے کا صرف یہ ڈھنگ نہیں اپنی حدود و قیود میں رہ کر باقی ماحول کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے،،

اسلام آباد کو شہر حسن کہا جاتا تھا لیکن اس شہر کا حسن بھی فضائی آلودگی کی وجہ سے مانند پڑتا جا رہا تھا ، آلدوگی اتنی تھی کہ اکثر آنکھیں جلنا شروع ہو جاتی تھیں، زرد چہرے منظر کا لطف اٹھانا چاہتے تو بے اختیار ماضی کے دریچوں کو کھول دیتے کہ اسلام آباد کی شادابی خوبصورتی کھو گئی ہے، اسلام آباد میں تیزی سے کٹتے درخت کم ہوتا سبزہ کبھی مارگلہ پہاڑیوں پر آگ یہ سب دیکھ کر دل کٹتا تھا، شام ہوتے ہی اکثر لوگ اس شہر کی اداسی کے گیت گاتے تھے ، شاید اس لیے بھی شہر اداس لگنے لگا تھا کہ اس کو خوبصورت کہنے والوں نے بھی اس شہر کا خیال نہ رکھا تھا لیکن شہر کی اداسی قدرت کو پسند نہ آئی کورونا کے ہی بہانے آلودگی کو قدرت نے اتنا کم کر دیا کہ منظر ایک دم تبدیل ہو گیا

منظر سے یاد آیا اتوار کی خوبصورت شام کا وہ منظر آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو رہا، دماغ کی سکرین پر ابھی بھی فٹ ہے، کیا حسین دلکش اجلا اجلا نکھرا سا منظر تھا ، کیا شادبی تھی شہر کی، ایک دم چمکتا نیلا آسمان سامنے سبزے سے مالا مال مارگلہ کی پہاڑیاں کہیں اڑتے پرندے ، گویا منظر اتنا حسین تھا کہ کوئی بھی اس منظر میں کھو جائے دیوانہ ہو جائے پاگل ہو جائے ، میں خود بہت دیر تک منظر مین کھوئی رہی، اور زیادہ حیرانگی تب ہوئی جب غوری ٹاوَن پہنچنے تک مارگلہ کی پہاڑیاں بالکل واضح صاف نظر آ رہیں تھیں، اس سے قبل جب بھی میں غوری ٹاوَن سے نکلتی یا اسلام آباد سے آتے ہوئے فیض آباد کراس کرتی تو پہاڑیاں نظر ہی نہ آتی تھی یہ خوبصورت مارگلہ کی پہاڑیاں فضائی گردو غبار میں گم ہو جاتی تھیں اور میرا دونوں جانب سے سفر اداسی میں گزرتا تھا لیکن اتوار کی شام میں مزہ ہی آ گیا اور اتنا مزہ آیا کہ غوری ٹاوَن جو مجھے بالکل خوبصورت نہ لگتا تھا یہ علاقہ بھی اچھا لگا،

مانتی ہوں کرونا کی مہلک وبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے لیکن تمام مناظر دیکھر کر میں تو یہی کہونگی کہ ماحول کے لیے نعمت ہے، میں یہ اکیلی نہیں کہہ رہی جیسا کہ پہلے بھی بتایا کہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزرتا ہے تو کئی لوگوں نے بتایا کہ انہیں صاف پانی کے چشمے دیکھ کر مزہ آ رہا ہے، اجلے پانی کی لہریں نظر کو بھا رہی ہیں، نیلا آسمان اور بھی خوبصورت لگنے لگا ہے ، پھر یہ میں ایسے ہی نہیں کہہ رہی فضائی آلودگی میں نمایاں کمی کی تصدیق انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے بھی کی ہے اور فضائی آلودگی میں کمی کے اعداد و شمار بھی بتائے ہیں جسے پڑھ کر مجھے تو خوشی ہوئی اور دلی سکون بھی ملا ہے ، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے بتایا ہے کہ فضاء میں نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈکی مقدار جنوری میں 30 اعشاریہ 22 فروری میں 25 اعشاریہ 72 اور مارچ میں 12 اعشاریہ 93 ریکارکارڈ کی گئی ہے اتنا ہی نہیں فضاء میں PM2.5 یعنی مختلف نوعیت کے آلودگی کے چھوٹے چھوٹے ذرات کی مقدار میں بھی کمی ہوئی ہے ، فضاء میں آلودگی کے ذرات کی مقدار جنوری میں 44 اعشاریہ 4 ،فروری میں 56 اعشاریہ 59 اور مارچ میں فضاء میں آلودگی کے ذرات کی مقدار 16 اعشاریہ 17 ریکارڈ کی گئی اسی طرح فضاء میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار جنوری میں 48 اعشاریہ 27 فروری میں 30 اعشاریہ 90 اور مارچ میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار فضاء میں 13 اعشاریہ 3 ریکارڈ کی گئی ہے،،ایس ڈی پی آئی کے ہیڈ انوائرنمنٹ اور موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر عمران خالد سے جب میں نے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ایئر کوالٹی انڈیکس اگر صفر سے 100 تک ہے توبہتر ہے لیکن ایئر کوالٹی انڈیکس یعنی ہوا میں آلودگی 150 سے بڑھ جائے تو سانس کی بیماریا پیدا ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے ، ڈاکٹر عمران خالد نے ایک اچھنبے کی بات بھی بتائی کہ فضاء میں آلودگی تب تک کم ہوتی رہے گی جب تک آلودگی کے ذرائع قابو میں رہیں گے لیکن تمام ذرائع کے دوبارہ استعمال سے صورتحال چند ہی دنوں میں تبدیل بھی ہو جائے گی،

فضائی آلودگی میں کمی کی تصدیق کے لیے میں نے ڈی جی انوائرمنٹ ڈی فرزانہ الطاف شاہ سے بھی بات کی انہوں نے بتایا کہ گرین ہاوس گیسز میں کمی واقع ہو چکی ہے اور سب سے بڑی وجہ ہیوی ٹریفک کا بند ہونا اور استعمال شدہ آئل سے آگ جلانے میں کمی کی وجہ سے فضائی آلودگی کم ہوئی ہے، سولڈ ویسٹ کی مقدار میں کمی سے بھی فضاء بہتر ہوئی ہے، فضاء میں نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ میں گزشتہ دو ماہ کی بہ نسبت کمی ہوئی ہے، یہ سب سن کر مجھے مزید تسلی اور اطمینان ہوا ،

فضائی آلودگی میں اس قدر کمی اور ماحول میں بہتری کو قدرت کا تحفہ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے ، کورونا کے ختم ہونے کی یقینا دعا بھی کرنی چاہیئے لیکن ساتھ انسان کو عہد بھی کرنا ہوگا کہ دوبارہ وہ قدرت کی نعمتوں کو خراب نہیں کرے گا ، انسان کو سوچنا ہوگا کہ اگر وہ خود کو دوست احباب خاندان سب کو بچانا چاہتا ہے تو اسے ماحول کو بچانا ہوگا، میری طرح یقینا بہت سے لوگ یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ اجلا سا دلکش حسین خوبصورت آنکھوں کو ٹھنڈک دینے والا منظر دھندلا جائے یا غائب ہو جائے ، کوئی نہیں چاہے گا کہ آلودہ فضا میں سانس لیا جائے ، قدرت کا ایک جھٹکا بہت ہے، سائنسی دنیا مجھے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بے بس نظر آ رہی تھی کوئی کچھ نہیں کر پا رہا تھا ، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ہر طرف بڑی بڑی باتیں ہو رہی تھیں لیکن فیکٹریاں بند نہیں ہو سکتی تھیں ، گاڑیاں رک نہیں سکتی تھیں، انسان اپنے سیر و تفریح اور دریاوَں ، سمندروں ، نہروں، چشموں، پہاڑوں پارکوں غرض ہر ایک چیز کو گندہ کرنے کا شوق چھوڑ نہیں سکتا اپنی تفریح کے لیے انسان کسی بھی حد تک جا سکتا تھا اور انسان نے اتنا کچھ کر لیا کہ فضا آلودہ ہو گئی پھر انسان بے بس ہو گئے لیکن دیکھیں قدرت نے یکدم ہی کورونا سے سب بدل دیا ، قدرت کو اپنی نعمتوں سے کھلواڑ پسند نہیں تو اس نے بچا لیا سب آلودہ فضاء کو صاف کر دیا، تو میں تو کہونگی کورونا ایک نعمت ہے باقی ماحول کو بچاتے ہوئے اپنا اپنے پیاروں کا خیال رکھیں اور دعا کرتے رہیں، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں