لاک ڈاؤن میں سختی اور آزاد کشمیر کے بیچارے عوام

تحریر: پیر سید علی رضا بخاری ۔ایم ایل اے

آزاد کشمیر کرونا کے مزید پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے لاک ڈاؤن میں دی گئی نرمی کو واپس لیتے ہوئے آئندہ دو ہفتوں کے لئے سخت لاک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا ۔آزاد کشمیر جہاں ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت انتہائی کم جانی نقصان ہوا ہے وہ بھی حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کرنے کے بروقت فیصلے اور عوام کی جانب سے حکومتی اداروں کیساتھ تعاون کا مرہون منت قرار دیا جا سکتا ہے۔

اٹھارہ مارچ کو جب آزاد کشمیر میں لاک ڈاؤن شروع کیا گیا تو یہاں کرونا کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا تاہم بعدازاں تبلیغی جماعت کے اراکین کی آزاد کشمیر واپسی،بیرون ملک سے لوگوں کی آمد اور آزاد کشمیر کے لوگوں کی پاکستان کے مختلف شہروں اپنے رشتہ داروں کے ہاں آمدورفت سے آزاد کشمیر میں کرونا وائرس نے قدم رکھا اور آہستہ آہستہ پھیلنا شروع کیا ۔
پاکستان کے ازادکشمیر میں انٹری پوانٹس سے لوگوں کی آمدورفت کو اس طریقہ سے سخت نہ کیا جا سکا جس کا تقاضا تھا تاہم پھر بھی اللہ تعالی کا شکر ہے کہ جہاں جہاں بھی مثبت کیس سامنے آئے انتظامیہ نے اس جگہ کو سیل کیا اور لوگوں کے ٹیسٹ کرائے ۔

دوسری طرف لاک ڈاؤن کے دوران وفاقی حکومت نے مالی امداد کا پروگرام شروع کیا تاہم تاجر،دیہاڑی طبقہ ،ٹرانسپورٹ سے شعبہ سے وابستہ افراد شدید مالی بد حالی کا تاحال شکار ہیں حکومت نے لاک ڈاؤن کی حد تک تو ذمہ داریاں نبھائیں مگر معاشرے کے بے روزگار طبقوں کے لئے عملی طور پر کچھ نہ کیا جا سکا۔
اس وقت لوگوں کے چولہے جلانے کیلئے حکومت کی طرف سے مناسب مالی امداد بہت ضروری ہے اور لاک ڈاؤن کو نرم رکھنے کے متعلق بھی سوچنا ہوگا۔

کیونکہ پاکستان میں نرمی ہمارے لئے مشکلات کا باعث رہے گی ۔ہماری حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے اپشن موجود ہیں ، حکومت جو تیرہویں ترمیم کے بعد خاصے وسائل کی مالک ہے کو فلاحی ریاست کا کردار ادا کرنا ہو گا نہ کہ سخت لاک ڈاؤن میں تاجر برادری اور ریڑھی بانوں کی جرمانوں سے تواضع۔

موجودہ لاک ڈاؤن میں ایک اہم مسئلہ جس طرف حکومت کی سنجیدہ توجہ درکار ہے وہ طلبہ کے مسائل ہیں۔ اگرچہ تعلیمی اداروں نے آن لائن ایجوکیشن کا سلسلہ شروع کیا ہے مگر یہ محض فیسیں لینے کی جوازیت کی حد تک ہے انٹرنیٹ کے سسکتے سگنلز آزاد کشمیر کے طلبہ کے تدریسی مسائل کو گھمبیر بنا رہے ہیں اس کے لئے حکومت کو آزاد کشمیر میں فور جی انٹرنیٹ سروس کی حقیقی معنوں میں دستیابی یقینی بنانے کے لئے مرکزی حکومت سے معاونت لینی ہو گی۔

مناسب ہو گا کہ صدر ریاست اور وزیراعظم آزاد کشمیر پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات کر کے معاملہ یکسو کروائیں۔ ساتھ ہی طلبہ کو فری لیب ٹاپ مہیا کیے جائیں جس کے لئے ریاستی ترقیاتی بجٹ میں فنڈز موجود ہیں اور لیب ٹاپ خرید کر دینے کی بجائے طلبہ کو تعلیمی اداروں کے توسط سے نقد ادائیگی کی جائے۔

حکومت کو لاک ڈاؤن کے دوران گھر بٹھائے گئے سرکاری ملازمین کی خدمات استعمال کرنے کے متعلق بھی سوچنا ہو گا ایسے ملازمین کو صرف تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹرانسپورٹ ،پٹرول،ٹی اے،ڈی اے،گاڑیوں کی مرمت،دفتری انٹرٹینمنٹ نئی خریداری وغیرہ کا بجٹ فریز کرتے ہوئے اسے عوام کو تعلیم ،خوراک اور صحت کے شعبوں میں ریلیف دینے کے لئے استعمال کیا جائے یہ بچت کروڑوں نہیں بلکہ اربوں میں بنتی ہے چونکہ یہ بھی ثابت ہو چکا کہ ہزاروں ملازمین کے کام نہ کرنے سے عوام کو حاصل گورننس کی سہولیات پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ بجلی بلز اور تعلیمی اداروں کی فیسیں حکومت اسی بچت سے دے۔

حکومتی مشینری جو عوام کے ٹیکسوں سے حاصل آمدن سے مالی وسائل حاصل کرتی ہے ایک سال کے بجٹ میں تنخواہوں کے علاوہ مراعات سے عوام کے حق میں دستبردار ہو جائے تو کوئی بڑی ڈیل نہیں بلکہ عوام کو ڈھیل ملے گی۔
لاک ڈاؤن سے متاثر ایک طبقہ ہمارے اوورسیز کشمیریز ہیں جو خود لا ک ڈاؤن کا شکار ہونے کے باوجود ملک میں قیمتی زرمبادلہ بھجوا رہے ہیں اپنے عزیزواقارب کی مالی اعانت کررہے ہیں مگر ان کو اپنے ملک آنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

ائرپورٹ سے آتے ہوئے جب انھیں قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے تو ہوٹلز ان سے دوگنا وصول کرتے ہیں اور بہتر سروس بھی نہیں دیتے ہمیں ان کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا اب ہمیں آزاد کشمیر بالخصوص میرپور میں بین الاقوامی معیار کے ہوائی اڈے کی تعمیر کی قدم بڑھانے ہوں گے آخر میں پاکستان کے مختلف شہروں میں مزدوری کے لئے گئے اور لاک ڈاون میں پھنسے اپنے مزدور طبقہ کی عید پر وطن واپسی کے لئے اور ان کے فوری کرونا ٹیسٹس لینے کے انتظامات کرنے چاہئے۔

کیونکہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے -آخر میں اپنے طبی عملے،پاک فوج کے جوانوں ،انتظامیہ ،پولیس ،ایس ڈی ایم اے،داخلہ ،فلاحی تنظیموں ،مخیر خضرات،رضا کاروں کی کاوشوں کو سلام اور عوام سے دردمندانہ اپیل کہ وہ اپنے اور خاندان کی جانوں کی خاطر حکومتی ایس او پیز پر عمل کریں۔ فاصلہ رکھیں مسکراتے رہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں