دیار غیر میں مقیم کشمیری نوجوان کا وزیر اعظم آزادکشمیر کے نام کھلا خط

عزت ماب جناب وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان صاحب
میرا نام نعمان ہے اور میرا تعلق راولاکوٹ کے نواحی گاؤں دریک سے ہے اور میں‌کئی سال سے بسلسلہ روزگار دوبئی میں‌ مقیم ہوں-اب جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کورونا وائرس کے باعث مڈل ایسٹ میں‌کئی ہزار غیرملکی مزدوروں‌ کو انکی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑھے –اور ان کئی ہزار مزدوروں‌میں‌میرا بھی شمار ہوتا ہے –اب جب کہ میری نوکری یہاں ختم ہو گئی ہے تو میں اپنے آبائی وطن واپس لوٹنا چاہتا ہوں-

‌ مگر میں وطن لوٹنے والے ہزاروں تارکین وطن کی طرح وہاں کے حالات کو لیکر خوفزدہ ہوں‌–خوف زدہ ہونے کی بنیادی وجوہات میرے خط میں درج ہیں‌ جو درج ذیل ہیں‌-امید ہے آپ میری طرف سے لکھے گئے اس خط کو مکمل توجہ سے پڑھیں گے اور بیرون ملک مقیم کشمیری جو نوکریاں ختم ہونے کے باعث دیار غیر میں‌مشکلات کا شکار ہیں‌ کے مسائل حل کرنے میں‌سنجیدگی دکھائیں‌گے- وزیر اعظم صاحب چونکہ موجودہ حالات کے پیش نظر بہت سے اورسیز کشمیری جو اس وقت گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں-

اول تو یہ کے محدود فلائٹس کے باعث ٹکٹ نہیں مل رہا اور ایک بڑی تعداد واپسی کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے- لیکن جن لوگوں کو پاکستان کے کسی بھی شہر کے لیے فلائٹ مل بھی جائے ان کو پاکستان پہنچنے پر فورا” ہی وہاں کی انتظامیہ اپنی مرضی کے ہوٹلز ہاسٹلز وغیرہ میں منتقل کردیتی ہے- جہاں ان کو10 سے15 روز جانوروں سے بھی بدتر طریقے سے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔

یومیہ10000 کی چارجز کے باوجود ان لوگوں کو انتہائی ناقص کھانا اور رہائش دی جاتی ہے۔ جناب وزیراعظم یہ وہ لوگ ہیں جو ہمشہ سے ہی اپنے وطن زرمبادلہ بھجتے آِ رہےہیں- یہ تو وطن عزیز کی اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے تھے مگر آج ان سے روا رکھا جانے والا رویہ انھیں عضو ناکارہ ثابت کر رہا ہے- آج جب یہ لوگ پہلے ہی اپنی نوکریاں ختم ہونے پر بے روزگار ہو کر واپس وطن لوٹ رہے ہیں اور مشکل ترین حالات کا شکار ہیں-

ایسے میں ان کے لیے ریاست کی طرف سے کہیں بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ جناب وزیر اعظم راجہ فاروق حیدرخان صاحب میری آپ سے یہ مودبانہ گذارش ہے کے خدارا دیار غیر میں پھنسے ریاستی باشندوں کے لیے کوئی پراپر انتظام کریں تاکہ سالوں بعد وطن لوٹنے والے یہ کشمیری باشندے با عزت اپنے گھروں میں پہنچ سکیں۔ ان کے لیے کشمیر میں ہی قرنطینیہ مراکز قائم کریں تاکہ یہ پاکستان کے جس بھی ایئرپورٹ پر اتریں وہاں سے یہ لوگ ڈائریکٹ کشمیر قرنطینیہ سنٹر منتقل ہوں۔

یہ وقت ان سے چارجز وصول کرنے کا نہیں بلکہ ان کو سہولیات باہم پہنچانے کا ہے ۔ یہ آپ کا فرض ہے کے اس طبقے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائیں ۔یہ اقتداراور جاہ و جلال اللہ نے آپ کو اس لیے عطا نہیں کیا کہ آپ طاقت وروں کے سامنے مظلومیت کی کی تصویر بنیں اور کمزور عوام کے لیے بادشاہ ۔ جناب بادشاہ بھی اپنی رعایا کے لیے اقدامات کرتے ہیں آپ تو جمہوری وزیر اعظم ہیں-

آپ کا فرض ہے کہ آپ ریاست کے ہر فرد کے لیے منصفانہ طریقہ اپنائیں یا آپ اپنے اقتدار سے الگ ہو جائیں ۔ہم تارکین وطن مجرم نہیں کہاپنے وطن میں قرنطینیہ کے لیے پندرہ سو یومیہ جرمانا بھریں اور معاشرتی مجرموں کی طرح قید مجرموں سے بد تر حالت میں نام نہاد قرنطینہ نامی قید کاٹتے زلیل و خوار ھوں۔میں امید کرتا ہوں آپ اس مسئلہ پر ضرور توجہ دیں گے۔
والسلام
محمد نعمان دوبئی

اپنا تبصرہ بھیجیں