نقطہ نظر/طاہر چوہدری ایڈووکیٹ

بیٹیاں اپنے باپ سے اپنی آبرو بچانے کے لیے اب کس کا سہارا لیں ؟

میں‌لاہور میں‌وکالت کے شعبے سے منسلک ہوں‌ اور بطور وکیل میرے پاس کچھ کیسز ایسے آتے ہیں کہ سن کر جیسے جسم سے جان تک نکل جاتی ہے۔ایسے لگتا ہے میں ایک مردہ جسم ہوں اور قبر میں پڑا ہوں۔ کچھ روز قبل ایک خاتون مجھے کال آئی-خاتون بات چیت سے پڑھی لکھی فیملی سے لگ رہی تھیں۔ ان کا مجھے کال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی فیملی سے متعلق کوئی مسئلہ مجھ سے شیئر کرنا چاہ رہی تھیں-

لیکن سلام ودعا کے بعد ان سے اپنے رونے پر ہی قابو نہیں پایا جارہا تھا۔ان کیلئے بات کرنا مشکل تھا۔ میں نے تسلی دی اور بات کرنے کیلئے کہا۔خاتون نے جو پہلی ہی بات کی اس نے میرا دماغ ماؤف کر دیا۔خاتوں کا کہنا تھا کہ “میرا شوہر میری 9 سالہ بچی، یعنی اپنی ہی سگی بیٹی سےجنسی زیادتی کا مرتکب ہوا ہے اور جس کا مجھے دو دن پہلے ہی پتہ چلا۔

بیٹی کچھ عرصے سے چپ رہتی تھی-بیٹی کے چپ رہنے کو میں‌نے الارمنگ سمجھااور اس سے اصرار کیا کہ اس کے چپ رہنے کی کیا وجہ ہے –پہلے پہل تو وہ کچھ بھی بتانے کے لیے تیار نا تھی لیکن پھر اس نے میرے بار بار اصرار پربتایا کہ اس کے والد اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہیں ۔میری بیٹی کے بقول رمضان میں بھی اس کے والد اس کیساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ہوتے رہے اور آخری دفعہ کچھ ہی دن پہلے اسے اپنے والد کی طرف سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے.

خاتون کی طرف سے یہ ساری روداد سننے کے بعد فون میرے کان کو تو لگا ہوا تھالیکن اب مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔خاتون بول رہی تھیں اور میں بے حس۔اسی طرح ساکت۔میرا پیشہ ایسا ہے کہ ہر روز اس جیسی یا اس سے ملتی جلتی کہانیاں‌سننے کو ملتی ہیں‌-بطور وکیل ایسے ایسے کیسز سے پالا پڑتا ہے کہ کبھی کبھار مجھے لگتا لگتا ہے کہ میں جلد پاگل ہوجاؤں گا۔

خیر اس دردناک کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں متاثرہ بچی کی والد ہ کا مجھ سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ یہ سب کچھ معلوم ہونے کے بعد انہیں پتا نہیں‌ کہ وہ اب تک زندہ کیسے ہیں؟خاتو‌ن کا یہ بھی کہنا تھا کہ شوہر گھر پر ان پر کبھی کبھار تشدد بھی کیا کرتے تھے۔دو بچے ہیں۔دونوں پر ان کا رعب تھا۔ وہ بیٹی کیساتھ جنسی زیادتی یہ کہ کرتے رہے کہ اگر اس نے اس بارے میں‌ کسی کو کچھ بتایا تووہ اس کی ٹانگیں توڑ دیں گےاور یہ کہ وہ اس کی ماما کو جان سے ماردیں گے.

یہ ساری دردناک واقعہ سنانے کے بعد خاتون کا مجھ سے سوال تھا کہ بتائیے میں کیا کروں؟لیکن میں‌اس ماں کو کیا جواب دیتا-اس خاتون کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنی بچی پر یہ ظلم کرنے والے اپنے شوہر کو سزا دلوانا چاہتی ہےاگر وہ آج بچی کا میڈیکل کروائے تو کیا اس میں جنسی زیادتی ثابت ہوجائے گی؟ کیا ڈی این اے ٹیسٹ سے باپ پکڑا جائے گا؟جبکہ بچی کے بقول اس کیساتھ آخری بار جنسی زیادتی رمضان میں ہی آخری بار 9،8 دن پہلے ہوئی۔

مزید تصدیق کیلئے انہوں نے اپنے طور پر ایک پرائیویٹ خاتون ڈاکٹر کو بھی چیک کروایا ہے۔اس نے بھی بچی کے ساتھ اس حرکت کے کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ میں نے انہیں بتایا ہے کہ ڈی این اے کروانے کیلئے تو زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹے کے اندر معائنہ کروایا جائے تو سیمن ڈیٹیکٹ ہونے کے امکانات ہیں۔اتنے عرصے کے بعد اب تقریبا ناممکن ہے کہ فارنزک لیب سے رپورٹ پازیٹو آئے۔

تاہم جب فارنزک لیبز نہیں ہوا کرتی تھیں‌ تو زیادتی کے جرائم میں میڈیکل ایگزامینر متاثرہ خاتون یا فرد کا ٹو فنگر وغیرہ ٹیسٹ کیا کرتے تھے اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر مقدمہ آگے چلتا تھا۔آج بھی ایسا ہوتا ہے۔ لہذا بچی کا طبی معائنہ کروائیں۔اتنی چھوٹی بچی کے جسمانی اعضا میں تبدیلی ڈاکٹر کو پتہ چل جائے گی۔ہائمن کو نقصان پہنچا ہوگا۔ انٹرنل انجری کے علاوہ دیگر کئی علامات بھی سامنے آ جائیں‌گی۔

میری طرف سے خاتون کو اس کیس سے متعلق اور بچی کے باپ کو سزا دلوانے سے متعلق بتائے گئے پروسیجر کے بعد یہ خاتون‌خوف کا شکار ہیں۔وہ ڈر رہی ہیںکہ اگر ایف ائی ار کروائی تو سب کو پتہ چل جائے گا۔رشتہ داروں میں ساری زندگی کیلئے بدنامی ہو گی جس کے باعث بچی کی زندگی خراب ہو جائے گی ۔خاوند کے گھر والے بھی دھمکا رہے ہیں کہ خبردار کسی کو کچھ بتایا۔

ان کے بیٹے کیخلاف مقدمہ نا درج کروانالیکن دوسری طرف یہ احساس ساری زندگی مارتا رہے گا کہ اپنی کمسن بیٹی کے مجرم کو اختیار ہونے کے باوجود سزا نہیں دلوائی۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ میں تو خود اب بے حسی کے آخری مقام پر پہنچ چکا ہوں۔ کچھ عرصہ اور اس طرح کے واقعات اور کیسزکو دیکھتا رہا تو پتہ نہیں میرا کیا بنےگا؟یہ سارا افسوس ناک واقعہ سن کر میں بہت رویا ہوں‌ ۔

مجھے پتہ ہے وکالت میرا پروفیشن ہے۔جذبات کم اور عقل کا زیادہ استعمال کرنا ہوتا ہے۔لیکن کیا کروں؟میں ایک انسان بھی ہوں۔ ہر کسی کی طرح جذبات رکھنے والا ایک عام انسان لیکن اس طرح کے واقعات سامنے آنے لے بعد میں‌بھی ضبط کھو بیٹھتا ہوں‌اور سوچتا ہوں‌کہ کیا اب بیٹیاں اپنے باپ سےبھی اپنی آبرو بچانے لے لیے کس کا سہارا لیں گی؟سو چیے گا ضرور

اپنا تبصرہ بھیجیں