شب وروز / جاوید ملک

ٹھیکیدار کی بیٹی اور کرنل کی بیوی

گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران دو ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ رہے ٹھیکیدار کی بیٹی کا ہیش ٹیگ تو ابھی تک ٹرینڈز میں موجود ہے تھانہ ڈیفنس لاہور میں درج مقدمہ کے مطابق معروف بلڈرز ملک ریاض کی بیٹی اپنی دو بہنوں اور مسلح گارڈز کے ہمراہ معروف اداکارہ عظمی خان کے گھر اس وقت آ دھمکیں جب وہ اپنی بہن کے ہمراہ چند منٹ قبل ہی اعتکاف سے اٹھی تھیں انہوں نے اداکارہ اور اس کی بہن کو زدوکوب کیا،توڑ پھوڑ کی کچھ طلائی زیورات نقدی اور قیمتی موبائل سمیٹے اور نو دو گیارہ ہوگئیں یہ کہانی کسی بھی فہم و فراست والے انسان کو ہضم نہیں ہوتی واقعہ کے دو دن بعد وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی تھانہ کے اندر کھڑے ماتم کرتے دکھائی دئیے کہ ان کی مؤکلہ کا مقدمہ درج نہیں ہو رہا.

واضح رہے کہ یہ وہی حسان نیازی ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل گلو بٹ اسٹائل میں لاہور کی ایک ہسپتال میں توڑ پھوڑ کرتے ساری دنیا نے دیکھا تھا اور ان سے طاقت ور شخص شاید ہی اس وقت لاہور میں کوئی ہو اس لیئے مظلومیت اور بے بسی کا یہ ڈرامہ بھی شاید زیادہ متاثر کن نہیں ہے اس واقعہ کی کچھ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن کی کہانی بھی ایف آئی آر میں درج واقعہ کی نفی کر رہی ہے ملک ریاض کی بیٹی آمنہ عثمان نے بھی سوشل میڈیا پر اپنا موقف ایک ویڈیو کی صورت میں دیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ جس گھر وہ گئی تھیں وہ بھی ان کے شوہر کی ملکیت ہے اور اداکارہ کا ان کے شوہر عثمان ملک کے ساتھ چکر چل رہا تھا اس دن انہوں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

اب ایک سوال ہے کہ کیا آمنہ ملک کا رویہ غیر فطری تھا؟ان کی جگہ کوئی بھی عورت ہوتی تو وہ کیا کرتی؟اداکارہ کا دو دن بعد انصاف کی دہائی دینے اور ایف آئی آر میں آمنہ ملک کی دو اور بہنوں اور لوٹ مار کے الزامات لگانے کے پیچھے کیا کہانی ہے؟کیا یہ سب کچھ ملک ریاض سے رقم ہتھیانے کی واردات دکھائی نہیں دیتی میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ہمیشہ ملک ریاض کے ناقد رہے ہیں لیکن ایسے واقعات دیکھ کر مجھے ان پر ترس بھی آتا ہے ایک شخص جس نے دن رات محنت کر کے ایک مقام حاصل کیا ہے وہ ایسی گِدھوں کے گھیرے میں پھنسا ہوا ہے جو نت نئے طریقوں سے اسے نوچ کھانا چاہتی ہیں کیا اس کا قصور یہ ہے کہ اس نے راولپنڈی کی کھائیوں کو ایک خوبصورت شہر میں بدل دیا اور لوگوں کو رہنے کیلئے ایک معیاری رہائشی اسکیم دی اس نے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا عملی مظاہرہ کر دکھایا اب ہم سب مل کر اس کی تکہ بوٹی کر دینا چاہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کرنل کی بیوی کے بہت چرچے رہے جس نے ہزارہ موٹر وے پر پولیس اہلکاروں سے بدزبانی کی اور دھونس کے ذریعے رکاوٹیں ہٹا دیں اس واقعہ کا بھی مقدمہ درج ہوچکا ہے میں معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف ہمیشہ سینہ سپر رہا ہوں اونچ نیچ غریب اور بااثر کیلئے قانون کا ایک جیسا رویہ ابھی خواب ہے اس کیلئے ہمیں ترقی آگاہی اور جدوجہد کی ابھی بہت ساری سیڑھیاں چڑھنا باقی ہیں لیکن اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر جس طرح افواج پاکستان پر طنز کے نشتر برسائے گئے وہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے .

ایسی منظر کشی کی گئی جیسے اس خاتون کو جنرل باجوہ یا جنرل فیض نے خاص اس مقصد کیلئے بھیجا تھا کہ چند پولیس اہلکاروں پر اپنی طاقت کی دھاک بٹھانی ہے اس سے ہر پاکستانی کا دل دکھا ہے کسی بھی فرد واحد کی غلطی کو بنیاد بنا کر کسی بھی قومی ادارے کو نشانہ بنانا شرمناک ہے اگر ہم اپنے حساس اداروں کو، غاصب سیاستدانوں کو،چور ڈاکو لٹیرے بیوروکریسی کو، نکمی اور فیتہ مافیا پولیس کو، کرپٹ وکلاء کو، غنڈے عدالتوں کو، نا انصافی کا مرکز اور میڈیا کو بکاؤ قرار دیں گے تو در اصل انجانے میں ہم دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر ایک ناکام ریاست کی تصویر کشی کر رہے ہونگے چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے ہمیں اداروں پر انگلی نہیں اٹھانی چاہیے اداروں کا تقدس اور مضبوطی ہی ملکی وقار اور سالمیت کی ضمانت ہے۔

میں نے ان دو واقعات کو اکھٹے اس لیئے بیان کیا کہ ہم جذبات میں اکثر پس پردہ حقائق کو نظر انداز کر دیتے ہیں جھوٹ مظلومیت کی چادر اوڑھ کر اپنے مقاصد حاصل کرلیتا ہے جبکہ اصل سچ ہماری بھیڑ چال کی گرد میں کہیں کھو جاتا ہے ہمیں بہ حیثیت قوم اپنے اجتماعی رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اگر ہم خود ہی جج بن کر فیصلے صادر کرنے لگیں گے تو اس کے مضر اثرات سے پورا معاشرہ آلودہ ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں