Russian president

روس میں 20 ہزار ٹن تیل بہہ گیا، صدر پیوٹن نے ہنگامی حالت میں کیا اعلان کر دیا

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک ) روس میں 20 ہزار ٹن تیل بہہ گیا، صدر پیوٹن نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ قطب شمالی کے ایک دریا میں بہنے والا ڈیزل حادثے کی جگہ سے 12 کلومیٹر دور تک پھیل گیا، حکام کو حادثے کا علم دو دن بعد ہوا۔ تفصیلات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے سائبیرین امبرنیا دریا میں ڈیزل کے بڑے پیمانے پر اخراج کے بعد بڑے دھات ساز کار خانے دیوہیکل نورلسک نِکل کے ذیلی ادارہ کو تنقید کا نشانہ بناتے.

ہوئے خطے میں ہنگامی صورت حال کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو آرکٹک سرکل کے اوپر واقع نورلسک شہر کے قریب بجلی کے پلانٹ میں 20 ہزار ٹن ڈیزل سے بھرے ذخیرے کا ٹینک رِس کر قریبی دریا میں جا گرا۔ ماحولیاتی حدت میں اضافہ کی وجہ سے ٹینک کے ستون زمین میں دھنس گئے جس سے ٹینک کے زیریں حصے سے ڈیزل کا اخراج شروع ہو گیا تھا۔

ٹیلی ویژن پر مبنی ویڈیو کانفرنس کے دوران روسی صدر پیوٹن نے حکام کے بقول اس واقعے کی اطلاع دینے میں ناکام ہونے کے بعد، بجلی گھر چلانے والے نورلسک نکل کے ماتحت ادارہ این ٹی ای کے کے سربراہ کو برطرف کر دیا۔ صدر پیوٹن نے این ٹی ای کے سربراہ سرگئی لپین سے واقعہ کا علم دو روز بعد سرکاری اداروں کو دینے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تاہم ننورلسک نکل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ این ٹی ای کے نے بروقت اور مناسب راستے میں پیش آنے والی اطلاع دی ہے۔

جبکہ کرسنایارسک خطے کے علاقائی گورنر الیگزینڈر اوس نے پیوٹن کو بتایا کہ سوشل میڈیا میں خطرناک معلومات سامنے آنے کے بعد انہیں اتوار کے روز صرف حقیقی صورت حال کا علم ہوا۔ روسی صدر نے کہا کہ ندی کی صفائی کی کوششوں کے لیے مزید قومی وسائل طلب کرنے کے لیے ہنگامی صورت حال کا نفاذ قومی مفاد میں ہے۔

روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے اعلان کیا کہ اس نے ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر تین مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور بجلی گھر کے ایک ملازم کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ روسی وزیر ماحولیات دیمتری کوبلکن نے کہا کہ صرف فوج کی شمولیت سے ہی دریا کی ہنگامی صفائی ہو سکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں