باغی شخص /سید ذوالقرنین گردیزی

انسانی عدم برداشت کے نتائج۔۔! کیا کھویا کیا پایا؟

کسی بھی معاشرے کی بنیاد اخلاقیات، رواداری ، محبت و برداشت پر قائم رہتی ہے کسی بھی معاشرے میں جب یہ سب چیزیں ختم ہو جاتی ہیں تو اسے تباہی کے انتہائی قریب سمجھا جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال سے ہمارا معاشرہ موجودہ وقت میں گزر رہا ہے جس کے باعث آئے روز پرتشدد واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
اگر آپ یوں کہیں کے ہمارے معاشرے میں برداشت کا عنصر کہیں ناپید ہو گیا ہے تو غلط نہ ہو گا.

جس کی مثال آئے روز چھوٹے چھوٹے واقعات تلخی سے تشدد اور کئی تو انسانی جان لینے پر اختتام پذیر ہوتے ہیں جس کی بہت سی مثالیں آپ کو سوشل میڈیا پر بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے ہی کچھ واقعات گزشتہ کئی روز سے آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بھی ہو رہے ہیں۔ کچھ سرکاری عہدوں کو متنازع بنایا گیا اور اس کے ردعمل میں صحافت ، حکومت اور انتظامیہ کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوا۔

کسی بھی انسان کے ساتھ کسی بھی آفیسر کی جانب سے ذیادتی ہونا ہمارے ملک میں کوئی نئی بات نہ تھی اور متاثرہ شخص یا اشخاص قانونی چارہ جوئی کا مکمل اختیار بھی رکھتے ہیں، مگر اس سب کے بعد سوشل میڈیا پر ذاتیات پر تنقید و تقلید کا سلسلہ دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی۔مندرجہ بالا واقع ہمارے سماجی رویوں میں عدم برداشت ، بدتمیزی و تشدد کی روش کا آئینہ ہیں۔ بلا شبہ اخلاقی انحطاط کا یہ عالم تشویشناک ہے اور معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے مہذب لوگ نہ ایسے واقعات میں نہ صرف صحیح و غلط کی تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور غلط کو نہ صرف غلط کہتے ہیں بلکہ اس کی بھرپور مذمت بھی کرتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کے جب وہ خود کسی ایسی کیفیت سے گزرتے ہیں و وہ بھی برداشت کا مظاہرہ نہیں کر پاتے اور کسی بھی طرح مصلحت پسندی کا شکار ہو کر کسی پر بھی تنقید و تقلید کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یہ معاشرے کا دوہرہ معیار آخر کیوں ؟ گزشتہ چند واقعات میں جن کے لب ذاتی طور نشاندھی کے باوجود خاموش رہے وہیں کچھ ہی دنوں کے بعد اسی نوعیت کے ایک واقع میں سماج کے ٹھیکیدار بن کر ایک دوسرے واقع میں فریق کی حیثیت سے سولہ درخواستیں لے کر متعلقہ محکموں تک جا پہنچنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ سوالات ، جوابات کے متقاضی ہیں۔

کیا تنقید اور تزلیل میں فرق نہیں ہوتا ؟ معزرت کے ساتھ ان واقعات میں ذیادتی ہوئی بھی ہو تو بھی سوشل میڈیا پر نظر آنے والی کمپین مکمل طور پر جانبدار اور ایک انتظامی شخص کے خلاف نظر آئی۔دوسری جانب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے ہمارے معاشرے میں برداشت ختم ہونے کی وجوہات کیا ہیں ؟ اس کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے تو سمجھ آتی ہے کے ہماری اکثریتی عوام کو گوناگوں مسائل کا سامنا ہے.

ان کی زیست مسائل و مشکلات سے بھرپور ہے جس میں کمی کی کوئی سبیل دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ دن با دن ان میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان مصائب کا سامنا کرتے ہوئے ہماری اکثریتی عوام سخت اذیت میں مبتلا دیکھائی دیتی ہے۔ ریاستی باشندوں کے ذہن پر اس صورتحال نے انتہائی منفی اثرات مرتب کر رکھے ہیں، تنگ مزاجی ان کا خاصہ بن چکی ہے۔

عوام اجتماعی طور پر نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہو چکی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں اخلاقی اقدار کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ بڑوں کا احترام ، چھوٹوں پر شفقت دور دور تک دکھائی نہیں دیتی، اور ہر انسان اپنے اندر جھانکنے سے ذیادہ دوسرے کی اصلاح پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ ایسے میں عدم برداشت کی روش انتہائی تیزی سے خطرناک حد تک فروغ پا رہی ہے .

جبکہ بعض حالات میں عوام معمولی سی بات پر تشدد پر بھی اتر آتی ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس میں حکومت کی جانب سے دور دور تک کوئی کوشش ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آتی۔ بحیثیت انسان ہم لوگ جذباتی ہیں یہ بات تو واضح ہے جزبات ہماری رگ رگ میں سما چکے ہیں جو ہر وقت باہر آنے کو کسی نا کسی موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں، جیسے پٹاس کو بڑھکنے کے لئے معمولی حرارت کی ضرورت درکار ہوتی ہے .

ٹھیک ویسا ہی حال ہمارا ہے۔ زرا سی بات پر ہتھیار سنبھال لیتے ہیں جو خودغرضی کے سوا کچھ نہیں۔ صرف اپنے غرض سے سروکار رکھنا اور کسی دوسرے کو خاطر میں نہ لانا ، اگر کبھی اپنی ذات کی نفی دیکھ لیں تو آگ بگولہ ہو جانا معاشرے میں عدم توازن کی وجہ بن جاتا ہے۔ جزبات کی انتہا اور عدم برداشت کی وجہ بننے کا الزام بھی معاشرٹکو دیا جاتا ہ.

کیونکہ انسان جس جگہ زندگی گزارتا ہے اردگرد معاشرے کا اس کی ذات پر اثر ہوتا ہے جس کا گہرا تعلق نفسیات سے ہوتا ہے۔ جس قسم کا ماحول انسان کو اپنے اردگرد دیکھنے کو ملے گا اس کے اثرات انسانغذہن پر مرتب ہونگے مگر جذبات کی شدت میں انسان زات کی نفی کے ڈر سے یہ بات بھول جاتا ہے کے خود انسان کی زات کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

عدم برداشت کی ایک اور وجہ جو دیکھنے میں آئی ہے وہ انسانی توقعات ہیں۔ ادھورپن میں انسان تعلقات قائم کرتا ہے ۔ اب جو باہم خوبی جذباتیت اور توقعات میں دیکھنے میں آئی وہ یہی ان کا الٹ استعمال ہے ۔ انسان تعلقات تو قائم کرتا ہے ۔ لیکن اس کیلئے اسے توقعات کی بیساکھی استعمال کرنا پڑتی ہے اور ایک مرتبہ پھر وہ اس کا صرف اپنی ذات کی حد تک استعمال کرتا ہے ۔

شاید اک سبب بزدلی ہے۔ انسان ہو یا کوئی اور شے عدم برداشت کی صورت میں بگاڑ لازم ہے ۔ اور جب کوئی شے بگاڑ کا شکار ہوتی ہے تو اپنے اردگرد خلا میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے ۔ تبھی معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور یہ بات معاشرے کے خاتمے کا باعث بنتی ہے ۔ان سب میں یقیناً انسان کی پرورش کا بھی اثر ہوتا ہے کیونکہ انسان پیدائش سے لے کر بالغ ہونے تک اپنے والدین پر انحصار کرتا ہے تب تک انسان کو کسی بھی نفع یا نقصان کی کوئی فکر نہیں ہوتی.

اسے بس فیصلوں کے لئے ایک سہارے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مگر اب اس سب کا حل کیا ہے ؟ کیسے اس عدم برداشت کی صورتحال سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے؟ سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کے معاشرے کی بنیادی اکائی فرد ہے جس نے معاشرے کی تشکیل کرنی ہے، معاشرے میں موجود ہر شخص کا عمل اس معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے جو بذات خود اس ی ترقی یا بربادی کا سبب بنتا ہے۔

اکنامکس کا ایک اصول ہے کے بہترین نتائج اس صورت میں حاصل ہوسکتے ہیں جب ہر ایک فرد اپنے فائدے کے ساتھ ساتھ دوسرے افراد کے نفع کو بھی سامنے رکھ کر فیصلہ کرے ۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کوٹ کوٹ کر بھری ہے تو اس کا کیا حل ہونا چاہیئے ؟ اسکے لئے فرد کو بذات خود بہتر ہونا پڑے گا۔ لیکن ہم اس کے حل کی تلاش میں بھی اپنی عقل کو محدود کر لیتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں تمام مسائل حل طلب ہوتے ہیں اس وجہ سے آپ کہہ سکتے ہیں کے عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے ناسور پر قابو پانا بھی ممکن ہے، مگر اس اصلاح کا تعلق کسی ایک سے نہیں بلکہ اجتماعی کوشش سے ہے، جس کے نتیجے میں ہمارا خوبصورت ماضی لوٹ سکتا ہے جس میں ہمارا معاشرہ اعلیٰ اخلاقی اقدار ، محبت و رواداری ، بھائی چارہ اور قوت برداشت سے بھرپور زندگی بسر کر رہا تھا۔

تب لوگ ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے تھے ، لڑائی جھگڑے کا تصور بھی نہ تھا ، چوری ، ڈکیتی ، زناح ، قتل سے ہمارا معاشرہ پاک تھا، کوئی فرقہ واریت نہ تھی۔ وہ سنہری دور واپس لوٹ سکتا ہے اگر تمام مکاتب فکر کے افراد ٹھنڈے اور صاف دل سے غور و فکر کریں تو کچھ بھی نا ممکن نہیں، جس کے لئے سب سے پہلے اس دوہرے معیار کو ترک کرنا ہو گا، کیونکہ جب دوسرا عدم برداشت کا مظاہرہ کرے اور تشدد پر اُتر آئے تو ہم اس کو لعن طعن کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور جب خود ایسا کر گزرتے ہیں تو اس کے لئے طرح طرح کے جواز گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کے اگر ہم اپنے اندر قوت برداشت پیدا کر لیں تو صورتحال کافی بہتر ہو سکتی ہے، صرف دوسروں کی تلخیوں کو برداشت کرنے سے ہی معاشرے کا امن و چین لوٹ سکتا ہے، انسان ہونے کے ناطے کسی پر بھی تشدد کرنا انتہائی نا مناسب اور قابل مزمت ہے، لہذا معاشرے میں آئندہ نسلوں کی بہتری اسی میں ہے کے عدم برداشت اور تشدد کے رویوں سے جان چھڑائی جائے، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور بھائی چارہ کو فروغ دیا جائے، ایک دوسرے کا احترام کیا جائے۔

کسی بھی فرد کا ذاتی فعل اس کا اور اس کے خدا کا معاملہ ہے اور کوئی بھی انتظامی آفیسر ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر تو ہو سکتا ہے مگر جو روایت چل پڑی ہے وہ انتہائی غلط ہے۔ مجھے اس سے کوئی انکاری نہیں کے ذیادتی نہیں ہوئی مگر جو انصاف کی آڑ میں طوفان بدتمیزی کا طریقہ کار اپنایا گیا وہ ایک پڑھا لکھا معاشرہ کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ صرف برداشت پیدا کرنے سے ہی معاشرے کا امن و چین لوٹ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں