نقطہ نظر/ذیشان کاشر

حقیقی تبدیلی

ایسا کوئی بھی فرمان جس کا تعلق قرآن یا حدیث سے ہو وہ کائیناتی سچائی ہوتا ہے. کائنات کی ابتداء و انتہا انسان کا اس زمین میں عارضی بنیادوں پرآ کر واپس اصل مقام کی طرف جانا، کاسمس سائینسز، سپیس سائینسز، پیرا سائیکالوجی جدید دور اور اس کی ٹیکنالوجی غرضیکہ انسانی عقل و تجسس جس کا آغاز حضرت آدم سے ہوتا ہے. اس سب intellectual Curosity of human mind کا نچوڑ نکالا جائے تو تمام تر کائناتی سچائیوں کے حوالے قرآن میں موجود ہیں.

قرآن کا ایک ایک لفظ معانی و مفاہیم کا ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی میں اترنے والے ساری زیست کے لئے مسافر بن جاتے ہیں. قرآن میں بیان کردہ سارے قرآنی، معاشرتی، سیاسی، سماجی، انسانی، تاریخی، تہذیبی، نفسیاتی اور قانونی بیان کردہ اصول در اصل ہرعلم کا مآخذ ہیں.

اس قدر عظیم کتاب جس کا حرف حرف صداقت اور تمام زمانوں کے لئے جدید بھی ہو اس کی صداقت پر شک کا شائبہ بھی رکھنا انسانی پست عقلی کا واضع ثبوت ہی ہو سکتا ہے وگرنہ اس کتاب پر یقین رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں.قرآن کا یہ حصہ کائنات اور انسان کی مادی تشریح ہے. جسے نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے جو انکاری ہیں.

بحثیت مسلمان اس سے آگے کا سفر ہمارے لئے واضع موجود ہے… اقبال نے جس کی طرف نشاندہی بھی کی…
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلمان کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے

میں اکثر سوچتا ہوں کہ خدایا ہم کس قدر جہالت میں ڈوبے ہیں کہ قرآن اور نبی کریم(ص) کے ہوتے ہوئے بھی ہم نہیں ہیں.ہمارے گھر، خاندان، معاشرت، سیاست، ثقافت، تہذیب، معشیت سب احکام قرآنیہ سے مختلف کیوں ہے؟

ہم قرآن کے ہوتے ہوئے بھی آئین بنانے کی الجھنوں میں غرق ہیں. سیاسی و معاشی نظاموں میں کسے نافذ کریں؟؟ ان معاملات میں پھنسے ہیں.اکثر مباحثے ہوتے ہیں کہ ہماری ترقی نہ کرنے کی بنیادی وجہ کیا ہے.؟؟؟؟مگر سب یہ بھول جاتے ہیں جو اقبال کو یاد رہا.
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

ہمارا روشن خیال طبقہ شاید ناسمجھی اور عقل و شعور کی نا پختگی کا شکار ہو کر یہ سمجھ بیٹھا کہ اسلام ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ ہے.لیکن اسلام تو قدرت کا وہ عطیہ ہے جو ابتداء و انتہا کا سارا نقشہ ظاہر کرتا ہے. مادی و روحانی ترقی کے سارے راز اسی قرآن میں موجود ہیں.

قارئین وقت ہے وقت بدلنے کا، خود کو بدلنے کا، قوم کو بدلنے کا، عظمت رفتہ کہ بحالی کا، کائنات کی تسخیر کا. اس سب کا حصول تبھی ممکن ہے جب ہم قرآن کو ہر معاملے میں ترجیح اول دیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں