نقطہ نظر /صدف کامران

روداد پولیس والے کی

آج پولیس کو تعاون درکار ہے عوام کا اور حوصلوں کی تعمیل منتظر ہے:،،،،،
”روداد پولیس والے کی“
کیوں نالہ ہو مجھ سے
کیوں شکوہ ہمدم
کیوں خفا رہتے ہو مجھ سے
کیوں ٹھہراتے ہو مورودِالزام مجھے
دیکھ لو

میں نے بھی توگنوائیں ہیں‌ جانیں اپنی
ہر کونے پر ہر نکرپر کھڑا ہوں میں
کھلا آسمان تپتی ہوئی دھوپ
طوفان, بارش , گرم ہوا
میرے ارادے پست نہیں کرتے
محافظ ہوں میں!

یہ قسم کھائی تھی ہاں!
گھر سے نکلتے وقت
میرے ہمسفر حوصلہ شکنی نہیں کرتے کیوں کہ
میرے ہموطن منتظر ہیں کہ
امید ہوں میں انکی
حوصلہ ہوں میں انکا
اور میرا رب پکارتا ہے مجھے کے میری مخلوق منتظر ہے تیری

کہ یہ وقت قوم کی بقا کا ہے
رہو گھروں میں تم بلا خوف و خطر کے رات بھر یہاں کھڑا ہوں میں
جب نگاہ بھرو میری طرف تم
تو صرف ایک بار!

وہ رات یاد کرلینا جب تمہاری بےسکونی کی خاطر جاگا تھا رات بھر باپ تمہارا دیکھو یہ اضطراب کا عالم کہ
تاریک رات کا خوف نہیں مجھے
دن میرے لئے بھی سورج کو لے آتا ہےسوا نیزےپر
مگر! جب آہ نکلے لبوں سےتمہارے تو بس
تمہاری ٹھنڈی نظروں کا منتظر رہوں گا میں

یقیں کرو تمہاری نظریں میری روح کو سیراب کرتی ہیں
سختیاں جھیلتے جھیلتے باپ کا برہم ہونا,اولاد کو امر کرتا ہے جیسے
حالات کی تپش نے مجھے بہت سخت کردیا ہو جیسے
میں تو قریب ہوں تمھارے مگر! رویوں نے ہمیں بہت دور کردیا ہو جیسے
میں ہر دن تمہارے تانے سہتا ہوں

کڑوی باتیں سن کر ہنستا ہوں
یقین کرو دل ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے
جب میں اپنے لئے گالیاں سنتا ہوں
اور پھر ہر صبح شفقت بھری مسکراہٹ آئینے کو دیتا ہوں
آج تم کیا سوچ کر میرا ساتھ نہیں دیتے ؟؟

جو تم ماں کی آغوش میں سکوں کا سانس لیتے ہو
میری ماں دروازے پر نظریں بچھاۓ منتظر ہے ہمہ تن،
دیکھو !
آؤ آج ہمیں تمہاری اور تمہیں ہماری ضرورت ہے
آج ہمیں حوصلوں کی طاقت کی ضرورت ہے
اور ان حوصلوں کی تعمیل منتظر ہے تمہاری

تاریخ گواہ ہے .
شمشیریں ٹوٹ کر گر جاتی ہیں،اگر قومیں یکجا ہو جائیں .آج تمہاری جنگ پولیس کے ساتھ نہیں .بلکہ یہ وقت اس وباء کے خلاف پولیس کے ساتھ مقابلہ کرنے کا ہے.آج ہمیں ایک دوسرے کا تعاون درکار ہے.کچھ نہیں پتا موت کس کا دروازہ کھٹکھٹائے

یہ تاریخ تو کل رقم ہونی ہی ہے
امید کا چراغ جلائے رکھنا ہے.
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے

اپنا تبصرہ بھیجیں