درزنداں/ امجد شریف

اب کوئی منورحسن پیدا نہیں ہوگا

یہ2007 کی بات ہے۔جماعت اسلامی ضلع پونچھ کی دوروزہ تربیت گاہ تھی۔نمازِمغرب کے بعد سید منور حسن کاپروگرام طےتھا۔ برادرسردار حلیم خان نے مجھےکال کی کہ آپ انھیں عشاء کی نماز کے بعد لے کر آئیں، ابھی ایک پروگرام چل رہا ہے۔ اس پر سید صاحب شدید ناراض ہوئے، کہاکہ میرا پروگرام مغرب کے بعد طےتھا۔ ہم لوگ ہی اگر وقت کی پابندی کا خیال نہیں رکھ پاتےتوایسی تربیت گاہوں کےذریعے دوسروں کی تربیت سازی کیسے ممکن ہے۔برحال ہم نے مغرب کی نماز ہاوسنگ اسیکم کی مسجد میں اداکی، وہ دیر تک اذکار میں مشغول رہے۔ میں نے قریب آتے ہوئے، ہمت کر کے کہا اب چلیں،بولیں عشاء کی نماز ادا کرکے ہی چلے گے۔

میں نے مزید وضاحت کی کہ آپ کا پروگرام عشاء کے بعد ہے۔ہم گھرچل کرکھاناکھا لیتے ہیں۔نماز آگےجاکرپڑھ لیں گے۔ بولے!امجد جی آگے تو حساب دینا ہے۔ نماز تو یہاں ہی ادا ہو گی۔رب سے بندے کا جو انفرادی تعلق ہوتا ہے۔ وہ کیسا ہونا چاہیے، اگر کوئی مجھ سے پوچھے،تو میں اسے سید منور حسن کی زندگی کا حوالہ دوں گا۔ آج دل بہت دکھی ہے۔ایک ایسی ہستی کو مٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔جو میری پسندیدہ شخصیات میں سے تھی۔اگرچہ جماعت اسلامی والوں کے پاس شخصیات کی کمی نہیں، لیکن قیادت کا وہ وصف جس کا بیان سیدابوعلٰیؒ نے کیا تھا۔ اس کا اصل حق سید منور حسن ہی نے ادا کیا ہے۔مجھے ان کی میزبانی کی سعادت نصیب رہی ہے۔ فقرو درویشی کی اس ہستی کا ذکر کرتے آج مجھےلفظ کم پڑھ رہے ہیں۔

اپنے نظریات سےکمٹمٹ ایسی کہ بس اسی کا ہوکر رہنا یہ استقامت بھی ان ہی کا خاصا تھی۔جب کال مارکس و لینن کے قبیلے میں تھے۔تب بھی وہ اگلی صفوں میں تھے۔جب انھوں نے اپنا راستہ بدلا تو ان کی اس فکری تبدیلی نےایسےاثرات مرتب کیےکہ ان کے نظریاتی مخالفین بھی ان کی استقامت اور حق گوئی کے مداح ٹھہرے،جماعت اسلامی کی امارت ملی تواپنی امارت کے اول دن ہی سے اپنے ہر جلسے اور پرس کانفرس میں اس بات کا اظہار کیا،جس کا اعتراف آج فوجی قیادت خود کرتی ہے کہ “اب ہم اپنےملک میں دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے”۔ٱس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی سے وہ اپنےہر جلسے میں براه راست مخاطب ہوکر حساب طلب کرتے تھے۔وہ کھل کر فوج کی پالیسیوں کو حدف تنقید بناتے تھے۔

وہ سیاست میں وردی والوں کی مداخلت پرکھل کر بولتے تھے۔جس کی جرأت ٱن دنوں کوئی دوسری سیاسی قیادت نہ کر سکتی تھی۔وہ اپنی ہر تقریر میں بلوچوں کا ذکر کرتے تھے۔ وہ ریاست سے ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ ان کے ہر بیان میں ہوتا تھا۔ان سب بیانات پر فوج کی طرف سے معافی مانگنے کا مطالبہ آیا تو سچے، کھرے اور دوٹوک موقف رکھنے والی سید نے انکار ہی نہیں کیا بلکہ وردی والوں کے جرائم کی فہرست پیش کر دی۔ یہ بات بہت ساروں کو ناگوار گزری، یہ بھی درست ہے۔ ان کےقریبی رفقاء ان سے دور ہونے لگے، نشریاتی اداروں نے اپنا رخ موڑ لیا،ان کی بات کو دو اور دو چار کی طرح بیان کرنے کا ٱس وقت کسی میں یارا نہیں تھا۔مگر سید اس وقت بھی استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے تھے۔

ایک درویش طبع اور قلندرانہ مزاج کی حامل شخصیت کے لیے قیادت کی ذمہ داری کافی مشکل کام ہوتا ہے۔مگرانہوں نےنہایت جانفشانی سے اس ذمہ داری کو نبھایا،جتنا عرصہ بھی وہ جماعت کے امیر رہے۔ انھوں نے منصورہ کے مہمان خانے کے ایک کمرے میں گزارا کیا۔ اس کمرے کو رسی سے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔جس پر چادر ڈال کر پردے کا اہتمام کرلیا گیا۔ کراچی سے ان کی بیگم آتیں تو اسی پردے کے پیچھے رہائش اختیار کرتیں اور پردے کے دوسری طرف اگر کوئی قریبی ملنے والا آجاتا تو اسے بٹھایا جاتا۔چند مفاد پرست عناصر جو ہر دور میں قیادت کو اپنے ذاتی اور کاروباری مقاصد کےلیےبھرپور استعمال کر رہتے ہیں۔ وہ سید صاحب کو متاثر نہ کر سکے،انھوں نے ایسے تمام افراد کے خلاف سخت کاروائی کی، شاہد یہی وہ وجوہات تھی۔جن کے باعث وہ دوسری بار امیر منتخب نہ ہو سکے تھے۔

جماعت اسلامی میں قیادت کی منتقلی ہمیشہ ارکان کے فیصلے ہی سے ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں بھی کافی پہلوزیرِ بحث لائے جا سکتے ہیں۔ مگر اس وقت وی میرا موضوع نہیں ہے۔ بس سید صاحب کے حوالے سے یہاں ایک بات ضروری ہے۔ وہ یہ کہ جماعت اسلامی کی تاریخ میں سابق امیر کی طرف سے منتخب امیرکو کسی نہ کسی اختلاف کا سامنا ضرور کرنا پڑا، یہ اختلاف مولانا مودودی اور میاں طفیل محمد کے درمیان بھی پیدا ہوا، یہ اختلاف قاضی حسین احمد اور میاں طفیل محمد کے درمیان بھی کسی حد تک رہا ہے۔ مگر زبان اور مزاج دونوں کی سختی والے سیدذادے کی طرف سے کسی اختلافی نوٹ کی بازگشت ہمیں سننے کو نہیں ملی ہے۔

120 گز کے گھر کا واحد اثاثہ رکھنے والے سید منور حسن نے جماعت اسلامی کی نظریاتی اساس پر کبھی کوئی سیاسی سمجھوتہ نہیں کیا،وہ صاف اور سچی بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتےتھے۔انھوں نے جماعت اسلامی کے سیاسی ایمیج کو بحال کرنے میں جو کوشش اور کردار ادا کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔مگر اب یہ کام ادھورا ہی رہا گا۔کیونکہ اب کوئی منور حسن پیدا نہیں ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں